طیارہ حادثہ میں جاں بحق 3غیرملکیوں کے علاوہ تمام افرادکےلواحقین نےخون کےنمونےجمع کرادیے، ایئرگارڈ سمیع اللہ کی میت آبائی علاقے ڈیرہ غازی خان ، حاجی نوازخان اور حاجی تقدیرخان کی میتیں چترال پہنچادی گئیں۔ایئرہوسٹس اسما عادل کی میت گھر پہنچنے پر کہرام مچ گیا۔

پی آئی اے طیارے کے حادثے میں جاں بحق تمام پاکستانیوں کے لواحقین نے خون کے نمونے جمع کرادیے،جب کہ 3غيرملکیوں کے لواحقین کے ڈی این اے کیلئے نمونوں کا انتظار ہے۔جاں بحق ہونے والوں میں سے صرف 8میتیں ورثاکےسپردکی جاسکیں۔

صبر کا گھونٹ پینے والوں نے اپنے پیاروں کے بچھڑنے کا غم توبرداشت کر لیا،لیکن ان کی میتیں تلاش کرنے کا مرحلہ امتحان بن گیا۔

پی آئی اے کے بد قسمت طیارے 661 کے حادثے میں جاں بحق تمام پاکستانیوں کے لواحقين نے خون کے نمونے جمع کرایے۔ جب کہ پمز انتظامیہ کو تین غيرملکیوں ہينگ کينگ،ہارونگ اور سچل بينگر کے لواحقین کا ڈی این اے کیلئے نمونوں کا انتظار ہے۔

پمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حاصل شدہ تمام لواحقین کے خون کے نمونے ترجیحی بنیادوں پر لیبارٹریز بھیجے جارہے ہیں۔ اسپتال میں قائم خصوصی ڈيسک آخری لواحقین کے آنے اور ان کے ڈی این اے لینے تک کام کرتا رہے گا۔

ادھر اسپتال انتظامیہ نے جن کی میتیں ورثا کے سپرد کر دیں انہیں تو قرار آ ہی جائے گا لیکن جن کی میتیوں کی شناخت اب تک نہ ہو سکیں ان لواحقین کے لئے پل پل کاٹنا مشکل ہو گیا ہے۔

پمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ میں 6 سے 7 دن درکار ہوتے ہیں،کوشش ہے میتیں ڈی این اے رپورٹ کے فورا بعد لواحقین کے حوالے کر دیں۔

دوسری طرف پی آئی اے کے طیارے کے حادثے کے مقام پر 8 رکنی تحقیقاتی ٹیم کی آمد ہوئی ہے ۔ٹیم میں سول ایوی ایشن، پی آئی اے اور دیگر ایجنسیوں کے اہلکار شامل ہیں۔پولیس نے طیارہ حادثے کی جگہ کو سیل کررکھا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY