خطبہ حجتہ الواداع انسانی حقوق کا مکمل ترین چارٹر

0
1407

آج کل دنیا بھر میں انسانی حقوق یا ہیومن رائٹس کے حوالے سے بہت سے ذیادہ کام
ہو رہا ہے۔گزشتہ ایک صدی کے دوران مغرب نے انسانی حقوق کے کھوکلے نعرے اورسال میں ایک دن
انسانی حقوق کے نام سے منا کر پس پردہ اپنے مفادات اور اسلام
کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔لیکن شاید مغرب یہ بھول رہا ہے کہ جن انسانی
حقوق کے حوالے سے مغرب ایک صدی سے ڈھونڈرا کرکے خود دوغلی پالیسی کا مظاہرہ کر
رہا ہے،وہ حقوق اسلام نے قرآن مجید کی صورت میں تحریری شکل اور محمد ص و آل
محمد ؑ اہل بیت ؑ عصمت و طہارت نے نہ صرف تحریری صورت بلکہ اپنے عمل و کردار
کے زریعے چودہ صدیاں پہلے کر دکھائے ہیں۔ اس حوالے سے حضور نبی پاک ص کا حجتہ الوداع کے موقع
پر خطبتہ الوادع انسانی حقوق کا مکمل چارٹر و بنیاد کا درجہ رکھتی ہے۔اسی طرح
حضرت محمد ص کے آل پاک آئمہ اہلبت علیہ سلام بالخصوص سید الشہدا امام حسینؑ کے فرزند امام
علی زین العابدینؑ نے حقوق اللہ حقوق العباد اور انسان و معاشرے کے درمیان
باہمی حقوق کی تمام تر جزیات کی تشریح کرکے دراصل قرآن اور رسول اللہ (ص) کے
خطبہ حجتہ الوداع کی مکمل تفسیر و تشریح کر دی ہے۔ مغرب کے دوہرے معیار اور
منافقت پر مبنی انسانی حقوق کے مقابلے میں اسلام اور محمد ص و آل محمد ص
بالخصوص امام زین العابدین ؑ کے”رسالہ حقوق” نامی نادر دستاویز میں عدل الہی پر مبنی انسانی
حقوق کی اہم خصوصیات اس طرح سے ہیں، چند چیدہ خصوصیات درجہ زیل ہیں۔
یہاں قارئین کی سہولت کے لئے “رسالہ حقوق” نامی نادر دستاویز کا ویب لنک دیا جا رہا ہے۔

http://www.al-islam.org/treatise-rights-risalat-al-huquq-imam-zain-ul-abideen

) اسلام کی رو سے تمام انسان مساوی ہیں۔اگر کسی کو کسی انسان برتری اور کوئی
مقام حاصل ہے تو وہ عمل اور عقیدہ و تقوی کی بنیاد پر ہے۔

) جنگ کے دوران بے گناہ افراد بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کے تحفظ کا حق اور
زخمیوں کی دیکھ بھال کا حق، قیدیوں کے حقوق ان سب حقوق کی اسلام نے چودہ سال
پہلے وضاحت کے ساتھ ساتھ جزا و سزا کا بھی تعین کیا،مغرب اب اس سلسلے میں کام
کر رہا ہے اور وہ بھی دوہرے معیار کے ساتھ یعنی فلسطین کے مظلوموں اور اسرائیل
کے ظالموں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کا کردار۔

) دورانِ جنگ فصلوں کو تباہ کرنے اور شہری عمارتوں کو گرانے کی ممانعت انسانی
حقوق کے تحفظ کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

) اہل خانہ کے لئے کفالت کا حق۔ یعنی اسلام گھر کے سربراہ پر فرض عائد کرتا ہے
کہ وہ افرادِ خانہ کی کفالت کا بندوبست کرے۔

) ماں کے پیٹ میں پرورش پانیوالے بچے کے حقوق کاتحفظ ۔یعنی اگر خاوند اپنی
حاملہ بیوی کوطلاق دے دیتا ہے تو اس جنین کی وجہ سے جوماں کے پیٹ میں ہے،
خاوند مطلقہ عورت کے نفقہ کا ذمہ دار ہوگا۔

) اولاد کے ذریعے والدین کے حقوق کا تحفظ کیا ۔

) رشتہ داروں کے باہمی حقوق کا تحفظ۔

) اسلام نے تعلیم کو ہر فرد کا لازمی حق قرار دیا تاکہ دینی اور دنیاوی ہر
لحاظ سے اس کی تربیت ہو سکے۔ اور پھر اس حق کواس قدر تفصیل اورتاکید کے ساتھ
بیان کیا کہ انسانی حقوق کا عالمی چارٹر اس کے مقابلے میں کچھ بھی حیثیت نہیں
رکھتا ۔
) خود مختاری اور استعماری زنجیروں سے آزادی کا حق۔عالمی چارٹر میں اس کا ذکر
مختلف نوعیت کا ہے

) کسی بھی جائز ذریعہ معاش کو اختیار کرنے کا حق اور سود لینے کی مخالفت۔لیکن
مغرب کا نطام اقتصاد سود و ظلم پر مبنی جس میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر
ہو رہا ہے،جس کی وجہ وال سٹریٹ پر قبضہ کرو نامی تحریک امریکہ سے یورپ تک
پھیلتی رہی ہے۔

) اچھے کاموں کی طرف دعوت دینے اوربرے کاموں سے روکنے کا حق یعنی آزادی تقریر
و تحریر کا حق،لیکن مغرب میں اس حق کو الٹا پیش کرکے اظہار آذادی کے نام پر
اللہ و انبیا علیہ سلام کے بارے میں ہرزہ سرائی اور گستاخی پر مبنی خاکے تک
شائع کرنے سے دریغ نہیں کیا گیا.

) افرد کے لئے اپنے مقدسات کی توہین پر احتجاج کا حق ،یا ظالم کے ظالم کے خلاف
قیام و مزاحمت کا حق۔

ولی فقیہہ امر المسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای انسانی حقوق کے حوالے سے
امریکہ و مغرب کے دوہرے معیار کے متعلق فرماتے ہیں کہ ایک لطیفہ یہ ہے کہ
۔۔امریکہ انسانی حقوق کی بات کرتا ہے۔۔۔۔وہ امریکہ جس نے ہیروشیما پر ایٹم بم
پھیکا۔۔۔جس نے عراق و افغانستان پر چڑھائی کرکے دنیا بھر میں ظلم و جبر کے لئے
ابوغریب و گونتاناموبے جسیے عقوبت خانے قائم کئے ۔۔۔

اسی طرح ولی فقیہہ امر المسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ فرماتے ہیں کہ امام
زین العابدین علیہ سلام جنہیں امام سجاد ؑ بھی کیا جاتا ہے،امام سجاد کے دور
میں امام سجادٴ کا ايک رسالہ حقوق سے متعلق ہے جودراصل آپ کا ايک نہايت ہي
مفصل خط ہے اور ہماري اصلاح ميں اس کو ايک مستقل رسالے کي حيثيت حاصل ہو گئي
ہے‘جي ہاں! يہ کتاب جو رسالہ حقوق کے نام سے مشہور ہے حضرت کا ايک خط ہے جو آپ
نے اپنے کسي محب کو لکھا تھا اور اس ميں ايک دوسرے کے ذمے انساني حقوق و ذمہ
داریوں کا ذکر فرمايا ہے،يقيناً يہ ايک رسالہ سے کم نہيں ہے ۔ امام عليہ اسلام
نے اس خط ميں مختلف جہتوں سے لوگوں کے ايک دوسرے پر کيا حقوق ہيں ان کا تفصيلي
جائزہ پيش کيا ہے۔ مثلاًخدا کے حقوق ،اعضائ و جوارح کے حقوق،جان کے حقوق،آنکھ
کے حقوق،زبان کے حقوق،ہاتھ کے حقوق وغیرہ اسي طرح اسلامي معاشرہ پر حاکم و
فرمان روا کے عوام پر کيا حقوق ہيں ۔ عوام کے حاکم کے کيا حقوق ہيں ، دوستوں
کے حقوق ، پڑوسيوں کے حقوق،اہل خاندان کے حقوق ۔۔ اور ان تمام حقوق کا اس
عنوان سے ذکر کيا گيا ہے جس کا ايک اسلامي نظام ميں زندگي بسر کرنے والے شخص
کو پاس و لحاظ رکھنا ضروري ہے گويا امام عليہ اسلام نے بڑے ہي نرم انداز ميں
حکومت سے مقابلہ آرائي يا آئندہ نظام کا حوالہ ديئے بغیر مستقبل ميں قائم کئے
جانے والے نظام کي بنيادوں کو بيان کر ديا ہے کہ اگر ايک روز خود امام سجاد
عليہ اسلام کے زمانہ حيات ميں ( جس کا اگرچہ احتمال نہيں پايا جاتا تھا) يا آپ
کے بعد آنے والے زمانہ ميں اسلامي نظام حکومت قائم ہوجائے تو مسلمانوں کے ذہن
ايک دوسرے کے ذمے عائد ہونے والي ذمہ داريوں سے پہلے سے مانوس رہيں ۔دوسرے
لفظوں ميں لوگوں کو آئندہ متوقع اسلامي حکومت کے اسلام سے آشنا بنا دينا چاہتے
ہيں ۔ يہ بھي امام عليہ اسلام کے بيانات کي ايک قسم ہے جو بہت ہي زيادہ قابل
توجہ ہے۔
ايک قسم وہ بھي ہے جس کا آپ صحيفہ ئ سجاديہ(جسے صحیفئہ کاملہ یا زبور آل محمدؑ
بھی کہا جاتاہے) ميں مشاہدہ فرماتے ہيں ظاہر ہے صحيفہ سجاديہ سے متعلق کسي بحث
کے لئے بڑي تفصيل و تشريح کي ضرورت ہے ۔ مناسب يہي ہے کہ کوئي اس کتاب پر
باقاعدہ کام کرے صحيفہ سجاديہ دعاوں کا ايک ايسا مجموعہ ہے جس ميں ان تمام
موضوعات کو موروسخن قرار دياگيا ہے جن کي طرف بيدار و ہو شمند زندگي ميں انسان
متوجہ ہوتا ہے۔ ان دعاوں ميں زيادہ تر انسان کے قلبي روابط اور معنوي ارتباطات
پر تکيہ کيا گیا ہے اس ميں بے شمار مناجاتیں اور دعائيں مختلف انداز سے معنوي
ارتقا کي خوہش وآرزو ہيں امام عليہ اسلام ان دعاوں کے ضمن ميں دعاوں کي ہي
زبان سے لوگوں کو ذہنوں ميں اسلامي زندگي کا ذوق و شعور بيدار کرنے کي کوشش
کرتے ہيں ۔

ايک اسلامي معاشرہ وجود ميں لانے کے لئے فکري و ذہني طور پر زمين ہموار کرنا
تمام چيزوں سے زيادہ لازم و ضروري ہے۔ اور يہ ذہني و فکري آمادگي، اس وقت کے
ماحول اور حالات ميں ، جس سے عالم اسلام دوچار تھا، جو يقيناً ايک طويل مدت کا
طالب ہے اور يہي وہ کام ہے جو امام زين العابدين عليہ اسلام نے تمام تر زحمت
اور مصيبت کے باوجود اپنے ذمہ ليا تھا۔اس عظيم ذمہ داري کے دوش بدوش امام
سجادٴ کي زندگي ميں ايک اور تلاش و جستجو جلوہ گر نظر آتي ہے جو دراصل سابق کي
تيار کردہ زمين کومزيد ہموار کرنے کي طرف امامٴ کے ايک اور اقدام کي مظہر
ہے۔اس طرح کي کوشش کا ايک بڑا حصہ سياسي نوعیت کا حامل ہے اور بعض اوقات بے حد
سخت شکل اختيار کر ليتا ہے۔اس کا ايک نمونہ امام عليہ اسلام کا حکومت وقت سے
وابستہ اور ان کے کارگزار محدتوں پر کڑي تنقيد ہے۔

امام زین العابدین کا شاندارکردار

حضرت امام زین العابدین کے خطبات

معرکہ کربلا کی غمگین داستان تاریخ اسلام ہی کی نہیں بلکہ تاریخ عالم کا
افسوسناک سانحہ ہے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اول سے آخرتک اس ہوش
ربا اور روح فرسا واقعہ میں اپنے باپ کے ساتھ رہے اورباپ کی شہادت کے بعد خود
اس المیہ کے ہیرو بنے اور پھرجب تک زندہ رہے اس سانحہ کا ماتم کرتے رہے ۔

۱۰/ محرم ۶۱ ھء کاواقعہ یہ اندوہناک حادثہ جس میں ۱۸/ بنی ہاشم اوربہتر اصحاب
وانصارکام آئے حضرت امام زین العابدین کی مدت العمرگھلاتا رہا اورمرتے دم تک
اس کی یاد فراموش نہ ہوئی اوراس کاصدمہ جانکاہ دور نہ ہوا، آپ یوں تو اس واقعہ
کے بعد تقریبا چالیس سال زندہ رہے مگر لطف زندگی سے محروم رہے اورکسی نے آپ کو
بشاش اور فرحناک نہ دیکھا، اس جانکاہ واقعہ کربلا کے سلسلہ میں آپ نے جوجابجا
خطبات ارشاد فرمائے ہیں ان کا ترجمہ درج ذیل ہے۔

کوفہ میں آپ کا خطبہ

کتاب لہوف ص ۶۸ میں ہے کہ کوفہ پہنچنے کے بعدامام زین العابدین نے لوگوں
کوخاموش رہنے کا اشارہ کیا، سب خاموش ہوگئے، آپ کھڑے ہوئے خدا کی حمد و ثناء
کی، حضرت نبی کا ذکر کیا، ان پرصلوات بھیجی۔ پھر ارشاد فرمایا اے لوگو! جو
مجھے جانتا ہے وہ تو پہچانتا ہی ہے جو نہیں جانتا اسے میں بتاتا ہوں میں علی
بن الحسین بن علی بن ابی طالب ہوں،میں اس کا فرزند ہوں جس کی بے حرمتی کی گئی
جس کاسامان لوٹا گیا ۔ جس کے اہل وعیال قید کر دئیے گئے۔ میں اس کا فرزند ہوں
جوساحل فرات پرذبح کردیا گیا،اوربغیرکفن ودفن چھوڑدیا گیا اور(شہادت
حسین)ہمارے فخرکے لیے کافی ہے۔ اے لوگو! تمہارا برا ہو کہ تم نے اپنے لیے
ہلاکت کا سامان مہیا کر لیا، تمہاری رائیں کس قدربری ہیں تم کن آنکھوں سے رسول
صلعم کودیکھوگے جب رسول صلعم تم سے باز پرس کریں گے کہ تم لوگوں نے میری عترت
کو قتل کیا اورمیرے اہل حرم کو ذلیل کیا ”اس لیے تم میری امت میں نہیں””۔

دمشق(شام) میں آپ کا خطبہ

مقتل ابی مخنف ص ۱۳۵، بحارالانوارجلد ۱۰ ص ۲۳۳،ریاض القدس جلد ۲ ص ۳۲۸،
اورروضة الاحباب وغیرہ میں ہے کہ جب حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اہل
حرم سمیت دربار یزید لعین میں داخل کئے گئے اور ان کومنبر پرجانے کا موقع ملا
تو آپ منبر پر تشریف لے گئے اورانبیاء کی طرح شیریں زبان میں نہایت فصاحت و
بلاغت کے ساتھ خطبہ ارشاد فرمایا:

اے لوگو! تم میں سے جو مجھے پہچانتا ہے وہ تو پہچانتا ہی ہے، اورجونہیں
پہچانتا میں اسے بتاتا ہوں کہ میں کون ہوں؟ سنو، میں علی بن الحسین بن علی بن
ابی طالب ہوں، میں اس کا فرزند ہوں جس نے حج کئے ہیں،اس کا فرزند ہوں جس نے
طواف کعبہ کیا ہے اورسعی کی ہے، میں پسر زمزم وصفاہوں، میں فرزند فاطمہ زہرا
ہوں، میں اس کا فرزند ہوں جسے پس گردن سے ذبح کیا گیا، میں اس پیاسے کا فرزند
ہوں جوپیاسا ہی دنیا سے اٹھا،میں اس کا فرزند ہوں جس پر لوگوں نے پانی بند کر
دیا، حالانکہ تمام مخلوقات پر پانی کوجائز قرار دیا،میں محمد مصطفی صلعم کا
فرزند ہوں، میں اس کا فرزند ہوں جو کربلا میںشہید کیا گیا،میں اس کا فرزند ہوں
جس کے انصارزمین میں آرام کی نیند سو گئے۔ میں اس کا پسر ہوں جس کے اہل حرم
قید کر دئے گئے میں اس کا فرزند ہوں جس کے بچے بغیرجرم و خطا ذبح کرڈالے گئے،
میں اس کا بیٹا ہوں جس کے خیموں میں آگ لگا دی گئی، میں اس کا فرزند ہوں جس کا
سرنوک نیزہ پربلند کیا گیا، میں اس کا فرزند ہوں جس کے اہل حرم کی کربلا میں
بے حرمتی کی گئی، میں اس کا فرزند ہوں جس کاجسم کربلا کی زمین پرچھوڑ دیا گیا
اورسر دوسرے مقامات پرنوک نیزہ پربلند کرکے پھرایا گیا میں اس کا فرزند ہوں جس
کے اردگرد سوائے دشمن کے کوئی اور نہ تھا،میں اس کا فرزند ہوں جس کے اہل حرم
کوقید کرکے شام تک پھرایا گیا، میں اس کا فرزند ہوں جوبے یارو مددگار تھا۔

پھر امام علیہ السلام نے فرمایا لوگو! خدا نے ہم کو پانچ فضیلت بخشی ہیں:

۱ ۔ خدا کی قسم ہمارے ہی گھرمیں فرشتوں کی آمدورفت رہی اورہم ہی معدن نبوت
ورسالت ہیں۔

۲ ۔ ہماری شان میں قرآن کی آیتیں نازل کیں، اورہم نے لوگوں کی ہدایت کی۔

۳ ۔ شجاعت ہمارے ہی گھرکی کنیز ہے،ہم کبھی کسی کی قوت وطاقت سے نہیں ڈرے
اورفصاحت ہمارا ہی حصہ ہے، جب فصحاء فخر و مباہات کریں۔

۴ ۔ ہم ہی صراط مستقیم اورہدایت کا مرکز ہیں اوراس کے لیے علم کا سرچشمہ ہیں
جوعلم حاصل کرناچاہے اوردنیا کے مومنین کے دلوں میں ہماری محبت ہے۔

۵ ۔ ہمارے ہی مرتبے آسمانوں اورزمینوں میں بلند ہیں، اگرہم نہ ہوتے توخدا دنیا
کو پیدا ہی نہ کرتا، ہر فخرہمارے فخرکے سامنے پست ہے، ہمارے دوست (روزقیامت )
سیروسیراب ہوں گے اورہمارے دشمن روزقیامت بدبختی میں ہوں گے۔

جب لوگوں نے امام زین العابدین کا کلام سنا توچینخ مار کر رونے اور پیٹنے لگے
اوران کی آوازیں بے ساختہ بلند ہونے لگیں یہ حال دیکھ کر یزید گھبرا اٹھا کہ
کہیں کوئی فتنہ نہ کھڑا ہوجائے اس نے اس کے ردعمل میں فورا موذن کوحکم دیا(کہ
اذان شروع کرکے) امام کے خطبہ کو منقطع کردے، موذن (گلدستہ اذان پرگیا) _

اورکہا”اللہ اکبر“ (خدا کی ذات سب سے بزرگ و برترہے) امام نے فرمایا تونے ایک
بڑی ذات کی بڑائی بیان کی اور ایک عظیم الشان ذات کی عظمت کا اظہارکیا اور
جوکچھ کہا”حق“ ہے ۔ پھرموذن نے کہا “اشہد ان لاالہ الااللہ” (میں گواہی دیتا
ہوں کہ خداکے سوا کوئی معبود نہیں) امام نے فرمایا میں بھی اس مقصد کے ہر گواہ
کے ساتھ گواہی دیتا ہوں اورہرانکار کرنے والے کے خلاف اقرار کرتا ہوں۔

پھرموذن نے کہ” اشہدان محمدارسول اللہ“ (میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد مصطفی
اللہ کے رسول ہیں) فبکی علی، یہ سن کرحضرت علی ابن الحسین رو پڑے اور فرمایا
اے یزیدمیں تجھ سے خدا کا واسطہ دے کرپوچھتا ہوں بتا حضرت محمد مصطفی میرے
نانا تھے یا تیرے، یزید نے کہا آپ کے، آپ نے فرمایا،پھرکیوں تونے ان کے اہلبیت
کوشہید کیا، یزید نے کوئی جواب نہ دیا اوراپنے محل میں یہ کہتا ہواچلا
گیا۔”لاحاجة لی بالصلواة“ مجھے نمازسے کوئی واسطہ نہیں،اس کے بعد منہال بن
عمرکھڑے ہوگئے اورکہا فرزندرسول آپ کا کیاحال ہے، فرمایا اے منہال ایسے شخص کا
کیاحال پوچھتے ہوجس کا باپ(نہایت بے دردی سے) شہید کردیا گیا ہو، جس کے
مددگارختم کردئیے گئے ہوں جواپنے چاروں طرف اپنے اہل حرم کوقیدی دیکھ رہا
ہو،جن کا نہ پردہ رہ گیا نہ چادریں رہ گئیں، جن کانہ کوئی مددگار ہے نہ حامی،
تم تو دیکھ رہے ہو کہ میں مقید ہوں، ذلیل و رسوا کیا گیا ہوں، نہ کوئی میرا
ناصر ہے،نہ مددگار، میں اور میرے اہل بیت لباس کہنہ مین ملبوس ہیں ہم پرنئے
لباس حرام کردئیے گئے ہیں اب جوتم میراحال پوچھتے ہوتومیں تمہارے سامنے موجود
ہوں تم دیکھ ہی رہے ہو،ہمارے دشمن ہمیں برا بھلا کہتے ہیں اورہم صبح وشام موت
کا انتظار کرتے ہیں۔

پھرفرمایاعرب وعجم اس پرفخرکرتے ہیں کہ حضرت محمد مصطفی ان میں سے تھے، اور
قریش عرب پراس لیے فخرکرتے ہیں کہ آنحضرت صلعم قریش میں سے تھے اور ہم ان کے
اہلبیت ہیں لیکن ہم کوقتل کیا گیا، ہم پرظلم کیا گیا،ہم پرمصیبتوں کے پہاڑ
توڑے گئے اورہم کوقید کرکے دربدر پھرایا گیا،گویا ہماراحسب بہت گرا ہوا ہے اور
ہمارا نسب بہت ذلیل ہے، گویا ہم عزت کی بلندیوں پرنہیں چڑھے اوربزرگوں کے فرش
پرجلوہ افروز نہیں ہوئے آج گویا تمام ملک یزید اور اس کے لشکر کا ہو گیا اور
آل مصطفی صلعم یزید کی ادنی غلام ہوگئی ہے، یہ سننا تھا کہ ہرطرف سے رونے
پیٹنے کی صدائیں بلند ہوئیں۔

یزید بہت خائف ہوا کہ کوئی فتنہ نہ کھڑا ہوجائے اس نے اس شخص سے کہا جس نے
امام کومنبر پرتشریف لے جانے کے لیے کہا تھا ”ویحک اردت بصعودہ زوال ملکی“
تیرا برا ہو توان کومنبر بربٹھا کرمیری سلطنت ختم کرناچاہتا ہے۔ اس نے جواب
دیا، بخدا میں یہ نہ جانتا تھا کہ یہ لڑکا اتنی بلند گفتگو کرے گا یزید نے کہا
کیا تونہیں جانتا کہ یہ اہلبیت نبوت اور معدن رسالت کا ایک فرد ہے، یہ سن
کرموذن سے نہ رہا گیا اوراس نے کہا اے یزید! اذاکان کذالک فلماقتلت اباہ“ جب
تو یہ جانتا تھا تو تو نے ان کے پدربزرگوارکوکیوں شہید کیا،موذن کی گفتگو سن
کر یزید برہم ہوگیا،”فامربضرب عنقہ“ اورموذن کی گردن مار دینے کاحکم دیدیا۔

مدینہ کے قریب پہنچ کر آپ کا خطبہ

مقتل ابی مخنف ص ۸۸ میں ہے (ایک سال تک قیدخانہ شام کی صعوبت برداشت کرنے کے
بعدجب اہل بیت رسول کی رہائی ہوئی اور یہ قافلہ کربلا ہوتا ہوا مدینہ کی طرف
چلا تو قریب مدینہ پہنچ کر امام علیہ السلام نے لوگوں کوخاموش ہوجانے کا اشارہ
کیا، سب کے سب خاموش ہوگئے آپ نے فرمایا:

حمد اس خدا کی جو تمام دنیا کا پروردگار ہے، روزجزاء کا مالک ہے، تمام مخلوقات
کا پیدا کرنے والا ہے جواتنا دور ہے کہ بلند آسمان سے بھی بلند ہے اوراتنا
قریب ہے کہ سامنے موجود ہے اورہماری باتوں کو سنتا ہے، ہم خدا کی تعریف کرتے
ہیں اوراس کا شکر بجالاتے ہیں عظیم حادثوں،زمانے کی ہولناک گردشوں، دردناک
غموں، خطرناک آفتوں، شدید تکلیفوں، اورقلب وجگر کو ہلا دینے والی مصیبتوں کے
نازل ہونے کے وقت اے لوگو! صرف خداکے لیے حمد ہے، ہم بڑے بڑے مصائب میں مبتلا
کئے گئے، دیواراسلام میں بہت بڑا رخنہ(شگاف) پڑ گیا، حضرت ابوعبداللہ الحسین
اوران کے اہل بیت شہی دکر دیے گئے، ان کی عورتیں اور بچے قید کر دئیے گئے
اور(لشکر یزید نے) ان کے سرہائے مبارک کوبلند نیزوں پررکھ کر شہروں میں
پھرایا، یہ وہ مصیبت ہے جس کے برابرکوئی مصیبت نہیں، اے لوگو! تم میں سے کون
مرد ہے جوشہادت حسین کے بعدخوش رہے یا کون سا دل ہے جوشہادت حسین سے غمگین نہ
ہو یا کونسی آنکھ ہے جوآنسوؤں کوروک سکے، شہادت حسین پر ساتوں آسمان روئے،
سمندر اور اس کی شاخیں روئیں، مچھلیاں اور سمندر کے گرداب روئے ملائکہ مقربین
اور تمام آسمان والے روئے، اے لوگو! کون سا قطب ہے جوشہادت حسین کی خبرسن کر
نہ پھٹ جائے، کونسا قلب ہے جومحزون نہ ہو، کونسا کان ہے جو اس مصیبت کوسن کرجس
سے دیواراسلام میں رخنہ پڑا،بہرہ نہ ہو، اے لوگو! ہماری یہ حالت تھی کہ ہم
کشاں کشاں پھرائے جاتے تھے، دربدر ٹھکرائے جاتے تھے ذلیل کئے گئے شہروں سے
دورتھے، گویا ہم کو اولاد ترک وکابل سمجھ لیا گیا تھا،حالانکہ نہ ہم نے کوئی
جرم کیا تھا نہ کسی برائی کا ارتکاب کیا تھا نہ دیواراسلام میں کوئی رخنہ ڈالا
تھا اورنہ ان چیزوں کے خلاف کیا تھاجو ہم نے اپنے آباؤ اجداد سے سنا تھا،خداکی
قسم اگرحضرت نبی بھی ان لوگوں(لشکریزید) کو ہم سے جنگ کرنے کے لیے منع کرتے
(تویہ نہ مانتے) جیسا کہ حضرت نبی نے ہماری وصایت کااعلان کیا(اوران لوگوں نے
مانا) بلکہ جتنا انہوں نے کیا ہے اس سے زیادہ سلوک کرتے،ہم خدا کے لیے ہیں
اورخدا کی طرف ہماری باز گشت ہے””
*

روضہ رسول ص پر امام علیہ السلام کی فریاد
*

مقتل ابی مخنف ص ۱۴۳ میں ہے کہ جب یہ لٹا ہوا قافلہ مدینہ میں داخل ہوا توحضرت
ام کلثوم گریہ و بکا کرتی ہوئی مسجد نبوی میں داخل ہوئیں اورعرض کی، اے نانا
آپ پرمیرا سلام ہو”انی ناعیة الیک ولدک الحسین“ میں آپ کو آپ کے فرزندحسین کی
خبرشہادت سناتی ہوں، یہ کہنا تھا کہ قبررسول سے گریہ کی صدا بلند ہوئی اور
تمام لوگ رونے لگے پھرحضرت امام زین العابدین علیہ السلام اپنے نانا کی
قبرمبارک پر تشریف لائے اوراپنے رخسار قبر مطہر سے رگڑتے ہوئے یوں فریاد کرنے
لگے:

اناجیک یا جداہ یا خیر مرسل

اناجیک محزونا علیک موجلا

سبینا کما تسبی الاماء ومسنا

حبیبک مقتول و نسلک ضائع

اسیرا و ما لی حامیا و مدافع

من الضر ما لاتحملہ الاصابع

ترجمہ: میں آپ سے فریاد کرتا ہوں اے نانا، اے تمام رسولوں میں سب سے بہتر،آپ
کا محبوب ”حسین“ شہید کر دیا گیا اور آپ کی نسل تباہ وبرباد کر دی گئی، اے
نانا میں رنج وغم کا مارا آپ سے فریاد کرتا ہوں مجھے قید کیا گیا میرا کوئی
حامی ومددگار نہ تھا۔ اے نانا ہم سب کواس طرح قید کیا گیا،جس طرح (لاوارث)
کنیزوں کوقید کیا جاتا ہے،اے نانا ہم پراتنے مصائب ڈھائے گئے جوانگلیوں پر گنے
نہیں جاسکتے۔
*

واقعہ حرہ اور امام زین العابدین علیہ السلام
*

مستند تواریخ میں ہے کہ کربلا کے بے گناہ قتل نے اسلام میں ایک تہلکہ ڈال دیا
۔جس نے بعد میں بنی عباس کو بنی امیہ کے غارت کرنے میں بڑی مدد دی چونکہ یزید
تارک الصلواة اورشارب الخمر تھا اور بیٹی بہن سے نکاح کرتا اورکتوں سے کھیلتا
تھا،اس کی ملحدانہ حرکتوں اورامام حسین کے شہید کرنے سے مدینہ میں اس قدرجوش
پھیلا کر ۶۲ ھء میں اہل مدینہ نے یزید کی معطلی کا اعلان کر دیا اورعبداللہ بن
حنظلہ کواپنا سردار بنا کریزید کے گورنرعثمان بن محمدبن ابی سفیان کو مدینہ سے
نکال دیا، سیوطی تاریخ الخلفاء میں لکھتا ہے کہ غسیل الملائکہ (حنظلہ) کہتے
ہیں کہ ہم نے اس وقت یزید کی خلافت سے انکارنہیں کیاجب تک ہمیں یہ یقین نہیں
ہوگیا کہ آسمان سے پتھربرس پڑیں گے غضب ہے کہ لوگ ماں بہنوں،اوربیٹیوں سے نکاح
کریں ۔ علانیہ شرابیں پئیں اورنمازچھوڑبیٹھیں ۔

یزید لعین نے مسلم بن عقبہ کوجوخونریزی کی کثرت کے سبب ”مسرف“ کے نام سے مشہور
ہے،فوج کثیر دے کر اہل مدینہ کی سرکوبی کوروانہ کیا ۔ اہل مدینہ نے باب الطیبہ
کے قریب مقام”حرہ“ پرشامیوں کامقابلہ کیا،گھمسان کارن پڑا،مسلمانوں کی تعداد
شامیوں سے بہت کم تھی۔ باوجودیکہ انہوں نے داد مردانگی دی،مگرآخرشکست
کھائی،مدینہ کے چیدہ چیدہ بہادر رسول اللہ کے بڑے بڑے صحابی انصارومہاجراس
ہنگامہ آفت میں شہید ہوئے، شامی شہرمیں گھس گئے مزارات کوان کی زینت وآرایش کی
خاطرمسمارکردیا،ہزاروں عورتوں سے بدکاری کی ہزاروں باکرہ لڑکیوں کا ازالہ
بکارت کر ڈالا،شہر کو لوٹ لیا،تین دن قتل عام کرایا،دس ہزارسے زائد باشندگان
مدینہ جن میں سات سومہاجروانصاراوراتنے ہی حاملان وحافظان قرآن علماء وصلحاء
ومحدث تھے اس واقعہ میں مقتول ہوئے ہزاروں لڑکے لڑکیاں غلام بنائی گئیں
اورباقی لوگوں سے بشرط قبول غلامی یزید کی بیعت لی گئی۔

مسجد نبوی اورحضرت کے حرم محترم میں گھوڑے بندھوائے گئے یہاں تک کہ لید کے
انبار لگ گئے یہ واقعہ جو تاریخ اسلام میں واقعہ حرہ کے نام سے مشہور ہے ۔ ۲۷/
ذی الحجہ ۶۳ ھء کو ہوا تھا اس واقعہ پرمولوی امیرعلی لکھتے ہیں کہ کفروبت
پرستی نے پھرغلبہ پایا، ایک فرنگی مورخ لکھتا ہے کہ کفرکا دوبارہ جنم لینا
اسلام کے لیے سخت خوفناک اورتباہی بخش ثابت ہوا بقیہ تمام مدینہ کو یزید کا
غلام بنایا گیا،جس نے انکار کیا اس کا سر اتار لیا گیا، اس رسوائی سے صرف دو
آدمی بچے ”علی بن الحسین ع امام زین العابدینؑ“ اورعلی بن عبداللہ بن عباس ان سے یزید کی بیعت بھی
نہیں لی گئی ۔

مدارس شفاخانے اوردیگررفاہ عام کی عمارتیں جوخلفاء کے زمانے میں بنائی گئیں
تھی یا توبند کردی گئیں یا مسماراورعرب پھر ایک ویرانہ بن گیا،اس کے چند مدت
بعدعلی بن الحسین کے پوتے جعفرصادق نے اپنے جدامجدعلی مرتضی کا مکتب خانہ
پھرمدینہ میں جاری کیا،مگریہ صحرا میں صرف ایک ہی سچا نخلستان تھا اس کے چاروں
طرف ظلمت وضلالت چھائی ہوئی تھی،مدینہ پھرکبھی نہ سنبھل سکا، بنی امیہ کے عہد
میں مدینہ ایسی اجڑی بستی ہوگیا کہ جب منصورعباس زیارت کومدینہ میں آیا تواسے
ایک رہنما کی ضرورت پڑی جواس کووہ مکانات بتائے جہاں ابتدائی زمانہ کے بزرگان
اسلام رہا کرتے تھے (تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۳۶، تاریخ ابوالفداء جلد ۱ ص
۱۹۱،تاریخ فخری ص ۸۶، تاریخ کامل جلد ۴ ص ۴۹،صواعق محرقہ ص ۱۳۲) ۔
*

امام زین العابدین اور فقراء مدینہ کی کفالت
*

علامہ ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فقراء
مدینہ کے سو گھروں کی کفالت فرماتے تھے اورسارا سامان ان کے گھر پہنچایا کرتے
تھے جنہیں آپ بہ بھی معلوم نہ ہونے دیتے تھے کہ یہ سامان خوردونوش رات کوکون
دے جاتا ہے آپ کا اصول یہ تھا کہ بوریاں پشت پرلاد کر گھروں میں روٹی اور آٹا
وغیرہ پہنچاتے تھے اور یہ سلسلہ تابحیات جاری رہا، بعض معززین کا کہنا ہے کہ
ہم نے اہل مدینہ کویہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ امام زین العابدین کی زندگی تک ہم
خفیہ غذائی رسد سے محروم نہیں ہوئے۔ (مطالب السؤل ص ۲۶۵،نورالابصار ص ۱۲۶) ۔
*

امام زین العابدین اور بنیاد کعبہ محترمہ و نصب حجراسود
*

۷۱ ھ میں عبدالملک بن مروان نے عراق پر لشکرکشی کرکے مصعب بن زبیر کوقتل کیا
بھر ۷۲ ھء میں حجاج بن یوسف کو ایک عظیم لشکر کے ساتھ عبداللہ بن زبیر کو قتل
کرنے کے لیے مکہ معظمہ روانہ کیا۔(ابوالفداء)۔

وہاں پہنچ کرحجاج نے ابن زبیر سے جنگ کی ابن زبیرنے زبردست مقابلہ کیا اوربہت
سی لڑائیاں ہوئیں،آخرمیں ابن زبیر محصورہوگئے اورحجاج نے ابن زبیرکوکعبہ سے
نکالنے کے لیے کعبہ پرسنگ باری شروع کردی، یہی نہیں بلکہ اسے کھدوا ڈالا، ابن
زبیرجمادی الآخر ۷۳ ھء میں قتل ہوا(تاریخ ابن الوردی)۔ اورحجاج جوخانہ کعبہ کی
بنیاد تک خراب کرچکا تھا اس کی تعمیرکی طرف متوجہ ہوا۔ علامہ صدوق کتاب علل
الشرائع میں لکھتے ہیں کہ حجاج کے ہدم کعبہ کے موقع پرلوگ اس کی مٹی تک اٹھا
کر لے گئے اورکعبہ کواس طرح لوٹ لیا کہ اس کی کوئی پرانی چیز باقی نہ رہی،
پھرحجاج کوخیال پیداہوا کہ اس کی تعمیرکرانی چاہئے چنانچہ اس نے تعمیرکا
پروگرام مرتب کر لیا اور کام شروع کرا دیا،کام کی ابھی بالکل ابتدائی منزل تھی
کہ ایک اژدھا برآمد ہو کر ایسی جگہ بیٹھ گیاجس کے ہٹے بغیر کام آگے نہیں بڑھ
سکتا تھا لوگوں نے اس واقعہ کی اطلاع حجاج کودی، حجاج گھبرا اٹھا اورلوگوں
کوجمع کرکے ان سے مشورہ کیا کہ اب کیا کرناچاہئے جب لوگ اس کاحل نکالنے سے
قاصر رہے توایک شخص نے کھڑے ہوکرکہا کہ آج کل فرزندرسول حضرت امام زین
العابدین علیہ السلام یہاں آئے ہوئے ہیں، بہترہوگا کہ ان سے دریافت کرایاجائے
یہ مسئلہ ان کے علاوہ کوئی حل نہیں کرسکتا، چنانچہ حجاج نے آپ کو زحمت تشریف
آوری دی، آپ نے فرمایا کہ اے حجاج تو نے خانہ کعبہ کواپنی میراث سمجھ لیا ہے
تو نے تو بنائے ابراہیم علیہ السلام کو اکھڑوا کر راستہ میں ڈلوا دیا ہے ”سن“
تجھے خدا اس وقت تک کعبہ کی تعمیرمیں کامیاب نہ ہونے دیے گا جب تک توکعبہ کا
لٹا ہواسامان واپس نہ منگائے گا، یہ سن کراس نے اعلان کیا کہ کعبہ سے متعلق
جوشے بھی کسی کے پاس ہووہ جلد سے جلد واپس کرے، چنانچہ لوگوں نے پتھرمٹی وغیرہ
جمع کردی جب آپ اس کی بنیاد استوارکی اورحجاج سے فرمایا کہ اس کے اوپرتعمیر
کراؤ ”فلذالک صار البیت مرتفعا“ پھراسی بنیاد پرخانہ کعبہ کی تعمیرہوئی (کتاب
الخرائج و الجرائح میں علامہ قطب راوندی لکھتے ہیں کہ جب تعمیرکعبہ اس مقام تک
پہنچی جس جگہ حجراسود نصب کرنا تھا تو یہ دشواری پیش ہوئی کہ جب کوئی
عالم،زاہد، قاضی اسے نصب کرتا تھا تو”یتزلزل ویضطرب ولایستقر“ حجراسود متزلزل
اور مضطرب رہتا اور اپنے مقام پرٹہرتا نہ تھا بالآخر امام زین العابدین علیہ
السلام بلائے گئے اورآپ نے بسم اللہ کہہ کر اسے نصب کردیا، یہ دیکھ کر لوگوں
نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا(دمعہ ساکبہ جلد ۲ ص ۴۳۷) ۔

علماء ومورخین کا بیان ہے کہ حجاج بن یوسف نے یزید بن معاویہ ہی کی طرح خانہ
کعبہ پرمنجنیق سے پتھروغیرہ پھنکوائے تھے۔
*

امام زین العابدین اور عبدالملک بن مروان کا حج
*

بادشاہ دنیاعبدالملک بن مروان اپنے عہد حکومت میں اپنے پایہ تخت سے حج کے لیے
روانہ ہو کر مکہ معظمہ پہنچا اوربادشاہ دین حضرت امام زین العابدین بھی مدینہ
سے روانہ ہو کر پہنچ گئے مناسک حج کے سلسلہ میں دونوں کا ساتھ ہو گیا، حضرت
امام زین العابدین آگے آگے چل رہے تھے اور بادشاہ پیچھے چل رہا تھا عبدالملک
بن مروان کو یہ بات ناگوارہوئی اوراس نے آپ سے کہا کیا میں نے آپ کے باپ کو
قتل کیا ہے جو آپ میری طرف متوجہ نہیں ہوتے، آپ نے فرمایا کہ جس نے میرے باپ
کوقتل کیا ہے اس نے اپنی دیناوآخرت خراب کرلی ہے کیا توبھی یہی حوصلہ رکھتا
ہے۔ اس نے کہا نہیں میرا مطلب یہ ہے کہ آپ میرے پاس آئیں تاکہ میں آپ سے کچھ
مالی سلوک کروں، آ پ نے ارشاد فرمایا مجھے تیرے مال دنیا کی ضرورت نہیں ہے
مجھے دینے والاخدا ہے یہ کہہ کر آپ نے اسی جگہ زمین پر ردائے مبارک ڈال دی
اورکعبہ کی طرف اشارہ کرکے کہا،میرے مالک اسے بھر دے، امام کی زبان سے الفاظ
کا نکلنا تھا کہ ردائے مبارک موتیوں سے بھرگئی،آپ نے اسے راہ خدا میں
دیدیا(دمعہ ساکبہ،جنات الخلود ص ۲۳) ۔
*

امام زین العابدین علیہ السلام اخلاق کی دنیا میں
*

امام زین العابدین علیہ السلام چونکہ فرزندرسول ص تھے اس لئے آپ میں سیرت محمدیہ
کاہونالازمی تھا علامہ محمدابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ کوبرا
بھلا کہا، آپ نے فرمایا بھائی میں نے تو تیرا کچھ نہیں بگاڑا، اگر کوئی حاجت
رکھتا ہے تو بتاتا کہ میں پوری کروں،وہ شرمندہ ہو کرآپ کے اخلاق کا کلمہ پڑھنے
لگا (مطالب السؤل ص ۲۶۷) ۔

علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں،ایک شخص نے آپ کی برائی آپ کے منہ پرکی، آپ نے اس
سے بے توجہی برتی، اس نے مخاطب کرکے کہا،میں تم کو کہہ رہا ہوں، آپ نے
فرمایا،میں حکم خدا”واعرض عن الجاہلین“ جاہلوں کی بات کی پرواہ نہ کرو پرعمل
کر رہا ہوں (صواعق محرقہ ص ۱۲۰) ۔

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے آ کر کہا کہ فلاں شخص آپ کی برائی
کررہا تھا آپ نے فرمایا کہ مجھے اس کے پاس لے چلو، جب وہاں پہنچے تواس سے
فرمایا بھائی جوبات تو نے میرے لیے کہی ہے، اگرمیں نے ایسا کیاہو توخدا مجھے
بخشے اوراگرنہیں کیا توخدا تجھے بخشے کہ تو نے بہتان لگایا۔

ایک روایت میں ہے کہ آپ مسجد سے نکل کرچلے توایک شخص آپ کوسخت الفاظ میں
گالیاں دینے لگا آپ نے فرمایا کہ اگرکوئی حاجت رکھتا ہے تومیں پوری کروں،
”اچھا لے“ یہ پانچ ہزاردرہم،وہ شرمندہ ہوگیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے
آپ پربہتان باندھا،آپ نے فرمایا میرے اورجہنم کے درمیان ایک گھاٹی ہے،اگرمیں
نے اسے طے کرلیا تو پرواہ نہیں جوجی چاہے کہواوراگراسے پار نہ کرسکا تومیں اس
سے زیادہ برائی کامستحق ہوں جوتم نے کی ہے (نورالابصار ص ۱۲۷ ۔ ۱۲۶) ۔

علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے بیان کیا کہ فلاں شخص آپ کوگمراہ
اوربدعتی کہتا ہے،آپ نے فرمایا افسوس ہے کہ تم نے اس کی ہمنشینی اوردوستی کا
کوئی خیال نہ کیا، اورا سکی برائی مجھ سے بیان کردی،دیکھو یہ غیبت ہے،اب ایسا
کبھی نہ کرنا(احتجاج ص ۳۰۴) ۔

جب کوئی سائل آپ کے پاس آتا تھا توخوش ومسرورہوجاتے تھے اور فرماتے تھے خدا
تیرا بھلا کرے کہ تومیرا زادراہ آخرت اٹھانے کے لیے آ گیا ہے (مطالب السؤل ص
۲۶۳) ۔ امام زین العابدین علیہ السلام صحیفہ کاملہ میں فرماتے ہیں خداوند
میراکوئی درجہ نہ بڑھا،مگریہ کہ اتنا ہی خود میرے نزدیک مجھ کوگھٹا اورمیرے
لیے کوئی ظاہری عزت نہ پیدا کرمگریہ کہ خود میرے نزدیک اتنی ہی باطنی لذت پیدا
کردے۔
*

امام زین العابدین اور صحیفہ کاملہ
*

کتاب صحیفہ کاملہ آپ کی دعاؤں کا مجموعہ ہے اس میں بے شمارعلوم وفنون کے
جوہرموجود ہیں یہ پہلی صدی کی تصنیف ہے (معالم العلماء ص )۔

اسے علماء اسلام نے زبورآل محمد اور انجیل اہلبیت کہا ہے (ینابیع المودة ص
۴۹۹،فہرست کتب خانہ طہران ص ۳۶) ۔ اوراس کی فصاحت وبلاغت معانی کو دیکھ کراسے
کتب سماویہ اورصحف لوحیہ وعرشیہ کا درجہ دیا گیا ہے (ریاض السالکین ص ۱) اس کی
چالیس شرحیں ہیں جن میں میرے نزدیک ریاض السالکین کو فوقیت حاصل ہے۔
*

امام زین العابدین عمربن عبدالعزیز کی نگاہ میں
*

۸۶ ھ میں عبدالملک بن مروان کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا ولید بن عبدالملک
خلیفہ بنایا گیا ۔ یہ حجاج بن یوسف کی طرح نہایت ظالم وجابرتھا اسی کے عہد
ظلمت مین عمربن عبدالعزیزجوکہ ولید کاچچا زاد بھائی تھا حجازکا گورنر ہوا ۔ یہ
بڑا منصف مزاج اورفیاض تھا،اسی کے عہد گورنری کا ایک واقعہ یہ ہے کہ ۸۷ ھ ء
میں سرورکائنات کے روضہ کی ایک دیوارگرگئی تھی جب اس کی مرمت کاسوال پیدا ہوا،
اوراس کی ضرورت محسوس ہوئی کہ کسی مقدس ہستی کے ہاتھ سے اس کی ابتداء کی جائے
توعمربن عبدالعزیزنے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ہی کوسب پرترجیح دی
(وفاء الوفاء جلد ۱ ص ۳۸۶) ۔

اسی نے فدک واپس کیا تھا۔
*

۲۵ پچیس محرم الحرام منقول روایت کے مطابق حضرت امام زین العابدین علیہ السلام
کی شھادت کا دن ھے۔ وہ امام کہ جو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے
فرمان کے مطابق قیامت میں ”سید العابدین“ کے نام سے پکارے جائیں گے (تاریخ
مدینہ دمشق، ج۱۴، ص ۳۷۰) ۔

خداوندعالم کی عبادت و بندگی جن و انس کی خلقت کا اصلی مقصد ھے تو پھر کس طرح
اس امام کی عظمت کے سلسلہ میں گفتگو کی جاسکتی ھے جو تمام عبادت کرنے والوں کا
سید و سردار قرار پائے۔

امام علیہ السلام کے فضائل کا اقرار تمام مکاتب فکر حتی کہ اہل تشیع کے علاوہ
اھل سنت کے بزرگ علماء نے بھی کیا ھے جیسا کہ آپ کے سلسلہ میں (امام) مالک
فرماتے ھیں: ”سمّی زین العابدین لکثرة عبادتہ“۔ (آپ کو بہت زیادہ عبادت کی وجہ
سے زین العابدین کھا جاتا ھے) (شرح احقاق الحق، ج۱۹، ص ۴۴۰) ، اسی طرح زھری کا
کھنا ھے : ”ما رائت قرشیاً افضل من علی بن الحسین“، ( میں نے قریش میں علی بن
الحسین( زین العابدین علیہ السلام) سے افضل کسی شخص کو نھیں دیکھا) (تاریخ
الاسلام ذہبی، ج۶، ص ۴۳۲.

آپ کے روحانی اقتدارکی وجہ سے بنی امیہ کے ملوکیتی بادشاہ وقت ولید بن
عبدالملک نے آپ کو زہر دیدیا، اور آپ بتاریخ ۲۵/ محرم الحرام ۹۵ ھ مطابق ۷۱۴
کو درجہ شہادت پرفائز ہو گئے امام محمد باقرعلیہ السلام نے نمازجنازہ پڑھائی
اورآپ مدینہ کے جنت البقیع میں دفن کردئیے گئے علامہ شبلنجی، علامہ ابن حجر،
علامہ ابن صباغ مالکی، علامہ سبط ابن جوزی تحریرفرماتے ہیں کہ ”وان الذی سمہ
الولیدبن عبدالملک“ جس نے آپ کو زہر دے کر شہید کیا،وہ ولید بن عبدالملک خلیفہ
وقت ہے (نورالابصار ص ۱۲۸،صواعق محرقہ ص ۱۲۰، فصول المہمہ، تذکرہ سبط ابن
جوزی، ارجح المطالب ص ۴۴۴، مناقب جلد ۴ ص ۱۳۱) ۔

ملاجامی تحریرفرماتے ہیں کہ آپ کی شہادت کے بعد آپ کا ناقہ قبر پرنالہ و فریاد
کرتا ہوا تین روزمیں مرگیا (شواہد النبوت ص ۱۷۹، شہادت کے وقت آپ کی عمر ۵۷/
سال کی تھی۔).

ظلم و جبر کی انتہا تو دیکھئے کہ بنی امیہ کی اسلام و اہلبیت دشمنی کی طرح آل
سعود نے جنت البیقیع مدینہ میں دیگر آئمہ اہلبیت ؑ بشمول خاتون جنت و جگر
گوشئہ رسول ص ،حضرت بی بی فاطمہ الزھرا سلام اللہ علیہ سمیت امام زین
العابدینؑ کھے مزارات و مقامات مقدسہ کو اپریل سن 1925 عیسوی میں شہید کرکے
بنی امیہ کی تاریخ دہرا دی۔حالانکہ آل سعود اپنے اجداد آل سعود کے نشانیوں اور
مقامات پر کروڑوں ڈالرز خرچ کر رہے ہیں ،لیکن آل رسول ص کے مزارات پر اندھیرا
ہے اور وہاں نہ ہی کوئی شمع روشن کرسکتا ہے اور نہ ہی دعا و مناجات کر سکتا
ہے۔ظلم و جبر اور ڈکٹیٹرشپ پر عمل پیرا مغرب و امریکہ کے آلئہ کارآل سعود کے
یہ اقدامات اور بغض محمد و آل محمد پر مبنی جبر کی پالیسی بھی انسانی حقوق کی
واضح خلاف ورزی ہے۔قارئین اس کی تفصیلات اس ویب لنک میں ملاحظ کریں
www.najd2.wordpress.com

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے کے چند زرین اقوال :
*

۱ ۔۔۔ اتقوا الكذب الصغيرمنه والكبير في كل جد و هزل ، فان الرجل اذا كذب في
الصغير اجترا علي الكبير .

“جھوٹ سے پرھیز کرو، چاھے وہ چھوٹا ھو یا بڑا، یا مذاق کی صورت میں ھو یا
حقیقت میں، کیونکہ انسان اگر چھوٹا جھوٹ بولنے لگے تو پھر بڑا جھوٹ بولنے کی
جرائت پیدا ھوجاتی ھے“۔

(مقدمہ منھاج الصالحین، تالیف: حضرت آیت اللہ العظمیٰ وحید خراسانی دام ظلہ، ص
۳۷۴)

۲ ۔۔۔۔۔۔ اشد ساعات ابن آدم ثلاث ساعات: الساعه التي يعاين فيها ملك الموت ،
والساعه التي يقوم فيها من قبره، والساعه التي يقف فيها بين يدي الله تبارك و
تعالي ، فاما الي الجنه و اما الي النار.

“انسان کے لئے تین موقع سب سے زیادہ سخت ھیں:

۱۔ جب وہ ملک الموت کو دیکھتا ھے۔

۲۔ جب وہ قبر سے اٹھے گا۔

۳۔ اور جب خدا کی بارگاہ میں حاضر ھوگا کہ یا جنت میں جائے گا یا دوزخ میں“۔

(خصال شیخ صدوق، ص ۱۱۹)

۳ ۔۔۔۔۔ ما ينقم الناس منا ، فنحن والله شجره النبوه و بيت الرحمه و معدن
العلم و مختلف الملائكه.

“یہ لوگ ھم سے کیا چاہتے ھیں، خدا کی قسم ھم شجرہٴ نبوت، خاندان رحمت، معدن
علم اور فرشتوں کی آمد و رفت کا مقام ھیں“۔

(کافی، ج۱، ص ۲۲۱)

۴ ۔۔۔۔۔ ما من رجل تصدق علی مسكين مستضعف فدعا له المسكين بشي ء تلك الساعه
الا استجيب له.

“کوئی شخص ایسا نھیں ھے کہ کسی مسکین اور تنگدست کو صدقہ دے اور وہ مسکین اس
شخص کے لئے دعا کرے ،مگر یہ کہ اس شخص کے بارے میں وہ دعا قبول ھوگی“۔

(ثواب الاعمال، ص ۱۴۵)

۵۔۔۔۔۔۔ ليس لك ان تقعد مع من شئت لان الله تبارك و تعالي يقول :(اذا رايت
الذين يخوضون في اياتنا فاعرض عنهم حتي يخوضوا في حديث غيره ، و اما ينيسينك
الشيطان فلا تقعد بعد الذكري مع القوم الظالمين) و ليس لك ان تتكلم بما شئت
لان الله تعالي ،قال :(ولاتقف ماليس لك به علم) ولان رسول الله صلي الله عليه
و آله قال: رحم الله عبدا قال خيرا فغنم او صمت فسلم و ليس لك ان تسمع ما شئت
لان الله تعالي يقول :(ان السمع و البصر و الفواد كل اولئك كان عنه مسؤولا).

“تمھارے لئے سزاوار نھیں ھے کہ ھر کسی کے ساتھ رفت و آمد کرو ، کیونکہ
خداوندعالم فرماتا ھے: جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ھماری نشانیوں کی مذاق
اڑاتے ھیں تو ان سے رخ منھ موڑ لو، یھاں تک کہ دوسری باتوں میں مشغول ھوجائیں۔
لیکن اگر شیطان تمھیں بھلا دے، اور بعد میں تمھیں یاد آئے تو اس ظالم گروہ کے
ساتھ نہ بیٹھو۔

اسی طرح تمھارے لئے مناسب نھیں ھے کہ ھر ایک کے ساتھ گفتگو کرو کیونکہ
خداوندعالم فرماتا ھے: جس چیز کا تمھیں علم نھیں ھے اس کی پیروی نہ کرو، اور
حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: خداوندعالم اس بندہ پر
رحمت نازل کرے جو نیک گفتگو کرے تاکہ قابل قدر بن جائے یا خاموش رھے تاکہ سالم
رھے۔

اسی طرح تمھارے لئے مناسب نھیں ھے کہ ھر چیز سنو، کیونکہ خداوندعالم فرماتا
ھے: بے شک آنکھ، کان اور دل ان سب سے سوال کیا جائے گا“۔

(علل الشرائع، ج۲، ص ۶۰۶)

ترتیب و تحریر ، ایس ایچ بنگش

SHARE

LEAVE A REPLY