حضرت علیؓ کا ایک مشہور قول ہے کہ(مفہوم)’’ جس نے مجھے ایک حرف سکھا یا وہ میرا اُستاد‘‘۔۔۔ اور اُستاد سے بڑا محسن کون ہو سکتا ہے۔!! اخلاق کے بھی مدارج ہیں، جس میں ایک ’ احسان‘ بھی ہے اور احسان کے بارے میں واضح کر دِیا گیا ہے کہ’’ احسان کا بدلہ صرف احسان ہے۔ ‘‘ہمارے بزرگ کیسے تھے۔ بزرگوار
نظام الدین اشرفی یاد آتے ہیں۔ انھیں علمِ حدیث کا شوق ہوا اور اُنہو ں نے شہر (ممبئی)کے ایک مشہور عالِم حدیث کے سامنے زانوے ادب تہہ کیا اور باقاعدہ سبقاً سبقاً ان سے علم حدیث پڑھا۔ بزرگوار مسلکاً بریلوی مزاج کے حامل تھے اور ان کے استاد، ان کے برعکس۔۔۔ مگر معاملہ یہ تھا کہ وہ اپنے استاد کی جوتیا ں توسَر پر اُٹھا لیتے تھے ا ور استاد کے سامنے زبان بھی نہیں کھولتے تھے مگر اُستاد کے پیچھے نماز پڑھنے کے روادار نہیں تھے۔
ہم نے اس بارے میں اشرفی مرحوم سے سوال کیا کہ’’ آپ اُستاد کی جوتیاں سَرپر اُٹھا لیتے تھے مگر اُنھیں اپنا امام نہیں بناتے تھے۔ آخر کیوں۔؟‘‘۔
۔۔ جواب ملا:۔۔۔’’ میاں! بہ حیثیت استاد اُن کا جو حقِ احترام تھا وہ مَیں ادا کرتا تھا اورمجھے کرنا چاہیے تھا، مگر میرےعقیدے کی رَوشنی میں میرا ضمیر مجھے ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے روکتا تھا سو مَیں نے نماز میں اُن کی اقتدا نہیں کی۔ میاں! ایک بات یاد رکھو کہ کسی بھی معاملے میں اگر ضمیر تم سے اختلاف کرے
تو ۔۔ ضمیر۔۔ کی بات ماننا۔ اِسی میں دونوں جہان کی عافیت ہے۔۔۔‘‘
مگر ایک بات اس سے متضاد بھی یاد آتی ہے، فرمایا گیا: ضمیر کی شکل میں کبھی نفس بھی ہمیں اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے ،ا س صورت میں ’ ضمیر‘ کی نمک حرامی واجب ہوجاتی ہے۔سو ،اِنسان کو کبھی نمک حرام بھی بننا پڑتا ہے۔
آج ہمارے ایک کرم فرما معروف اعظمی ملے اور انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ2014 میں جب مودی نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تو صوبوں کے گورنر بھی تبدیل کیے گئے مگر اس وقت کے تین گورنر ایسے تھے جنہیں ہٹایا نہیں گیا،اُن میں سے ایک رام نریش یادو( جو کسی وقت اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ رہ چکے تھے) ، دوسرے تھے ہمارے شہر( ممبئی ) کے مشہور کانگریسی لیڈر سید احمد اور تیسرے گورنر عزیز قریشی تھے جنہیں بہ حیثیت گورنرآخری دنوں میں اتر پردیش کااضافی چارج بھی دِیاگیا تھا۔ روایت ہے کہ مرکزی حکومت کی اعلیٰ قیادت نے تینوں گورنروں کو بلایا اور کچھ ہدایات بھی دی گئیں کہ جن کا مقصد یہ تھا کہ اگر اس
عہدۂ جلیلہ پر رہنا چاہتے ہو تو ہمارے اِشاروں کو سمجھتے ہوئے کام کرنا ہوگا۔ بقول معروف اعظمی، عزیز قریشی کو اشارہ دیا گیا کہ وہ یوپی میں مجوزہ’ مولانا محمد علی جوہر یونی ورسٹی‘ کو منظوری ہرگز نہ دیں۔
