سپریم کورٹ کی جانب سے توہین رسالت کیس میں آسیہ بی بی کو بری کئے جانے کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق آج علی الصبح سے ہی کراچی کی مختلف شاہراہوں کو رکاوٹیں لگاکر بند کردیا گیا تھا، جبکہ لاہور اور اسلام آباد میں ٹریفک جزوی طور پر بحال رہی،مگر کچھ علاقوں میں تاحال سڑکیں بلاک ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف کراچی میں نو مقامات پر دھرنے جاری ہے، جن میں اسٹار گیٹ، شاہراہ فیصل، نمائش، لیاقت نمبر دس، سہراب گوٹھ، کورنگی پانچ،بلدیہ نمبر چار، نیو کراچی کے علاقے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ لاہور میں مظاہرین نے چیئرنگ کراس، مال روڈ ، داتا دربار اور شاہدرہ چوک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کردیا ہے
دوسری جانب اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والا فیض آباد انٹر چینج بھی ہرقسم کی ٹریفک کے لئے بند ہیں۔
موٹر وے ترجمان کے مطابق پنڈی بھٹیاں لاہور، پنڈی بھٹیاں فیصل آباد،فیصل آباد اور گوجرہ موٹر وے بھی ٹریفک کے لئے بند ہیں۔
گذشتہ روز آسیہ بی بی کو سپریم کورٹ کی جانب سے بری کیے جانے کے بعد مذہبی جماعتوں کی جانب سے ہونے والے احتجاج کے پیش نظر سندھ بھر میں 10 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی۔
محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے میں 10 روز کیلئے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ جلسے، جلوس، ریلیوں اور 4 سے زائد افراد کے اجتماع پر بھی 10 روز کیلئے پابندی ہوگی۔نوٹیفکیشن کے مطابق سندھ میں اسلحہ لے کر چلنے کے اجازت نامے بھی 10 روز کیلئے منسوخ کردیئے گئے ہیں۔ تاہم صحافی، پولیس اہلکار، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں، سیکیورٹی گارڈز اور رجسٹرڈ پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیوں کے اہلکار اپنی ڈیوٹی کے اوقات کے دوران اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
دوسری جانب کراچی پرائیوٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے حالات خراب رہنے کی صورت میں آج تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کررکھا ہے،پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کراچی میں خراب حالات اور بند راستوں کے باعث طلباء اسکول نہیں پہنچ نہیں سکتے تھے تاہم حالات ایسے ہی رہے تو کل تعلیمی ادارے بند رکھیں گے۔













