بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 10 مزدوروں کے قتل کے بعد ہزاروں کان کنوں نے کام روک دیا اور کئی صوبہ چھوڑ گئے۔
خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مزدور تنظیموں اور حکومتی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کے قتل کے بعد تقریباً 15 ہزار مزدوروں نے کام چھوڑ دیا ہے جس کے نتیجے میں 200 کانیں بند ہوگئی ہیں اور پیدوار بھی کم ہوگئی ہے۔
کوئلے کی کانوں کے صوبائی سربراہ عبداللہ شالوانی کا کہنا تھا کہ 100 سے زائد کانیں تاحال غیر فعال ہیں۔
خیال رہے کہ بلوچستان میں قائم سیکڑوں چھوٹی کانوں میں 40 ہزار سے زائد مزدور کام کرتے ہیں جہاں انتہا پسندوں گروپس کی جانب سے انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے اور اغوا کے بعد کان مالکان سے تاوان وصول کیا جاتا ہے۔
تاوان کی عدم وصولی پر انہیں قتل کرکے صوبے میں کشیدگی پھیلائی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کوئلے کی کانیں افغان مہاجرین کے لیے معاشی ضروریات پوری کرنے کا بڑا ذریعہ ہیں اور خاص کر ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بھی یہاں بڑی تعداد میں مزدوری کرتے ہیں۔
گزشتہ ماہ مچھ کے علاقے میں ایک کان سے ہزارہ برادری کے متعدد مزدوروں کو اغوا کرکے پہاڑی علاقے میں لے جایا گیا تھا جہاں بعد ازاں انہیں قتل کر دیا گیا تھا۔
مزدوروں کے قتل کے بعد کوئٹہ میں شدید احتجاج ہوا تھا اور لواحقین نے مقتولین کی تدفین سے انکار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سے ان کے تحفظ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔












