کرائسٹ چرچ مسجد پر حملہ آور کو روکنے کی کوشش میں جان دینے والے پاکستانی ہیرو نعیم رشید کو نیوزی لینڈ کے اعلیٰ ترین بہادری ایوارڈ ‘نیوزی لینڈ کراس’ سے نواز دیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق حملہ آور سے مقابلے کے دوران زندہ بچنے والے عبدالعزیز کو بھی نیوزی لینڈ کراس دیا گیا۔
نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے اس حوالے سے کہا کہ یہ ایوارڈ وکٹوریا کراس کے مساوی سویلین ایوارڈ ہے جو نیو زی لینڈ میں اس سے پہلے صرف دو بار دیا گیا ہے۔کرائسٹ چرچ حملے کا مقابلہ کرنے والے مزید 8 افراد کو بہادری کے میڈل دیے گئے، ان میں حملہ آور کو گرفتار کرنے والے دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ 2019 میں کرائسٹ چرچ مسجد پر دہشت گرد نے حملہ کیا تھا جسے روکنے کی کوشش میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے نعیم رشید کے علاوہ ان کا 22 سالہ بیٹا طلحہ نعیم اور 51 مسلمان شہید ہوئے تھے۔
……………………………………
13 Aug 2019 @ 15:33
ناروے کے علاقے اوسلو کے مضافات میں قائم مسجد پر دہشت گردانہ حملے کو پاک فضائیہ کے 65 سالہ ریٹائرڈ افسر نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناکام بنایا۔
واضح رہے کہ 10اگست کو سفید فام دہشت گرد نے النور اسلامک سینٹر میں فائرنگ کی تھی جس سے ایک معمر نمازی جاں بحق ہو گئے تھے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مسجد کے امام عرفان مشتاق کا کہنا تھا کہ 2 شارٹ گن اور ایک پستول سے لیس دہشت گرد ہیلمٹ اور زرہ بکتر پہنے مسجد میں داخل ہوا اور اس نے گولیاں چلائیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ملزم کے گولی چلاتے ہی 65 سالہ پاک فضائیہ کے محمد رفیق نے اسے پکڑ لیا جس پر انہیں چوٹیں بھی آئیں’۔
رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے محمد رفیق کا کہنا تھا کہ ‘مجھے باہر سے گولی چلنے کی آوازیں آئیں، وہ 2 لوگوں پر گولیاں چلارہا تھا، میں نے اسے دبوچ لیا اور اس سے اسلحہ چھینا’۔
بعد ازاں انہوں نے دہشت گرد کو پولیس کے حوالے کردیا، پولیس نے حملے کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔
پولیس آپریشن کے قائم مقام چیف رنی اسکوجڈل نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ زیر حراست حملہ آور انتہا پسندانہ سوچ کا حامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زیر حراست ملزم غیر مقامی افراد کے خلاف پرتشدد خیالات رکھتا ہے۔
ناروے کے میڈیا نے رپورٹ کیا کہ زیر حراست مشتبہ شخص نے آن لائن نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملوں کی حمایت کی تھی۔
حملے کے فوری بعد پولیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک گھر سے ملزم سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کی لاش بر آمد کی ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ لڑکی دہشت گرد کی 17 سالہ سوتیلی بہن ہے۔
مسجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد کے خلاف لڑکی کے قتل کا مقدمہ بھی درج کیا گیا۔
پاکستانی بزرگ کی بہادری پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تعریفیں کی جانے لگیں جس کے بعد لفظ محمد رفیق ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔
واضح رہے کہ عالمی سطح پر حالیہ عرصے میں مسلمان مخالف حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
رواں برس 15 مارچ کو نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں نماز جمعہ سے قبل مسلح حملوں میں 50 افراد شہید جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد تمام مغربی ممالک میں مساجد کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی انتظام کیے جارہے ہیں۔
نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر دہشت گرد حملے میں 9 پاکستانی بھی شہید ہوئے تھے۔
نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے حملوں کو ‘دہشت گردی’ قرار دیا تھا۔
جون میں فرانس کے مغربی شہر بریسٹ میں قائم ایک مسجد پر نامعلوم شخص کی فائرنگ سے 2 افراد زخمی ہوگئےتھے تاہم حملہ آوار گرفتار نہیں ہو سکا تھا۔
فروری میں کینیڈا کی عدالت نے 2017 میں مسجد پر حملہ کرکے 6 مسلمانوں کو قتل کرنے والے فرانسیسی نژاد کینیڈین شہری کو 40 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
29 سالہ الیکشنڈر بسسنٹٹ نے اسلامک کلچرل سینٹر میں فائرنگ کی تھی اور اس وقت وہاں 50 سے زائد افراد نماز کی ادائیگی میں مصروف تھے۔












