امریکہ نے بگرام ایئر بیس بغیر بتائے، رات کی تاریکی میں خالی کیا: افغان فوجی حکام کا دعویٰ

0
675

افغان فوج کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے بگرام ایئربیس رات کی تاریکی میں خالی کیا اور اس ضمن میں بیس کے مقامی کمانڈر تک کو آگاہ نہیں کیا گیا جنہیں دو گھنٹے بعد امریکی اہلکاروں کے جانے کا علم ہوا۔

​خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق افغان جنگ میں لگ بھگ 20 سال تک امریکہ کے زیرِ استعمال رہنے والی بگرام ایئربیس کے نئے کمانڈر جنرل میر اسد اللہ کوہستانی نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے روانگی کے وقت فوجی اڈے کی بجلی بھی بند کر دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے بیس پر 35 لاکھ اشیا چھوڑی ہیں جن میں پانی کی ہزاروں بوتلیں، مشروبات اور تیار خوارک کے پیکٹس شامل ہیں۔

امریکہ نے جمعے کو بگرام ایئربیس خالی کر دیا تھا اور اس سلسلے میں فوجیوں کی آخری کھیپ وہاں سے منتقل ہو گئی تھی۔ بعدازاں پیر کو افغان فوج نے اس اڈے کے وسیع حصے کا معائنہ کیا تھا۔

بیس کے نئے افغان کمانڈر کے بقول، “ہم نے کچھ افواہیں سنی تھیں کہ امریکیوں نے بگرام چھوڑ دیا ہے اور جب جمعے کی صبح سات بجے وہاں پہنچے تو اس بات کی تصدیق ہوئی کہ بیس کو پہلے ہی خالی کیا جا چکا تھا۔”

افغان فوجی اہلکاروں کی جانب سے امریکہ کے بگرام ایئربیس چھوڑنے کے طریقۂ کار پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
ایک افغان اہلکار نعمت اللہ نے کہا کہ جس انداز میں فوجی اڈے کو خالی کیا گیا ہے امریکہ نے 20 سال کے دوران بنائی جانے والی اپنی ساکھ ایک ہی رات میں کھو دی ہے۔ ان کے بقول امریکہ نے افغان فوجیوں کو بتائے بغیر بیس خالی کیا اور ان افغان اہلکاروں کو بھی اس کا علم نہیں تھا جو فوجی اڈے کے باہر سیکیورٹی پر مامور تھے۔

ایک اور اہلکار رؤف کا کہنا تھا کہ جمعے کو امریکیوں کے جانے کے 20 منٹ میں بجلی بند ہو گئی تھی اور اڈہ تاریکی میں ڈوب گیا تھا جس کے بعد وہاں مقامی افراد نے لوٹ مار شروع کر دی تھی۔

البتہ امریکی فوج کے ترجمان کرنل سونی لیگیٹ نے متعدد افغان فوجیوں کی مخصوص شکایت پر توجہ نہیں دی۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے انخلا سے متعلق افغانستان کے رہنماؤں سے رابطہ کیا تھا اور اس سلسلے میں انہوں نے گزشتہ ہفتے کے بیان کا حوالہ بھی دیا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ جو بائیڈن کی جانب سے افغانستان سے فوجی انخلا کے اعلان کے کچھ عرصے بعد سے ہی ہوائی اڈے سے منتقلی کا عمل شروع کر دیا تھا۔

امریکہ نے گزشتہ جمعے اعلان کیا تھا کہ افغانستان سے فوجی انخلا کے حتمی مرحلے میں اس نے افغانستان میں اپنے سب سے بڑے اڈے کو خالی کر دیا ہے۔

اسد اللہ کوہستانی نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ میں طالبان کی ایک بڑی کامیابی کے باوجود افغان نیشنل سیکیورٹی اینڈ ڈیفنس فورس ایک بڑے اڈے کو سنبھال سکتی ہے۔ بگرام کے اس اڈے میں لگ بھگ پانچ ہزار قیدی بھی ہیں جس میں زیادہ تر مبینہ طور پر طالبان ہیں۔

