بھارتی تفتیش کاروں نے ملک کے سابق ایئر چیف ایس پی تیاگی کو ہیلی کاپٹر اسکینڈل میں مبینہ طور پر رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام نے ہیلی کاپٹروں کی خریداری کیلئے اینگلو اطالوی (برطانوی اور اٹلی) کی فرم اوگستا ویسٹ لینڈ سے معاہدہ کیا تھا۔

مذکورہ معاہدے کو بھارت نے 2013 میں اس وقت معطل کردیا تھا جب مذکورہ فرم پر بھارتی وزیراعظم اور دیگر وی آئی پیز کے سفر کیلئے 12 ہیلی کاپٹروں کی خرید وفرخت کے معاہدے میں افسران کو مبینہ طور پر رشوت دینے کا الزام لگایا گیا تھا۔

بھارتی سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے نئی دہلی سے سابق ایئر چیف کو گرفتار کیا، ان پر دیگر افسران کو ہیلی کاپٹر کے معاہدے کیلئے رشوت دینے کے الزام ہے۔

سی بی آئی کے ترجمان کانچن پرداس نے بتایا کہ ‘ایک تفتیش جاری ہے اور ہاں ہم نے انھیں گرفتار کرلیا ہے’۔

خیال رہے کہ 556 ملین یورو کے مذکورہ معاہدے کے حوالے سے اطالوی حکام بھی علیحدہ سے تحقیقات کررہے ہیں اور انھوں نے 2013 میں ایک کمپنی کے عہدیدار فنمیکانکیا کو گرفتار کیا تھا، اوگستا ویسٹ لینڈ مذکورہ کمپنی کی ذیلی فرم ہے۔

اطالوی پروسیکیوٹر نے گرفتار ملزم پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے بھارتی حکام کو مبینہ طور پر رشوت کیلئے مذکورہ معاہدے کا 10 فیصد، جو 50 ملین یورو کے برابر تھا، ادا کیا تھا۔

خیال رہے کہ بھارتی تحقیقاتی افسروں نے 2013 میں بھی مبینہ رشوت کے الزام میں سابق ایئر چیف کے گھر پر چھاپا مارا تھا۔

واضح رہے کہ فنمیکانکیا اور ایس پی تیاگی نے مذکورہ الزامات کی تردید کی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY