یہی تمنا ہے نگہت نسیم کے دل میں

0
1308

نبی کی نعت لکھوں یہ کہاں مجال مجھے

خدا کرے کہ ملے یہ بھی اب کمال مجھے

قلم میں اب مرے خوشبو ہے نامِ احمد کی

میں جانتی ہوں نہ آئے گا اب زوال مجھے

یہ کیا کہ چاروں طرف ہے منافقوں کا ہجوم

میں گر رہی ہوں خداوندا اب سنبھال مجھے

اے خاکِ بطحا رگوں میں اُتر لہو کی طرح

محبتوں کے سمندر کبھی اچھال مجھے

مدینے والے سے جس دن سے ہے سوال کیا

کسی سے آتا نہیں کرنا اب سوال مجھے

ہو میری روح کے زخموں پہ سایۂ رحمت

مرے وجود سے باہر دے اب نکال مجھے

سوائے ارضِ مدینہ کے روئے جنت کی

زمیں پہ ملتی نہیں ہے کوئی مثال مجھے

جمالِ خالقِ اکبر نبی کے نام میں ہے

اے کاش مرتے نظر آئے یہ جمال مجھے

زمینِ شہرِ مدینہ کو اوڑھ کر سو لوں

نصیب میں جو زیارت ہو اگلے سال مجھے

یہی تمنا ہے نگہت نسیم کے دل میں

بروز حشر بچا لے نبی کی آل مجھے

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY