صدر مملکت ممنون حسین نے جسٹس ثاقب نثار کو سپریم کورٹ کا اگلا چیف جسٹس مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔

سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی 31دسمبر کو ریٹائرہو جائیں گے اور ان کی جگہ جسٹس ثاقب نثار یہ عہدہ سنبھال لیں گے۔

وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے 25 ویں چیف جسٹس ہوں گے۔

وزارت قانون نے نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے مطابق جسٹس ثاقب نثار 31 دسمبر سے چیف جسٹس آف پاکستان کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس ثاقب نثار کے نام کی چیف جسٹس کے عہدے کے لیے منظوری دے دی جس کا اطلاق 31 دسمبر 2016 سے ہوگا۔

جسٹس ثاقب نثار 18 جنوری 1954 میں لاہور میں پیدا ہوئے اور انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اپنی قانون کے ڈگری حاصل کی۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق جسٹس ثاقب نثار نے 1980 میں وکالت کا پیشہ اختیار کیا اور 1982 میں وہ ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ بن گئے جبکہ 1994 میں انہیں سپریم کورٹ کا ایڈووکیٹ بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔

1998 میں جسٹس ثابت نثار کو ہائی کورٹ کے جج کے عہدے پر ترقی دے دی گئی جبکہ 2010 میں انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کردیا گیا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کررہا ہے اور اس بینچ میں جسٹس ثاقب نثار شامل نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ انور ظہیر جمالی نے گزشتہ برس ستمبر میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

جسٹس انور ظہیر جمالی نے پاکستان کے 24 ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا اور وہ ایک سال 4 ماہ تک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کا تعلق مشہور صوفی بزرگ حضرت قطب جمال الدین احمد حسنوئی کے گھرانے سے ہے جو پنجاب کے مشہور صوفی بزرگ بابا فرید الدین گنج شکر کے خلیفہ بھی تھے.

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے والدین قیام پاکستان کے وقت 1947 میں ہندوستان کے شہر جے پور سے ہجرت کرکے پاکستان آئے، وہ 31 دسمبر 1951 کو حیدر آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے تجارت اور قانون میں بالتریب 1971 اور 1973 میں سندھ یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگریاں حاصل کیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY