پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو نے مہنگائی کے خلاف 12 جولائی کو سکھر میں دھرنے اور 13 جولائی کو سکھر پنجاب بارڈر ’رک ریلی‘ نکالنے کا اعلان کردیا۔
سکھر میں پارٹی ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ فوج کو پولنگ اسٹیشن کے اندر کھڑا کرکے متنازع کیا جارہے، قبائلی اضلاع میں فوج کو پولنگ اسٹیشن سے ہٹانے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ گھوٹکی میں ضمنی الیکشن میں بھی فوج کو لولنگ اسٹیشنز سے باہر رکھنے کا فیصلہ کیا جائے۔
بلاول بھٹو نے سوال اٹھایا کہ ’اگر ملک دشمن، دہشت گرد اور را کے ایجنٹ کا انٹرویو چل سکتا ہے تو ایک سویلین صدر کا انٹرویو کیوں نہیں چل سکتا؟‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں جیل بھیج کر ڈرا دیں گے لیکن وہ سن لیں، میرے پورے خاندان اور پارٹی کے ورکروں کو بھی جیل میں ڈال دیں تو بھی ہم آئین کے تحفظ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے‘۔
وفاقی بجٹ سے متعلق انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’دھاندلی زدہ‘ اور عوام دشمن بجٹ نے عوام کا جینا مشکل کردیا ہے، حکومت نے آئی ایم ایف سے ڈیل کرکے معاشی خودکشی کرلی ہے۔
انہوں نے کا کہ عوام دشمن بجٹ امیروں کو ریلیف دیا گیا ہے اورغریبوں پر بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
ان کو کہنا تھا کہ عام انتخابات میں ملک بھر سے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشنوں سے نکال دیا گیا تھا الیکشن کمیشن آج کہتا ہے کہ فارم 45 ویب سائٹ پر موجود ہیں مگر ویب سائٹ دیکھ لیں تو وہاں پر فارم 45 موجود ہی نہیں ہے۔
انہوں نے ورکرز کنویشن کا انعقاد ملک گیر تک پھیلانے کا بھی عندیہ دیا۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’ ورکرزکنویشن کا سلسلہ پشاور سے شروع ہوا، آج سکھر میں کنونشن ہورہا ہے تاہم اب ورکرز کنونشن ملک بھر میں ہوں گے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کی سیاسی لڑائی پیپلزپارٹی سے ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پورے صوبے کو ٹارگٹ کیا جائے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ تحریک انصاف کے وزیر قومی اسمبلی میں اعتراف کرچکے ہیں کہ سندھ کا پانی چوری ہورہا ہے لیکن اعتراف کے باوجود پانی کا مسئلہ حل نہیں کیا جارہا۔













