چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ججوں پر اعتراض کرنے والے تھوڑی احتیاط کریں، طاقت ور کا طعنہ ہمیں نہ دیں، جس کیس پر وزیر اعظم نے بات کی ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ اجازت انہوں نے خود دی۔
یاد رہے وزیراعظم نے موٹر وے کے افتتاح پر عدلیہ کو براہ راست ھدف تنقید بنایا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا
وزیراعظم ایسے بیانات سے احتیاط کریں
عدلیہ کی تعریف کی جائے ھدف تنقید نہین
وسائل ملے تو بہتر کام ہیو گا
ہم نے امیر غریب سبکو انصاف دینا یے
جس کیس کی وزیراعظم نے بات کی اسکی اجازت خود انہوں نے دی
ہمارے سامنے قانون طاقتور ہے انسان نہیں
وزارت قانون کے تعاون کے شکرگزار ہیں
پولیس ریفارمز پر کام ہو رہا ہے
ایک جنرل کا فیصلہ جلد آنے والا ہے
عدلیہ اب آزاد ہے
ہم نے ایک وزیراعظم کو سزا دی ایک کو نااہل کیا ہے
چیف جسٹس آصف آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا وزیراعظم کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں، عمران خان نے کہا تمام وسائل فراہم کرنے کو تیار ہیں، انہوں نے 2 دن پہلے خوش آئند اعلان کیا، اس وقت وسائل کی ضرورت تھی، وزیراعظم نے طاقتور اور کمزور کی بات کی، 3 ہزار ججز نے 36 لاکھ مقدمات کے فیصلے کیے، ان فیصلوں میں کمزور لوگوں کے مقدمات بھی شامل ہیں، انہیں وسائل میں 25 سال سے زیر التوا مقدمات ختم کر دیئے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے مزید کہا لاہور میں 2 مقدمات زیر التوا ہیں، وسائل کے بغیر ہم نے بہت کچھ کیا، اسلام آباد میں 25 کے قریب فوجداری مقدمات زیر التوا ہیں، ہم نے ماڈل کورٹس بنائے، مگر کوئی ڈھنڈورا نہیں پیٹا، ہم نے ماڈل کورٹس کا اشتہار نہیں لگوایا۔













