روشنی حرا سے (125)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

0
412

حضرت ابوبکر اورحضرت علی کی واپسی ،بنو سعد بن بکر ،
بنی تمیم اوربنی عامر (نجدی ) وفود کی آمد

ہم گزشتہ قسط میں یہاں تک پہنچے تھے کہ 9 ھ میں پہلے حضرت ابو بکر (رض) کو حضو ر نے امیرِحج بنا کر بھیجا۔ مگر جب سو رہ برا ءت نازل ہو گئی توحضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اس کی پہلی چالیس آیتیں دیکر اعلان ِبرا ءت کے لیئے روانہ فر ما یا اور دو نوں بخیر و خو بی اپنا فرض انجا م دیکر واپس تشریف لے آئے جس پر حضور نے اظہا ر پسندیدگی فر ما یا ۔آئیے اب آگے بڑھتے ہیں ۔جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں۔کہ اس سال کو وفدوں کا سا ل بھی کہا جا تا ہے کیو نکہ اس سال سب سے زیا دہ وفد آئے۔ ان میں جہاں بہت سے لو گ مخلص تھے توددسری طرف ان میں کچھ شیطا ن بھی۔ ایک وفدبنی تمیم کا حا ضر ہوا گو کہ وہ مخلص تھے مگر بدو تھے اس لئے آداب ِ رسا لت (ص) سے واقف نہ تھے وہ جیسے ہی مسجد ِ نبو ی (ص) پہنچے، انہو ں نے شور کر نا شروع کر دیا جبکہ اس وقت حضور (ص)اپنے حجرے میں تشریف فر ما تھے اس پرابن ِ اسحاق (رح) کے مطا بق یہ آیت نا زل ہو ئی کہ ان الذین ینا دو نک من و ر آءا لحجرات اکثر ھم لا یعقلون۔۔الخترجمہ جولو گ آپ (ص) کو حجروں کے پیچھے سے پکا ر تے ہیں( بے ادبی کے سا تھ) وہ نا سمجھ ہیں “ بہر حال ان کا شور و غل سن کر حضور (ص) حجرے سے با ہر تشریف لے ا ئے۔ تو بھی انہو ں نے اپنا لہجہ جا رحا نہ رکھا اور انہو ں نے کہا کہ ہم اپنے شا عر اور خطیب کو لیکر آئے ہیں جو کہ فصا حت اور خطا بت میں آپ (ص) سے مقا بلہ کر یں گے اگر ہم مطمعن ہو گئے، تو اسلام لے آ ئیں گے ۔حضو ر (ص) نے ان کو اجا زت دیدی ۔اس وفد میں جو لو گ شا مل تھے ان میں سے ایک پر اختلا ف ہے۔ اور وہ ہیں حبا ت کیو نکہ ابن ِ ہشا م (رح) نے ان کا نا م حتا ت لکھا ہے اور سا تھ میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضور (ص) ان کی موا خا ة معا ویہ بن ابو سفیا ن سے کرا ئی تھی ۔جبکہ مو اخا ة کے وقت نہ معاویہ مسلما ن ہو ئے تھے نہ یہ اور یہ تو نو ہجری تک بھی مسلما ن نہیں ہو ئے تھے۔ اور اس پر یہ اضا فہ بھی کیا کہ ان کا انتقا ل معا ویہ کے دو ر میں معا ویہ کے پا س ہو ا۔ اور انہوں نے اس رشتہ اخوت کی بنا پر ان کا ما ل اپنی تحویل میں لے لیا ۔نیزاس کی حمایت میں کسی مر زوق نا می شا عر کے کچھ شعر بھی معا ویہ کی ہجو میں بھی تحریر کیئے تھے۔پہلی با ت یہ ہے کہ رشتہ موا خا ت کے سلسلہ میں ورا ثت کی آ یا ت آنے کے بعد حضور (ص) نے وضا حت کر دی تھی کہ میرا ث میں اصل وارث ہی حقدار ہو نگے۔ موا ختی وارث نہیں۔لہذا میرے خیال میں با قی مو رخین نے جو حبا ب بن زید لکھا ہے وہ ہی درست معلو م ہو تا ہے۔ واللہ عا لم ۔البتہ خطیب اور شا عر کے نا موں پر کو ئی اختلا ف نہیں ہے لہذا ان کی طرف سے بطو ر خطیب عطا رد نے خطا بت کے دریا بہا ئے جس میں سوا ئے بڑا ئی اور شیخی کے اور کچھ نہ تھا۔ اس کے جواب میں حضو ر (ص)نے ثا بت بن قیس خزرج کو حکم دیا کے وہ جواب دیں۔ انہو ں نے اللہ تعا لیٰ کی حمد و سنا کے بعد حضور (ص) کی صفا ت بیا ن کیں جنکی وجہ سے انکو شرف ِ ہدا یت اور ملو کیت حا صل ہوا ۔پھر ان کی طرف ان کا شا عر زبر غا ن کھڑا ہوا اور اس کا بھی انداز وہی تھا اس کو جوا ب دینے کےلئے حضو ر (ص) نے حسا ن بن ثا بت کو حکم دیااور انہو ں نے بھی وہی طر یقہ اختیا ر کیا ۔لیکن جب حسان بن ثا بت نے اپنے اشعا ر ختم کیئے تو ان کے وفد کے رئیس بو ل اٹھے۔ میں اپنے والد کی قسم کھا کر کہتا ہو ں کہ یہ رسول (ص) ہیں کیو نکہ ان کے خطیب کو ہما رے خطیب پر فضیلت رہی ،اور ان کے شا عر کو ہمارے شا عر پراور ان کے الفا ظ ہما رے الفا ظ سے زیا دہ شیریں تھے ۔لہذا وہ لوگ جب اسلام لے آئے تو رحمت عا لم (ص) نے ان کو ما لا مال کر دیا۔ ان پر اس حد تک مائل ِ کرم ہو گئے کہ ان کو تحا ئف اور عطیا ت سے نواز دیا۔حتیٰ کہ ان کی مخا لفت کے باوجو د عمرو بن الدہم کو جو نو عمر تھا اور ان کی اونٹو ں کی نگرا نی پر معمو ر تھا۔ اس کو بھی بلا کر اتنا ہی دیا ۔

