نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے عالمی برادری اور جنوبی ایشائی سے کشمیریوں کی تکلیف کی جانب توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔
ملالہ یوسف زئی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر غم کا اظہار کیا اور کہا کہ 7 دہائیوں سے کشمیر کے بچے صرف تشدد کے درمیان پروان چڑھے ہیں، عورتوں اور بچوں کو کشیدہ حالات میں سب سے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، مجھے کشمیری عورتوں اور بچوں کے غیرمحفوظ ہونے پر تشویش لاحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ اختلافات بھلا کر عورتوں اور بچوں کی حفاظت کو ترجیح دینا چاہیے، انہیں کشمیر کی فکر ہے کیوں کہ جنوبی ایشیاء ان کا گھر ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی سرکار کے ڈھائے جانے والے مظالم پر ملالہ یوسف زئی نے کہا کشمیر کے عوام صدیوں سے ظلم سہہ رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ جب وہ بچپن میں تھیں اور اُن کے والدین کے بچپن سے اور ان کے دادا دادی جوان تھے، کشمیری اُس وقت سے ایسے ہی کشیدہ حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
ملالہ نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ہم سب مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ اور امن کے ساتھ رہ سکتے ہیں، ہمیں مزید تکلیف سے گزرنے یا ایک دوسرے کو تکلیف دینے کی ضرورت نہیں۔












