بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر، دہشت گردی اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر فائرنگ سمیت دیگر معاملات پر مذاکرات کے لیے بھارت سے بھیک نہیں مانگے گا۔
پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے کے مسائل مذاکرات سے حل کرنے کے لیے اپنی خواہش کا اظہار کر چکا ہے، اب بھارت کے جواب کا انتظار ہے۔
بھارتی اخبار دی ہندو کو دیئے گئے انٹرویو میں پاکستانی کمشنر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعطل کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان کی جانب سے مذاکرات پر اپنی رائے کے بعد ہندوستان مذاکرات کی پیش کش کے لیے تنگ نظری سے کام لے رہا ہے، اگر بھارت مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے تو پاکستان انتظار کرتا رہے گا جبکہ پاکستان ہمیشہ تعطل کو ختم کرنے کی کوشش کرتا رہے گا، کیونکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ تمام مسائل کا حل صرف مذاکرات میں ہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں عبدلباسط کا کہنا تھا کہ پاک۔ بھارت معاملات کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان نے کئی بار سفارتی کوشش کی مگر حالات بہتر نہ ہوسکے، پاکستان نے افغانستان میں قیام امن، بہتری اور ترقی کے لیے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ مضبوط اور ترقی یافتہ افغانستان ہمارے لیے نہایت ہی اہم ہے۔
پاکستانی ہائی کمشنر کے مطابق پاکستان کو احساس ہے کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس افغانستان سے متعلق ہے، مگر یہ کانفرنس پاکستان اور بھارت کے دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہے، امرتسر کانفرنس دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات کی برف پگھلانے کا اچھا موقع ہے۔
ایل او سی پر حالیہ کشیدگی سے متعلق جواب میں عبدالباسط نے کہا کہ 2003 میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی وجہ سے دونوں ممالک میں اعتماد کی بحالی ہوئی، اسی لیے ہی گزشتہ ہفتے پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری انٹیلی جنس افسر(ڈی جی ایم او) نے بھارتی ہم منصب سے رابطہ کیا، ہمیں اعتماد کی بحالی کے لیے متواتر اقدامات اٹھانے چاہئیے۔