بنی عامر ( نجدیوں) کا وفد :یہ تین آدمیوں پرمشتمل تھا ۔جن کے نام عامر بن طفیل، اربد بن قیس اور جبا ر بن سلمہ تھے ۔ان میں سے عا مر تو جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں وہ شیطا ن تھا ،جو کہ سا رے عرب پر با د شا ہی کاخوا ب دیکھ رہا تھا مگر حضو ر(ص) کے آجا نے سے اس کے سا رے منصو بے خا ک میں مل گئے ۔ لہذا جب اس کے قبیلہ نے کہا کہ سا را عرب مدینہ کی طر ف امنڈا پڑ رہا لہذا تم بھی جا ؤ اور اسلام لے آؤ اور کو ئی معا ہدہ وغیرہ کر لو، مگر اس نے جو اب میں کہا کہ میں نے یہ قسم کھا ئی ہے کہ جب تک تما م عرب کو زیر نہ کر لوں میں چین سے نہیں بیٹھو نگا ۔تو کیا تم سمجھتے ہو کہ میں اس نوجوان (ص) کی پیر وی کرونگا ۔ ؟اس نے اربد کے سا تھ ملکر حضور (ص) کے قتل کا منصو بہ بنایا۔ اس نے اس سے کہا کہ ہم وفد کے طو ر پر چلیں گے اور میں کو شش کرو نگا کہ محمد (ص) سے تخلیہ میں ملا قا ت ہو جائے۔ لہذا تم جیسے ہی مو قعہ پا ؤ فو ر اً وار کر دینا وہ حضو ر (ص) سے با ر بار تخلیہ کا مطا لبہ کر تا رہا ،مگر حضور (ص) نے ہر مر تبہ یہ کہہ کر اس کی در خوا ست رد فر ما دی کہ جب تک تو ایما ن نہیں لائیگا میں تجھ سے تخلیہ میں با ت نہیں کر ونگا ۔لہذا جب اس نے اپنا حربہ کا ر گر ہو تے نہ دیکھا تو وہ دھمکیاں دیتا ہو اپیٹھ پھیر کر با ہر چل دیا۔ تب حضو ر (ص)نے فر ما یا کہ اللہ تعا لیٰ تو عا مر بن طفیل کو کا فی ہو جا۔ وہ با ہر نکل کراربد سے الجھ پڑا کہ تو نے اپنا کا م کیو ں نہیں کیا، تو اس نے جوا ب دیا کہ جب بھی میں نے اس شخص (ص) پر حملہ کر نا چا ہا تو ہر دفعہ بیچ میں آگیا۔ تو کیا میں تجھے قتل کر دیتا۔ یہ لو گ اپنے وطن جا رہے تھے کہ اللہ تعا لیٰ نے عا مر کو مر ض ِ طا عو ن میں مبتلا کر دیا ۔اور وہ بنو سلو ل کی ایک عو رت کے گھر ایڑیا ںرگڑ رگڑکر مر گیا ۔ مرتے ہو ئے اس نے کچھ الفا ط کہے جس پر اس نے اس با ت پر اظہا رِ تاسف کیا کہ میں بہا درا نہ مو ت کے بجا ئے ایک اونٹ جیسی مو ت مر رہا ہوں۔ ابن ِ اسحا ق (رح) نے لکھا ہے کہ اربداور اس کا دوسرا سا تھی جب عا مر بن طفیل کو دفن کر کے بنو عا مر کی سر زمین پر پہنچے تو قبیلہ نے پو چھا کیا کر کے آ ئے ہو تو یہا ں بھی لا ف زنی سے اربد باز نہیں آیا اور کہنے لگاکہ ُاس شخص (ص) نے ایسی چیز کی عبا دت کی دعوت دی جو کہ اگر وہ یہا ں ہو تا تو میں اس (ص) کو تیر وں سے ہلا ک کر دیتا ۔اس قو ل کے دو یا ایک روز کے بعد وہ اپنے گھر سے نکل کر کہیں جا رہا تھا اور اس کا اونٹ پیچھے پیچھے چل رہا تھا کہ اس پر بجلی گری، وہ اور اس کا اونٹ جل کر خا کستر ہو گئے ۔ابن ِ ہشا م نے متعدد حوالو ں کے ساتھ عبد اللہ بن عبا س سے یہ روایت بیا ن کی ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے سورہ الرعد کی آیا ت گیارہ اور تیرہ ان دونوں کے با رے میں ہی نا زل فر ما ئیں۔

سعد بن بکر کا وفد:ابن ِ اسحا ق (رح) کے مطا بق یہ وفد صرف یک نفری تھا اور اس قبیلے نے تما م اختیارا ت اس کو دیکر بھیجا تھا اس شخص کا نا م ضما م ابن ِثعلبہ تھا۔یہ روایت بھی حضرت عبد اللہ (رض) بن عبا س سے مروی ہے کہ وہ جب مدینہ پہنچا تو اس نے اپنا اونٹ مسجد ِ نبوی (ص) کے دروازے پر بٹھا کر با ند ھ دیا اور پھر مسجد میں دا خل ہوا۔یہ بڑاجری تھا ۔ اس کے جسم پر با ل بہت تھے اور اس کے پٹھے کا ند ھو ں پر پڑے ہو ئے تھے۔ اس وقت رسول (ص) اللہ صحا بہ کرا م کے در میان تشریف فر ما تھے چو نکہ حضو ر(ص) کسی نما یاں جگہ پر تشریف رکھنا پسند نہیں فر ما تے تھے لہذا اس کو پہچا ننے میں مشکل ہو ئی کیو نکہ اس نے پہلے کبھی حضو ر (ص)دیکھا نہ تھا ۔وہ سرداروں کے در با ر کی طر ح یہا ں بھی وہی ما حو ل تلا ش کر رہا تھا۔ اس نے پو چھا کہ تم میں سے ابن ِ مطلب (ص) کو ن ہے ؟ تو حضو ر (ص)نے فر ما یا’میں عبد المطلب کا بیٹا ہو ں“۔ اس نے پھر حضو ر (ص) سے پو چھا کہ کیا تم ہی محمد (ص) ہو ؟ حضور (ص) نے فر ما یا ” ہاں“ پھر اس نے کہا کہ اے ابن ِ (ص) عبد المطلب میں تم سے کچھ سوا ل کر نے والا ہو ں ۔ ان میں جو تلخی ہے اس کو محسوس نہ کر نا ۔آپ نے فر ما یا کہ میں رنجیدہ نہیں ہوتا۔اس نے پو چھا کہ میں تمہیں (ص)خدا کی قسم دیکر پو چھتا ہوں جو تمہارا بھی معبود ہے ،اور تم سے پہلے جو گذر چکے ہیں ان کا بھی معبو د ہے اور جو آئندہ آنے والے ہیں ان کا بھی معبو د ہے۔کیا اللہ نے تمہیں (ص) ہما ری طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے؟ آپ (ص)نے فر ما یا ”اے بندہ خدا ہاں!“ پھر پوچھا کہ کیا خدا نے تمہیں (ص) یہ حکم دیا ہے کہ جن کو اس کا شریک بنا کر ہم اور ہما رے آبا ؤ اجدادپو جتے آئے ہیں، ان کو چھو ڑ کر صرف ایک خدا کی عبا دت کریں؟ حضور (ص) نے فر ما یا ”ہا ں “ پھر اس نے اسلام کے تمام ارکان ایک ایک کر کے گنا ئے اور پو چھا کہ ان کا اتبا ع لا زمی ہے۔ ان کا بھی آپ (ص) نے اثبا ت میں جواب دیا جیسے ہی حضور (ص) نے”ہاں “ فر ما یا اس نے کہا کہ میں گوا ہی دیتا ہو ں کہ خدا ئے وا حد کے سوا ئے کو ئی معبو د نہیں ہے، اور اقرار کر تا ہو ں کہ محمد رسول (ص)اللہ ہیں اور یہ فرا ئض میں ادا کر تا رہو نگا اور جن چیز وں سے منع فر ما یا ان سے پر ہیز کرونگا اور نہ میں زیا دتی کرونگا نہ کمی ۔ اونٹ پر سوار ہو کر اپنی قوم کی طرف چل دیا ۔حضو ر (ص) نے اس پر فر ما یا کہ اگر دو پٹھو ں والے نے صدق دل سے یہ با ت کہی ہے تو جنت میں دا خل ہو گیا۔اس کے بعد اس نے قوم کو دعوت دی اور شا م تک پو ری قوم مسلما ن ہو گئی ۔ابن ِ اسحاق (رح) کا قول ہے کہ کسی قوم کے وفد کو اس سے افضل نہیں پا یا۔ ( باقی آئندہ)

شمس جیلانی

SHARE

LEAVE A REPLY