یہی تمنا ہے نگہت نسیم کے دل میں

0
65

نبی کی نعت لکھوں یہ کہاں مجال مجھے

خدا کرے کہ ملے یہ بھی اب کمال مجھے

قلم میں اب مرے خوشبو ہے نامِ احمد کی

میں جانتی ہوں نہ آئے گا اب زوال مجھے

یہ کیا کہ چاروں طرف ہے منافقوں کا ہجوم

میں گر رہی ہوں خداوندا اب سنبھال مجھے

اے خاکِ بطحا رگوں میں اُتر لہو کی طرح

محبتوں کے سمندر کبھی اچھال مجھے

مدینے والے سے جس دن سے ہے سوال کیا

کسی سے آتا نہیں کرنا اب سوال مجھے

ہو میری روح کے زخموں پہ سایۂ رحمت

مرے وجود سے باہر دے اب نکال مجھے

سوائے ارضِ مدینہ کے روئے جنت کی

زمیں پہ ملتی نہیں ہے کوئی مثال مجھے

جمالِ خالقِ اکبر نبی کے نام میں ہے

اے کاش مرتے نظر آئے یہ جمال مجھے

زمینِ شہرِ مدینہ کو اوڑھ کر سو لوں

نصیب میں جو زیارت ہو اگلے سال مجھے

یہی تمنا ہے نگہت نسیم کے دل میں

بروز حشر بچا لے نبی کی آل مجھے

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY