مودی سرکار نے اپنے نظریےکیلئے آئین،عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی، وزیراعظم

0
563

وزیر اعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق کہا ہے کہ مودی سرکار نے اپنے نظریے کے لیے بھارتی آئین اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی۔

بھارتی حکومت کی جانب سے آئین میں کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے کئی گھنٹے کے التوا کے بعد شروع ہونے والے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان پالیسی بیان دے رہے ہیں۔**

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوبارہ آغاز پر وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق قرارداد پیش کی۔

مشترکہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں اس اجلاس کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے، اس اجلاس کو صرف پاکستانی قوم نہیں دیکھ رہی بلکہ کشمیری اور پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن اسی طرح شور کرنا چاہتی ہے تو میں بیٹھ جاتا ہوں جس پر شہباز شریف نے کہا کہ میں اپنے دوستوں سے گزارش کرتا ہوں کہ اسے سنے پھر ہم اس کا مدلل جواب دیں گے۔

اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اس سیشن کی اہمیت صرف کشمیریوں، پاکستان کے لیے نہیں بلکہ بھارت نے جو فیصلہ کیا اس کے اثرات پوری دنیا پر ہوں گے، یہ بہت اہم ہے کہ تحمل سے سنیں کہ آج یہاں سے بہت اہم پیغام جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میری حکومت کی اولین ترجیح تھی کہ پاکستان میں غربت کو ختم کیا جائے اس کے لیے تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کیے جائیں کیونکہ عدم استحکام کے اثرات شرح نمو پر مرتب ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے تمام پڑوسیوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی کہ خطے میں سرمایہ کاری آئے گی تو غربت کا خاتمہ ہوگا، میں نے بھارت سے رابطہ کیا کہ آپ ایک قدم ہماری طرف بڑھائیں گے ہم دو بڑھائیں گے، افغانستان، چین اور دیگر ممالک کا دورہ کیا اور حال ہی میں امریکا کا دورہ کیا۔

عمران خان نے کہا کہ امریکا کا دورہ اسی کوشش کی کڑی تھی کہ ماضی میں جو بھی مسائل تھے وہ ختم ہوں تاکہ پاکستان کو استحکام ملے، ترقی ملے اور غربت کا خاتمہ ہوسکے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ نریندر مودی نے پاکستان میں دہشت گردوں کی موجودگی کے خدشات کا اظہار کیا تھا، ہم نے انہیں سمجھایا کہ 2014 میں سانحہ آرمی پبلک اسکول ہوا تو تمام سیاسی جماعتوں نے نیشنل ایکشن پلان (نیپ) منظور کیا تھا کہ پاکستان کی زمین کو کسی دہشت گرد گروہ کی جانب سے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بھارت سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا لیکن وہ اس میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے، اس کے بعد پلوامہ واقعہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پلوامہ میں نریندر مودی کو سمجھایا کہ اس میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، لیکن اس وقت بھارت میں انتخابات تھے اور انہیں کشمیر میں ہونے والے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانی تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کا مقصد جنگی جنون اور پاکستان مخالف جذبات پیدا کر کے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا تھا، بھارت نے ڈوزیئر بعد میں بھیجا طیارے پہلے بھیجے اور پاک فضائیہ نے بھرپور جواب دیا، ہم نے ان کا پائلٹ پکڑا تو یہ بتانے کے لیے رہا کیا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ہم بھارتی انتخابات تک خاموش ہوگئے، بشکیک میں منعقد کانفرنس میں بھارت کا رویہ دیکھ کر ہمیں احساس ہوا کہ وہ ہماری امن کی کوششوں کو غلط سمجھ رہے ہیں اسے ہماری کمزوری سمجھ رہے ہیں، اس لیے ہم نے مزید بات چیت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دو طرفہ طور پر یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ رہا اور برصغیر میں مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ایک ارب افراد متاثر ہورہے ہیں اس لیے امریکی صدر سے ملاقات میں درخواست کی کہ وہ ثالثی کا کردار ادا کریں اور بھارت کا رد عمل آپ کے سامنے تھا۔

عمران خان نے کہا کہ بشکیک میں اندازہ ہوگیا تھا کہ بھارت کو ہم سے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں اور اس حوالے سے مجھے جو شبہ تھا وہ کل سامنے آگیا۔

قرارداد میں آرٹیکل 370 کا ذکر نہ ہونے پر اپوزیشن کا احتجاج
خیال رہے کہ پارلیمان کا مشترکہ صدر مملکت عارف علوی نے طلب کیا تھا، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر بھی شریک ہوئے جنہوں نے بازو پر سیاہ پٹی باندھ رکھی تھی۔

اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن سے کیا گیا، قومی ترانے کے بعد وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے قرارداد پیش کی جس میں بھارتی فورسز کی جانب سے شہری آبادی کو بلااشتعال فائرنگ اور شیلنگ سے نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافے کا ذکر شامل تھا۔

تاہم اس قرارداد میں بھارت کی جانب سے ختم کی گئی مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کی دفعہ 370 کا ذکر نہ ہونے پر اپوزیشن اراکین نے احتجاج شروع کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیلئے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ قرارداد میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کا ذکر ہی نہیں اس کو شامل ہونا چاہیے۔

مذکورہ مطالبے کی وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے بھی تائید کی، جس کے بعد اسپیکر اسد قیصر کی ہدایت پر اعظم سواتی نے ترمیم شدہ قرارداد ایوان میں پڑھتے ہوئے اس میں آرٹیکل 370 کا ذکر شامل کیا۔

تاہم اپوزیشن نے احتجاج جاری رکھا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور کسی بھی حکومتی رکن کو بات کرنے نہیں دی، جس کے بعد اسپیکر نے 20 منٹ کے لیے ایوان کا مشترکہ اجلاس ملتوی کردیا۔

تاہم 20 منٹ کے لیے ملتوی کیا جانے والے اجلاس کئی گھنٹے بعد دوبارہ شروع ہوا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز بھی منعقد ہوا تھا تاہم قرآن کی تلاوت اور قومی ترانہ کے بعد فوری طور پر یہ کہہ کر ملتوی کردیا گیا تھا کہ ‘حالیہ واقعات کی روشنی میں اسمبلی کا معمول کے مطابق اجلاس نامناسب ہے‘۔

مزید پڑھیں: ’بی جے پی سرکار نے انتخابات جیتنے کے زعم میں خطرناک کھیل کھیلا ہے‘

خیال رہے کہ گزشتہ روز بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری وہ پہلے اپوزیشن رہنما تھے جنہوں نے فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

’وزیراعظم مسئلہ کشمیر پر عالمی سطح پر رابطے کررہے ہیں‘
وقفے کے دوران وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن ہمیں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان کا بچہ بچہ کشمیر کا مقدمہ لڑ رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، پاکستان اور کشمیر لازم و ملزوم ہیں، پاکستان کشمیر کے بغیر ادھورا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہونے والے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے کشمیریوں کی امیدیں وابستہ ہیں اور اس ایشو پر حکومت اپوزیشن نے مل کر بے گناہ کشمیریوں کی سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان بین الاقوامی سطح پر رابطے کررہے ہیں اور مختلف ممالک کے سربراہان سے بات چیت کررہے ہیں تا کہ متعلقہ عالمی فورمز پر کشمیر کا مقدمہ بہتر طریقے سے پیش کیا جائے جس کے بارے میں وہ آج پارلیمان کو اعتماد میں لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی عوام کا کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی

انہوں نے بتایا کہ اعظم سواتی کی پیش کردہ قرارداد میں بھارت کو نشانہ بنایا گیا تھا لیکن اگر اپوزیشن کی خواہش ہے کہ قرارداد میں کشمیر کی حثیت کا ذکر کیا جائے تو حکومت اس میں دفعہ 370 کی منسوخی کے معاملے کو شامل کرنے کی خواہش کا احترام کرے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا مذکورہ قرارداد میں کشمیر کے مسئلے پر ہمارا دوٹوک، باہمی یکجہتی اور اتفاقِ رائے پر مبنی موقف پارلیمان کے ذریعے دیا جائے گا جبکہ کل بھی اپوزیشن نے پاکستان کے بیانیے کی تائید کی تھی جس پر میں نے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔

‘حکومت کی پالیسی پر شدید اختلاف رکھتے ہیں‘
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ‘کشمیر کی حرمت کے لیے پاکستان کا بچہ بچہ قربانی دینے کے لیے تیار ہے لیکن ہمارا پالا نااہل حکومت سے پڑا ہے جو اس اہم موقع پر لوگوں کو متحد رکھنے میں ناکام رہی۔’

انہوں نے کہا کہ ‘بھارت نے یکطرفہ طور پر وہ قدم اٹھایا جس کی اسے 72 سال میں جرات نہ ہو سکی، مودی سرکار نے اقوام متحدہ کی قرارداد کے فیصلے کو ردی میں پھینکنے کی کوشش کی، بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی، بھارت کے اتنے بڑے اقدام کا ذکر قرارداد میں نہ ہونے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا۔’

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے گرفتار اراکین کے پروڈکشن آرڈر کو بھی مسئلہ نہیں بنایا لیکن ہمارے لیے حکومت کی پیش کردہ قرارداد ناقابل قبول تھی، حکومت نے اپوزیشن کے احتجاج کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی جبکہ حکومت ایوان کو تقسیم رکھنا چاہتی ہے تو اس کا فیصلہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان اسمبلی کا کشمیر کے لیے خصوصی اجلاس بلایا گیا، ہم جاننا چاہتے ہیں کہ بھارت کے اقدام کو قرارداد میں کس نے چھپایا، کارروائی شروع ہوئی تو وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ایوان میں موجود نہیں تھے، جاننا چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم کے لیے اس سے بڑی مصروفیات کیا ہیں؟’

احسن اقبال نے کہا کہ ‘معاملے پرغیر ملکی سفرا کو بلا کر ریڈ فلیگ بلند کیا جاتا کہ پاکستان کا موقف اس پر یہ ہے، بھارت میں غیر ملکی سفیروں کو بریفنگ دی گئی، پاکستان میں ایسا نہیں کیا گیا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیر خارجہ خصوصی طیارے پر آکر اراکین پارلیمنٹ کو بریفنگ دے کر واپس حج پر چلے جاتے۔’

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کہتے تھے کہ امریکا سے ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں، وزیر اعظم کے دورے کا نتیجہ یہ ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت بدل دی؟ جبکہ بھارت نے فروری میں ہی امریکا کو اپنے اقدام سے آگاہ کر دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسی پر شدید اختلاف رکھتے ہیں، ہم اختلاف کریں گے کیونکہ یہ نااہل حکومت ہے جبکہ اپوزیشن حکومت سے بڑھ کر کشمیر کامقدمہ لڑے گی۔’

SHARE

LEAVE A REPLY