دل بوجھل ، دن ڈھل رہا تھا ، شام شب بھر جاگنے والوں کو بیدار کررہی تھی لیکن میں تو سارا دن سویا ہی نہیں تھا ، ایمپریس روڈ سے ریڈیو پاکستان کے مرکزی گیٹ میں داخل ہورہا تھ ، سامنے ریڈیو کے ملازمین کی تنظیم کا بینر میرا منہ چڑا رہا تھا ، سی بی سی یونین نے یہ مزاحمتی بینر ریڈیو پاکستان کے ہیڈ کوارٹرز کی عمارت لیز آؤٹ کرنے کے حکومتی فیصلے کیخلاف لگایا ہے ۔ جب سیکیورٹی گارڈ دروازہ کھول رہا تھا تو دو آوازیں بیک وقت دماغ پر گھونسے برسا رہیں تھیں ، ایک آواز استادِ محترم ذوالفقار کاظم ( مرحوم)کی تھی اور دوسری آواز صفدر ہمدانی اور مہ پارہ صفدر کی تھی ، اس’ ریڈیائی جوڑے‘ کی آواز مل کر مصطفیٰ علی ہمدانی کی آواز بن رہی تھی اور میں سن رہا تھا ’’ طلوعِ صبحِ آزادی ‘‘ یہ اُس عبارت کے آخری الفاظ ہیں جو مصطفیٰ علی ہمدانی نے برصغیر کی آزادی اور الگ وطن کی جنگ لڑنے والوں کو پہلی سرکاری اطلاع کے طور پر ادا کیے تھے اور بتایا تھا کہ پاکستان بن چکا ہے اور وہ لاہور سے بول رہے ہیں جو پاکستان ہے ، مصطفیٰ علی ہمدانی کے صاحبزادے صفدر ہمدانی کے مطابق قیامِ پاکستان کے اعلان سے قبل آل انڈیا ریڈیو کی سروس پر اپنی آخری ٹراسمیشن کے دوران بات کرتے ہوئے مصطفیٰ علی ہمدانی نہ یہ بھی کہا تھا کہ آج میں نے آل انڈیا ریڈیو سروس کو اس سرزین پر ہمیشہ کیلئے دفن کردیا ۔۔۔صفدر ہمدانی اور مہ پارہ صفدر اس دن سے خاموش نہیں جس دن سے حکومت نے ریڈیو پاکستان پر’’حملہ کیا ہے ۔ ان کی آواز سوشل میڈیا پرسبھی سن رہے ہیں ماسوائے ان کے جو جان بوجھ کر بہرے بنے ہوئے ہیں ۔
ان دونوں سے پہلے استادِ محترم ذوالفقار علی کاظم’ مرحوم ) مجھے گیٹ میں داخل ہوتے جھنجھوڑ رہے تھے اور اپنے مخصوص انداز میں بول رہے تھے ’’ارے صحافیوں کے خود ساختہ نثار عثمانی ’’کعبہ ‘‘کس منہ سے جا رہے ہو‘‘ میں بھی اسی انداز سے جواب دے رہا تھا ’’ شرم مجھ کو مگر نہیں آتی ‘‘۔۔اسی دوران ریڈیو ملازمین کی سی بی اے کے کچھ عہدیدارون سے معلوم ہوا کہ’’ حکام سے بات چیت چل رہی ہے ‘‘، میں نے ان پر واضح کیا کہ میں ریڈیو کے حکام اور حکومتی عہدیداروں کی بات چیت پر یقین نہیں رکھتا ، میں نے ساری زندگی مزاحمت میں گذاری ہے اور حکومتی’ بات چیت ‘ کے حربوں سے واقف ہوں ، اب بھی مذاحمت کررہا ہوں ۔ میں ریڈیو پر کام کرنیوالے کنٹری بیوٹرز کی تنظیم’’ براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن پاکستان ‘‘ کے پلیٹ فارم سے تب تک مزاحمت جاری رکھوں گا جب تک حکومتی سرکاری طور پر اپنا اعلان واپس نہیں لیتی ۔۔ جواب میں ذوالفقار کاظم مسکراتے دکھائی دیے اور ان کا ہاتھ میں نے کندھوں پر محسوس کیا۔
ریڈیو پاکستان کی عمارت لیز آؤٹ کرنے کے غلط حکومتی فیصلے پر جس قدر مزاحمت کی جارہی ہے اگر اس کے بعد بھی حکومتڈٹی رہتی ہے تو پھر اسے جمہوری حکومت کہنے پر نظر ثانی کرنے پڑے گی ، حکومت ڈھٹائی برقرار رکھتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ حکومت پاک فوج کو بھی پریٹائز کردے گی اس کا ’فوجی بھائیوں کے پروگرام ‘ والے ریڈیو پر حملہ اس کی دانست میں کامیاب ہے ۔ کیا ’فوجی بھائی ‘ اپنا کردار ادا نہیں کریں گے ؟ یہ حکومت ایسے غلط فیصلے کرتی رہی تو فوج کو گھر بھیج کر دفع ایک سو چوالیس کے تحت مارشل لاء لگا دے گی ، ایمر جنسی لگائے گی ، کسی گدھے کو ڈھونڈے گی اور اسی طرح سپہ سالار کے بیج لگادے گی جس طرح ایک خواجہ صاحب کو لگائے گئے تھے ۔۔۔
۔ خیر فوج جانے ، فوجی بھائی جانیں اور ان کے پروگرام ۔۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ ریاست کے اس اہم ستون پر حکومتی حملہ کسی طرح کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ یہ ایک ریاستی ادارے پر ہی نہیں ، ذمہ دارانہ صحافت ، ذمہ دارانہ ثقافت پر بھی حملہ ہے ، یہ ادارہ ہماری ماں ہے اور ہمیں ماں کی کوکھ اور حرمت کا تحفظ کرنا ہے ، جس کی ماں نہیں ، جو ماں کی شان نہیں جانتا ، ماں کے بغیر پیدا ہوا ہے وہ جو کرنا چاہے کرلے ، ماں کی کوکھ سے جنم لینے والے تو مزاحت کریں گے اورماں کو بچائیں گے۔
محمد نوازطاہر













