حق حلال کا علم۔روبینہ فیصل

0
45

دسمبر کے مہینے کو شاعروں نے ایک اداسی کا منبہ بنا دیا ہے۔ ہر کسی کی کوئی نہ کوئی اپنی ذاتی وجہ بھی ہو گی، موت یا جدائی مگر ایک مجموعی وجہ ہو تی ہے سال کا گزر جانا ۔ ابھی تو ایک سال کی رخصتی کی تھی ، یہ دوسری بھی سر پر پلک جھپکتے آن کھڑی ہوئی ۔میں بھی ایسی ہی اداسی کا شکار ہو کر نئے سال کو ویلکم کر نے والوں کو حیرانی پریشانی سے دیکھے جاتی ہوں ۔۔۔
بات آج دسمبر کی نہیں ، بات آج دسمبر میں چلے جانے والے ینگو ورما کی ایک بات کی ہے جو مجھے انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے میرے ایک سوال کے جواب میں کی تھی : “آرٹسٹ یا آرٹ کے بغیر کوئی بھی سوسائٹی ایسے ہے جیسے کہ کسی سنگترے سے جوس نکال لیا جائے اور باقی سوکھا سڑا چھلکا رہ جائے “۔
ینگو ورما ۔۔ جو مجسمہ ساز تھے ، جن کے ہاتھوں سے بنایا ہوا غالب کا قد آوار مجسمہ آج بھی جامعہ دلی میں سر اٹھائے کھڑا ہے ۔ رب نے ان کو اولاد جیسی نعمت سے نہ نوازا لیکن وہ دنیا کو کتنے مجسمے ، کتنی تصویریں ، کتنے دائروں سے نواز گئے ۔ عام لوگ بارہ بارہ بچے پیدا کر کے بھی مر جاتے ہیںیوں کہ دو نسلوں کے بعد ان کا کوئی نام لیواتک نہیں ہوتا۔ مگر سچا تخلیق کار مر کر بھی اپنی تخلیق کے ذریعے زندہ رہتا ہے ۔اس کے باوجود ہمارے لوگوں کے دماغ سے یہ بات کیوں نہیں جاتی کہ آرٹ وقت کا ضیاع ہے ۔ ایک ملک کبھی بھی صرف سائنس یا کامرس کی بنیاد پر ترقی یافتہ نہیں ہو سکتا ۔تعلیم یافتہ کا مطلب کسی بھی انسان کا ایک خاص میدان میں ڈگری ہولڈر ہو نے کا نہیں ہے بلکہ اس کا آرٹ ،لٹریچر اور تاریخ میں علم رکھنا بھی ضروری ہے ۔ ورنہ تو کتابیں گدھے پر لاد دو یا ایک انسان کے ذہن میں نالج ٹھونس دو ، ایک ہی بات ہے ۔
ہنر مند تو ایک لوہار اور سنار بھی ہوتا ہے ، ہنر مند تو ایک درزی اور ڈریس ڈیزائنر بھی ہوتا ہے ، ہنر مند تو ایک دائی اور گانئنی کالوجسٹ بھی ہو تی ہیں، ہنر مند تو ایک اکاوننٹٹ اور منشی بھی ہوتا ہے ، ہنر مند تو ایک پٹواری اور بلڈر بھی ہوتاہے ، ہنر مند تو ایک پلمبر اور انجنئی بھی ہو تا ہے ۔۔یہ سب وہ ہنر ہیں جو انسان کے لئے پیسہ بنانے کا وسیلہ بناتے ہیں ۔ کس ڈگری سے کتنا زیادہ پیسہ بنتا ہے ، اگر یہ معیار رکھ کر بچوں کو تعلیم دلوائی جا ئے گی تو ویسا ہی تنگ نظر معاشرہ ظہور پذیر ہو گا جیسا ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں۔