امریکہ نے بگرام بیس پر کیا چھوڑا ہے؟
‘اے پی’ کی رپورٹ کے مطابق بگرام ایئر بیس کا سائز ایک چھوٹے شہر جتنا ہے جہاں بڑی سڑکوں کے ساتھ بیرکس اور کشادہ عمارتیں موجود ہیں۔

اڈے پر دو رن وے ہیں اور لڑاکا طیاروں کے لیے ایک سو سے زیادہ پارکنگ کے مقامات ہیں جہاں بم دھماکوں سے محفوظ رکھنے والی دیواریں بھی بنی ہوئی ہیں۔

ان دونوں رن ویز میں سے ایک 12 ہزار فٹ لمبا ہے اور اسے 2006 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ مسافروں کا لاؤنج، پچاس بستروں پر مشتمل اسپتال اور ہینگر کے سائز کے بڑے ٹینٹس وغیرہ بھی موجود ہیں۔

امریکہ کی جانب سے بگرام ایئربیس پر چھوڑے گئے بڑے سامان میں ہزاروں سویلین گاڑیاں بھی ہیں جس میں کئی بغیر چاپی کے اسٹارٹ ہو جاتی ہیں۔ اسی کے علاوہ سیکڑوں مسلح گاڑیاں بھی ہیں۔

طالبان کی پیش قدمی، تاجکستان کی فوج متحرک
شمالی افغانستان میں طالبان ایک کے بعد ایک ضلع کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں اور گزشتہ دو روز کے دوران سیکڑوں افغان فوجی لڑائی کے دوران سرحد پار تاجکستان فرار ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق طالبان کی پیش قدمی کے باعث ایک ہزار افغان سیکیورٹی فورسز کے سرحد پار آنے کے بعد تاجکستان کے صدر ایمومالی راخموں نے پیر کو حکم دیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحد پر 20 ہزار ریزور فوجی دستوں کو متحرک کیا جائے۔

علاوہ ازیں تاجک صدر نے علاقے کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کے لیے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوٹن سے بھی گفتگو کی۔

……………………………………

افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا اور طالبان کی جانب سے کئی اضلاع پر قبضے اور مزید علاقوں کی جانب پیش قدمی کے باعث زمینی صورتِ حال میں ہر روز نئی تبدیلی آ رہی ہے۔

گزشتہ ماہ کے دوران طالبان نے ملک کے شمال میں 100 سے زائد اضلاع کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شمال مشرقی صوبوں بدخشاں، تخار، فریاب، پکتیا اور قندوز میں طالبان کی پیش قدمی کے دوران افغان فورسز نے زیادہ تر علاقوں میں بغیر مزاحمت کیے ہتھیار ڈال کر علاقے خالی کر دیے ہیں۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ طالبان نے 153 اضلاع کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے جس میں سے لگ بھگ 100 اضلاع ملک کے شمال میں ہیں۔

طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ قندھار کے جنوب میں واقع اہم اور اپنے سابق گڑھ ضلع پنجوائی کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔

افغان حکام طالبان کے دعووں کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اُن کے بقول کئی اضلاع طالبان کے قبضے سے واگزار کرا لیے گئے ہیں جب کہ طالبان کو بھاری جانی نقصان بھی پہنچایا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی شمالی افغانستان کی جانب پیش قدمی سے افغان حکومت خاصی پریشان ہے۔

افغان امور کے ماہر اور شدت پسندی کے موضوع پر تحقیق کرنے والے سوئیڈن میں مقیم محقق، عبدالسید کا کہنا ہے کہ افغانستان کے شمالی علاقوں میں طالبان کے لیے کبھی حمایت نہیں رہی ہے۔

اُن کے بقول نائن الیون سے قبل ان علاقوں میں طالبان کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا کہ طالبان نے وقت کے ساتھ اپنی حکمت عملی بھی بدلی ہے۔ پہلے وہ تمام کارروائیاں اپنے پشتون کمانڈروں کے ذریعے ہی کراتے تھے۔ لیکن اب طالبان نے نہ صرف مقامی غیر پشتون افراد کو اپنی صفوں میں شامل کیا ہے بلکہ ان میں سے بعض اہم عسکری پوزیشن پر بھی تعینات ہو چکے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY