جرمنی کی عدالت نے نفرت انگیز مواد کے خلاف کارروائی میں غیر شفافیت پر فیس بک پر 20 لاکھ یورو جرمانہ عائد کردیا۔
فرانسیسی خبررساں ادارے ’ اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق یکم جنوری 2018 سے نافذ کیے گئے قانون کے تحت ٹوئٹر اور فیس بک جیسی کمپنیوں کو جرمن قانون کی خلاف ورزی کرنے والی پوسٹس کو ہٹانے کے لیے 24 گھنٹے کی مہلت حاصل ہے۔
اس کے علاوہ ایسا ناپسندیدہ مواد جس کی درجہ بندی کرنا مشکل ہو اسے رپورٹ ہونے کے 7 دن کے اندر ڈیلیٹ کرنا لازمی ہے۔
قانون کے تحت ان شرائط پر پورا نہ اترنے والی سوشل میڈیا کمپنیوں کو 5 کروڑ یورو ( 6 کروڑ ڈالر ) تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی آن لائن کمپنیوں کے لیے ہر 6 ماہ بعد نفرت انگیز مواد کے خلاف کیے جانے والے اقدامات سے متعلق رپورٹ شائع کرنا ضروری ہے۔
جرمنی کی عدالت سے جاری کیے گئے فیصلے میں فیس بک پر 22 لاکھ 60 ہزار ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا ہے تاہم فیس بک اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتی ہے۔
فیس بک پر یہ جرمانہ جنوری تا جون 2018 کے دوران صارفین کی جانب سے کی جانے والی شکایت سے متعلق جواب دینے میں ناکامی پر عائد کیا گیا۔
عدالت نے بیان میں کہا کہ ’رپورٹ میں غیر قانونی مواد پر صارفین کی شکایات کا صرف ایک حصہ شامل ہے‘۔
اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا کہ جرمن قانون کے تحت ناپسندیدہ مواد سے متعلق شکایات درج کروانے کے لیے فیس بک اپنے باقاعدہ طریقہ کار اور ایک چینل کے ذریعے کی جاسکتی ہیں جسے عدالت نے ’ انتہائی خفیہ‘ قرار دیا۔












