کرکٹ ورلڈ کپ 2019ء کے فائنل میں میزبان انگلینڈ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد نیوزی لینڈ کو شکست دے دی اور پہلی مرتبہ ورلڈ چیمپئن بن گیا۔
لارڈز کے تاریخی گرائونڈ پر انتہائی سنسنی خیز اور دلچسپ فائنل کھیلا گیا،میچ کا فیصلہ سپر اوور کے ذریعے ہوا۔
انگلینڈ نے پہلے سپر اوور کھیلا اور نیوزی لینڈ کو 16رنز کا ہدف دیا
تاہم نیوزی لینڈ نے اگر چہ سُپر اوور میں پندرہ سکور ہی کیا لیکن آخری گیند پر وکٹ گنوا دی جسکی وجہ سے انگلینڈ کو چمپین قرار دے دیا گیا
ہدف کے تعاقب میں جیسن روئے اور بیرسٹیو میدان میں اترے اور ٹیم کے سکور کو آگے بڑھایا۔ تاہم ٹیم کا سکور ابھی 28 پر ہی پہنچا تھا کہ جیسن روئے آؤٹ ہو گئے، انہوں نے صرف 17 رنز بنائے۔ اس کے بعد جوئے روٹ اور بیرسٹو نے سست رفتاری سے کھیلتے ہوئے ٹیم کے سکور کو آگے بڑھایا۔
انگلینڈ کی دوسری وکٹ سولہ اعشاریہ تین اوورز میں 59 کے سکور پر گری، جب جوئے روٹ صرف 7 رنز بنا کر واپس لوٹے۔ ان کے بعد بیرسٹیو بھی اپنی وکٹ نہ سنبھال سکے اور 36 رنز بنا کر بولڈ ہو گئے۔ کپتان این مورگن بھی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے اور صرف 9 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہو گئے۔
اس کے بعد بین سٹوکس اور بٹلر نے اپنی جارحانہ بلے بازی سے میچ کو انتہائی دلچسپ بنا دیا۔ بٹلر نے 60 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 6 چوکوں کی مدد سے 59 رنز کی اننگز کھیلی، تاہم ٹیم کا سکور 196 پر ہی پہنچا تھا کہ بٹلر ایک اونچی شارٹ کھیلنے کی کوشش میں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ ایک طرف سے وکٹیں گرتی رہیں تاہم سٹوکس نے اپنی جارحانہ بلے بازی جاری رکھی اور میچ میں دلچسپی ختم نہ ہونے دی۔ آخری اوور میں انگلینڈ کی ٹیم کو جیت کیلئے 15 رنز درکار تھے جسے سٹوکس نے میچ کی آخری بال پر لیول کر دیا۔ سٹوکس نے تاریخی بیٹنگ کی اور 98 گیندوں پر 5 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 84 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے فرگوسن اور نیشم نے 3، 3 جبکہ ہنری اور گرینڈزہومی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
سکور لیول ہونے کے بعد ورلڈ کپ 2019ء کے فائنل کا فیصلہ سپر اوور میں ہوا۔ انگلینڈ کی جانب سے سٹوکس اور بٹلر میدان میں اترے اور اس مرتبہ بھی شاندار بلے بازی کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کو جیت کیلئے 16 رنز کا ہدف دیا۔
سپر اوور میں 16 رنز کے ہدف کے تعاقب میں نیوزی لینڈ کی جانب سے گپٹل اور نیشم میدان میں اترے جبکہ کپتان مورگن نے گیند آرچر کے ہاتھوں میں تھمائی۔ آرچر نے پہلی گیند وائڈ پھینکی، اس کے بعد پہلی گیند پر کیوی کھلاڑیوں نے دو رنز بنائے، دوسری گیند پر نیشم نے گیند گراؤنڈ کے باہر پھینک دی، تیسری گیند پر پھر دو رنز بنے، چوتھی گیند پر بھی دو رنز بنے جبکہ پانچویں گیند پر ایک رن بنا جبکہ چھٹی اور آخری گیند پر ایک رن بنا لیکن دوسرا رن لینے کی کوشش میں گپٹل رن آؤٹ ہو گئے۔
نیوزی لینڈ نے سکور تو لیول کر لیا لیکن آئی سی سی قانون کے مطابق باؤنڈرز زیادہ ہونے کی وجہ سے انگلینڈ نے ورلڈ کپ 2019ء کا تاج اپنے سر پر سجا لیا۔
اس سے قبل نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ کیویز کی جانب سے نکولس 55، لیتھم 47 جبکہ کپتان ولیمسن 30 رنز بنا کر نمایاں بلے باز رہے۔ انگلینڈ کی جانب سے ووکس اور پلنکٹ نے تین تین جبکہ آرچر اور ووڈ نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
انگلینڈ نے پہلی بار ورلڈ کپ چیمپئن کا تاج اپنے سر پر سجایا ہے جبکہ نیوزی لینڈ کو لگاتار دوسرے فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انگلینڈ نے 1992ء کے بعد پہلی بار فائنل کیلئے کوالیفائی کیا تھا۔
انگلینڈ کے نوجوان بلے باز بین سٹوکس کو تاریخی اننگز کھیلنے کے اعزاز میں میچ آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔













