جعلی اکاونٹ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے پر احتساب عدالت نے پاکستان میں ایک نجی بینک کے مالک ناصر عبداللہ لوتاہ کے وارنٹ گرفتاری واپس لے لیے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے شہری اور اعلیٰ کاروباری شخصیت ناصر عبداللہ لوتاہ، فریال تالپور، اومنی گروپ کے چیئرمین عبدالغنی مجید اور دیگر ملزمان کے ساتھ جعلی اکاؤنٹ کیس میں نامزد تھے۔
وارنٹ گرفتاری جاری کرنے سے قبل عدالت نے انہیں آصف زرداری کے خلاف کیس میں متعدد مرتبہ طلب کیا تھا جس کے بعد رواں ماہ کے آغاز میں ناصر عبداللہ لوتاہ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروا کر جعلی اکاؤنٹ کیس میں وعدہ معاف گواہ بننے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
نیب پراسیکیوٹر نے احتساب عدالت کو بتایا کہ چیئرمین نیب نے ناصر عبداللہ لوتاہ کی جانب سے کیس میں وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست قبول کرلی ہے۔
چنانچہ جیسے ہی سماعت کے دوران عدالت نے کارروائی کا اشارہ دیا نیب نے ان کا نام ملزمان کی فہرست سے خارج کردیا۔
سماعت میں ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے احتساب عدالت کو آگاہ کیا کہ نیب نئے شواہد کی بنیاد پر آصف زرداری کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
جس پر وکیل دفاع سردار لطیف کھوسہ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ کیس کراچی کی بینکنگ عدالت سے منتقل ہوا ہے لہٰذا نیب ضمنی ریفرنس دائر نہیں کرسکتا۔