عزیز قریشی دِلیّ سے لکھنؤ کے گورنر ہاؤس جیسے پہنچے تو انہوں نےسب سے پہلے اس مجوزہ یونی ورسٹی کی فائل طلب کی اور اس پر گہری نگاہ ڈالنے کے بعد اس فائل پر اپنی منظوری کی دستخط ثبت کردِیے اور اس طرح جوہرؔیونی ورسٹی کے قیام کو ہری جھنڈی دِکھا دی۔ اس عمل کے بعد جو ہونا تھا وہی ہوا اور عزیز قریشی کو راج بھون(گورنر ہاؤس) سے باہر آ نا پڑا ، تو یہ عمل وہی تھا جسے ڈاکٹر ظ انصاری نے’ ضمیر ‘ کی نمک حرامی سے تعبیر کیا تھا۔
عزیز قریشی کو چاہیے تو یہ تھا کہ حکومتِ وقت نے انھیں گورنر کے عہدے پر بر قرار رکھا تھا ، لہٰذا اُنہیں روایتی نمک حلالی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا مگر عین موقع پر اُن کی حمیتِ ملّی نے ان کو حکومتِ وقت کی نمک حرامی کی راہ دکھا دِی مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اصل نمک حلالی تو ضمیر ہی کی ہوتی ہے اور وہی ضمیر جسے ہم نے ابھی’’ حمیت مِلّی‘ ‘کا نام دیا ہے مگر یہ بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ ضمیر کا یہ نمک بسا اوقات عجب عجب مکھوٹہ لگا کر آتا ہے اگر آپ واقعی ضمیر شناس ہیں تو بچ جائیں گے ورنہ تو کتنے افراد نہیں۔۔ اشخاص۔۔ بھی بظاہر ضمیر کے ساتھ ہوتے ہیں مگر وہ خلافِ ضمیر عمل کرجاتے ہیں۔ تو جناب! اسی عمل میں کہیں نمک حرامی کا فلسفہ پوشیدہ ہے۔ وہ لوگ جو نیک نفس اور پاک طینت ہوتے ہیں تو فطرت بھی ان کا ساتھ دیتی ہے۔ ورنہ تو دُنیا کی گاڑی چلتی ہی رہتی ہے رُکتی کہاں ہے، اب یہ آپ پر ہے کب گاڑی پر سوار ہونا اور کب گاڑی کو چھوڑ دینا ہے۔ نیک نفس اور پاک طینت جیسی صفات سب کو نصیب نہیں ہوتیں یہ دونوں صفات ایک اعلیٰ ترین کیفیت کی حامل ہوتی ہیں۔
کوئی اٹھارہ بیس برس کا ایک نوجوان یاد آتا ہے وہ رات دس بجے کے آس پاس ممبئی سینٹرل لوکل ریلوے اسٹیشن پر ملتا ہےاور اس کا سوال تھا کہ مجھے امرتسر ایکسپریس سے پنجاب جانا ہے۔ ہم نے اسے اشارے سے کہا کہ ہمارے ساتھ چلو، وہ ساتھ ہو لیا اور جب دادر اسٹیشن کے پُل پر ہم دونوں پہنچے تو ہم نے دادر ٹرمنس کے پلیٹ فارم نمبر 8 کی طرف اشارہ کیا کہ وہ دیکھو امرتسر ایکسپریس آپ کا انتظار کر رہی ہے۔
اس لڑکے نے تبسم کے ساتھ اچانک ہمارے پیر چھٗوتے ہوئے کہا کہ
’’ دادا !آپ کا بہت بہت دھنیہ واد۔‘‘
اس واقعے کو بیس برس تو ہونے کو ہیں مگر اُس لڑکے کا ہمارا پیر چھٗونا اور اپنے انداز سے شکریہ ادا کرنا ہم نہیں بھولے۔ ہمارے نزدیک یہ بھی ضمیر کی ایک پاسداری ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ اس کے والدین نے اس کی کیسی تربیت کی ہوگی کہ اس نے شکریہ ادا کرنے میں اپنی سنسکرتی (تہذیب) سے روگردانی نہیں کی، کیسے وہ والدین ہوتے ہیں اور یہ کیسے بچّے!!
تاریخ میں ایسے نجانے کتنے واقعات اور اشخاص اپنے کردارِ احسن کے سبب روشن ہیں۔
باضمیری اور’’ احسان کا بدلہ احسان‘‘ کی ایک مثال اور مذکور ہوا چاہتی ہے۔ جس میں یہ بھی نوٹ کرنے کی بات ہے کہ’احسان چکانے میں لمحہ بھر‘ تاخیر نہیں کی گئی۔ ڈاکٹر ظ انصاری اپنی یادوں کی گٹھری سے کچھ درج کر گئے ہیں۔ میرٹھ کا یہ واقعہ پڑھیے اور اپنے ضمیر کو ٹٹولیے:
’’اُفوّہ ! یہ نئے کوارٹر۔ پہلے تویہاں ترکاریوں کے کھیت پھیلے ہوئے تھے اور کھیتوں کے اُدھر فٹ بال گراؤنڈ تھا ۔۔۔۔قریب تھا کہ میں دَس قدم بڑھ کرمِل کے نالے پر دَم لینے کے لئے بیٹھ جاؤں اورآنکھیں بند کرکے ان یادوں کو پھر جگاؤں جن کی خوشبو میری سانسوں میں گھلی جارہی ہے کہ اتنے میں سڑک کے اُدھر سے کسی نے آوازدِی۔
’بابوجی … پلیز …وَن منٹ ‘
میں چونکا کہ شاید کوئی مجھی کو پکاررہا ہے مگر یہ آواز کچھ سُنی ہوئی سی ہے میں تھم گیا اور میرے جواب دینے سے پہلے ہی اس شخص نے اپنی داستان کہنی شروع کردی۔۔۔
’ بابوجی، میں کلکتے کا ایک بیوپاری ہوں۔ قینچیوں کا اچھا خاصا میراکاروبار ہے۔ میرٹھ پہلی بار بزنس کے لئے آیا تھا۔ راستے میں آنکھ لگ گئی۔ سارا سامان بھی لٹ گیا اور جیب بھی کٹ گئی ۔ میں یہاں کسی کو جانتا نہیں ۔ پورا دِن گزرگیا ہے کہ ایک کھیل اُڑ کر منہ میں نہیں گئی میرے حال پر کرم کیجئے اتنی مدد کردِیجئے کہ گھر کو تاردے کر روپیہ منگالوں اور دولقمے پیٹ میں ڈال لوں۔ میں نے کبھی ہاتھ نہیں پھیلایا ۔‘
میں نے شام کے اندھیرے میں غورسے کلکتہ کے بیوپاری کو دیکھا۔ وہ بولتا چلا جارہا تھا :
’ میری عزت رکھ لیجئے اوراپنا پتہ لکھوادِیجئے۔ بھگوان کی سوگند مَیں آپ کو کلکتے سے روپیہ آتے ہی منی آرڈرکردوں گا بابوجی ۔‘۔۔۔
میرے دماغ میں بجلی سی چمکی ، مَیں نے جلدی سے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور اپنی گھبراہٹ کو چھپاتے ہوئے جو کچھ ہاتھ میں آیا اس کی مُٹھی پر رکھ دیا۔ روپیہ لینے کے بعد اس نے پتہ لکھنے پر اصرار نہیں کیا۔وہ شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا کہ میں کچھ کہے بغیر تیزی سے آگے بڑھ گیا۔
مجھے اندیشہ تھا کہ میں نے ظہور سیٹھ کو پہچان لیا ہے توکہیں میری آواز سے وہ مجھے پہچان نہ لے اور روپیہ پٹک کر بھاگ جائے۔
حالانکہ یہ ادنا، سی رقم ان روپیوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھی جو وہ مجھے اور میرے مرحوم اُستاد کو دے کر بھول چکا تھا۔ ‘‘ ٭













