شکر ____الحمداللہ۔انتخاب۔ثاقب رضا

0
3594

کل ایک شادی میں جانا ہوا ، ہال میں داخل ہوتے ہی ایک کونے میں ایک جان پہچان والے شخص پر نظر پڑگئی جو اکیلا بیٹھاہوا تھا میں بھی جا کر وہیں بیٹھ گیا.

وہ بڑی گرمجوشی سے ملا اس کا گاڑیوں کے پرزے اور انجن آئل وغیرہ کاکام تھا.
حال احوال پوچھنے کے بعد وہی عام باتیں شروع ہو گئیں، یعنی مہنگائی اور کاروباری مندے کا رونا…وہ کہنے لگا…آج کل کام کوئی نہیں چل رہا …اوپر سے گاہک بھی ایسےکہ اففف! ….خدا خوفی تو نام کو نہیں، ابھی پرسوں ہی کی بات ہے ایک بندے نے گاڑی کا آئل تبدیل کروایا، پچیس سو بل بنا…پیسے دے کر وہ چلا گیا…بعد میں چیک کیا تو ہزار کا نوٹ جعلی دے گیا تھا.
اوہ! میرے منہ سے بے اختیار نکلا… پھر ؟؟؟

پھر کیا…بڑی گالیاں دیں اسے….پتا نہیں کون تھا؟ پہلی بار آیا تھا. وہ تو شکر میں نے آئل بھی دو نمبر ہی ڈالا تھا ،ورنہ تو بلاوجہ ہی مارا جاتا.

اسی دوران “روٹی کھل گئی” کا نعرہ لگا اور پورے ہال میں بھونچال سا آگیا…
مرغی کے قورمے کا ڈھیر پلیٹ میں لیے وہ فاتحانہ انداز میں واپس آیا …میں سمجھا شاید میرے لیے بھی لے آیا ہے، مگر کہنے لگا، پاءجی لے آؤ تم بھی….بعد میں تو کچھ نہیں ملے گا… میں چپ چاپ اٹھا اور بریانی لے کر واپس آگیا.

پھر میں نے اس سے پوچھا کہ اس جعلی ہزار کے نوٹ کا کیا کِیا تم نے؟
کرناکیاتھا…دولھے کے والد کو سلامی میں دے دیا ہے ….
اس کے بعد میز کے نیچے چھپائی ہوئی بوتلوں سے ایک نکال کر دو بڑے بڑے گھونٹ لیے پھر چھ سیکنڈ دورانیے کا لمبا ڈکار لینے کے بعد دونوں ہاتھ جوڑ کر عقیدت سے آنکھیں بند کیں اور بولا.

شکر ____الحمداللہ۔۔۔۔

انتخاب۔ ثاقب رضا

SHARE

LEAVE A REPLY