یورپ کی صنعتی ترقی کے بعد دنیا کی کایا پلٹنے لگی ۔۔ معیارات بدلنے لگے ۔ پوسٹ ورلڈ وارز کے بعد بقا کی دوڑ نے انسان سے نرم جذبات جیسے چھین ہی لیئے ہوں ۔ ۔ انسان کنفیوز ہو گیا ۔ اس کنفیوژن میں اس نے خود کو بچانے کے لئے ایک دوڑ لگا دی ۔ کائنات کے سامنے خود کو ذرے سے بھی کم پایا تو اس ہی کی تسخیر کے لئے اٹھ کھڑا ہوا ۔ روحانی پہلو پیچھے چھوڑتا گیا ۔۔ جسم بڑا ہو کر اس کی آنکھوں کے سامنے آکھڑا ہوا ۔۔ سائے غائب ہونے لگے ۔ پھر ایک اور لہر چلی پوسٹ کولنئیل ازم کی جس میں ایشا اور افریقہ تھرڈ ورلڈ ممالک بن گئے ۔۔ مگر اس وقت تک مغرب نے خود کو سائنس اور صنعت میں منوا کر مذہب کو پرے رکھ کر ، آرٹ اور لٹریچر کی اہمیت کو سمجھ لیا تھا ۔ پہلے مغرب میں بھی فرقوں کی بنیاد پر ایک دوسرے کے خون کی ندیاں بہائی جا رہی تھیں ، عورتوں کو ایک جنسی کھلونے یا باندی سے زیادہ کوئی مقام دینے کو تیار نہ تھا ۔
مگر پھر مغرب ،کسی ایک سائنس کے مضمون کے علم سے نہیں بلکہ اس پستی سے اپنے مصوروں ، شاعروں اور دانشوروں کا ہاتھ تھام کر باہر نکل گیا۔ہم آج مغرب کی اس پستی سے بھی ذیادہ پست ہیں۔۔ کیونکہ ہمارے پڑھے لکھے لوگ ( جن کے پاس اعلی ڈگری ہے اور اعلی ڈگری کی تعریف یہ ہے کہ جو زیادہ پیسہ کمانے کا باعث بنے ) میوزک اور ڈانس کے بغیر زندہ بھی نہیں رہتے ، مگر کسی جاہل کی طرح ان کی بے معنویت پر سوال اٹھاتے ہیں ۔ ایک پروفیشنل خاتون کسی محفل میں بیٹھ کر شرم کی بجائے بڑے فخر سے بتا رہی تھیں کہ میں نے کبھی اپنے پروفیشن کے علاوہ کسی کتاب کو ہاتھ نہیں لگایا ۔۔ ان کی اس بات پر لوگوں کی نظروں میں ان کے لئے ستائش ابھر آئی تھی اور میں یہ سوچتی رہ گئی کہ یہ اپنے بچوں کو بھی ادب اور آرٹ سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر تی ہونگی ۔۔ کیونکہ ادبی کتابیں پڑھنا ان کے نزدیک وقت کا ضیاع تھا۔چین تک جا کر جو علم حاصل کرنے کی بات کی جا تی ہے وہ صرف وہ علم تھوڑی ہے جو بہت سارا پیسہ کمانے کا ذریعہ بنے ۔علم تو انسان کو جانور سے بہتر بنانے کا ایک نسخہ کیمیا ہے ورنہ سرکس میں سدھائے گئے جانور ، ایک ہی ڈگر پر چلتے ہیں تو پیسہ تو بہت کما لیتے ہیں مگر رہتے جانور ہی ہیں ۔
آرٹ اور ادب معاشرے کو انسان بناتا ہے ۔جس طرح سائنس انسان کے لئے ایک دروازہ ہے ، اسی طرح آرٹ دوسرا دروازہ ہے اگر ان میں کراس وینٹیلشین نہیں ہو گی تو معاشرے کا سانس اکھڑنے لگے گا ۔۔ ۔ آج میں پاکستانی جسم کا سانس اکھڑتے دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہاں گئے وہ لوگ جو سائنس کے ساتھ ساتھ بچوں کو موسیقی اور ڈانس کی تربیت بھی دلواتے تھے یا تاریخ اور ادب کی کتابیں لا لا کر ان کے بستروں میں رکھ دیا کرتے تھے کہ بچے چپکے سے یہ بھی پڑھ ہی لیں ۔۔
جب گھروں میں شاعری،افسانہ اور تاریخ کے جاننے کو وقت کا ضیاع مان لیا جائے ، سمجھ جائیے اس معاشرے کا حال ایک سرکس سے زیادہ نہیں اور اس کا پڑھا لکھا طبقہ سدھائے جانوروں سے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ۔ جو صرف اس دھن پر ناچنا جانتے جس کی انہیں پہچان ہو ۔ اور کوئی بھی ایرا غیرا نتھو خیرا ، ان سدھائے جانورں کے ہجوم کو کہیں بھی ہانکتا ہوالے جاتا ہے ۔۔۔۔۔
پاکستان میں ہر کوئی اپنے بچے کو ڈاکٹر، انجنئیر ، اکاونٹنٹ ، وکیل یا سی ایس پی آفیسر بنانا چاہتا ہے ۔ دولت اور طاقت کی ہوس نے یہ معیار طے کیا ہے ۔۔ علم کے حصول کی لگن نے یہ معیار طے کیا ہوتا تو اس میں ڈانسر ، گلوگار ، پینٹر، مجسمہ ساز ، اداکار ، ادیب اور موسیقار بھی ہو تے ۔ مگر آرٹ کو ہمارے معاشرے میں اس قدر غیر اہم جان لیا ہے کہ کوئی بچہ غلطی سے غیر نصابی کتاب پڑھ لے تو ماں باپ کا دل دھک سے رہ جاتا ہے کہ اب یہ ہاتھوں سے نکل کر ہی دم لے گا ۔
سطحی سوچ والے لوگوں سے نجات حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے حق حلال کا علم ۔۔ وہ علم جس کو حاصل کرنے کی جستجو انسان کے اندر سے خود اٹھے نا کہ ارد گرد کا ماحول اسے بتائے کہ اسے کیا کرنا ہے ۔ کتنے ایسے لوگوں کو میں جانتی ہو ، جو دنیاوی دوڑ میں شامل نہیں ہو نا چاہتے جو اپنے وجود کی تلاش خود کرنا چاہتے ہوں اور اپنے اصلی جذبے کی اصلی تسکین کے لئے کوشاں ہیں ۔ مگر اس فطری اور عام سی بات کے لئے انہیں زمانے سے ٹکرانا پڑتا ہے ۔ ایسی عورت ہو گی تو گھر کی چار دیواری میں بند کرنے کی کوشش کی جائے گی ، اگر اس کا شوق ، گھر میں کم پیسے لا رہا ہے اور اگر کوئی ایسا نافرمان مرد ہوگا تو اسے کم پیسے کمانے کے طعنوں سے اس قدر چھلنی کر دیا جائے گا کہ وہ اپنی کھوج کی تکمیل کے بغیر ہی مر جانے کا سوچے کا، یا معاشرے کے قائم کردہ اصولوں کے نیچے خود بخود ہی دب کر مر جائے گا ۔۔
یہ دو انتہائیں پیدا نہ ہوں اگر معاشرہ بہت زیادہ کمانے کو کامیابی کا معیار نہ بنا دے تو ۔ اگر کامیابی ذاتی تسکین اور خوشی کو مان کر ہر انسان کو اپنے کئیریر کا فیصلہ خود کرنے کی آزادی دے دی جائے ۔۔۔ تو مجھے یقین ہے کہ پو ری دنیا میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص ، دوغلی زندگی جینے سے لوگ بچ جائیں گے ۔۔ خود بھی خوش رہیں گے اور دوسروں کی خوشی سے جلنا بھی بند کر دیں گے ۔۔۔۔ ورنہ اپنی زندگی جینے والے ہر انسان کو دیکھ کر اتنا جلتے ہیں کہ نہ خود جیتے ہیں نہ ان کو جینے دیتے ہیں ۔اگر کسی کو مصوری کا شوق ہے تو اسے خود کو” کامیاب” ثابت کرنے کے لئے مصوری کی بجائے سی ایس ایس یا میڈیکل کے امتحان کی تیاری کا کشت نہ اٹھانا پڑے

روبینہ فیصل

SHARE

LEAVE A REPLY