فن کی دنیا کے شہنشاہ دلیپ کمار 94سال کے ہوگئے

0
212

فن کی دنیا کے شہنشاہ دلیپ کمار 94سال کے ہوگئے۔ اپنے دور میں انہیں جذبات کا شہنشاہ کہا جاتا تھا، کروڑوں دلوں پر کئی دھائیوں تک راج کرنے والے اس لیجنڈ اداکار نے اپنے پورے خاندان کے ہمراہ 1997میں اپنے آبائی شہر پشاور کا دورہ کیا تھا۔

ٹریجڈی کنگ کے نام سے مشہور یوسف خان المعروف دلیپ کمار 11 دسمبر 1922 کو محلہ خدادادقصہ خوانی پشاور میں پیدا ہوئے ۔ان کا بچپن اسی شہر کی گلیوں میں گزرا اور یہی یاد انہیں بار بار یہاں کھینچ لاتی رہی۔ اپنی بیگم سائرہ کو بھی اپنے محلے کی سیر کرائی اور پرانی یادیں تازہ کرتے رہے۔

dilip-kumar

دلیپ کمار نے اپنے دورہ پشاور کے دوران تاریخی قلعہ بالاحصار کی سیربھی کی۔بینڈ باجے پر پشتو کی مسحورکن دھن پر دلیپ اور سائرہ نے رقص بھی کیا اور بالائی حصار کی چھت سے اپنی جائے پیدائش کا نظارہ بھی کرتے رہے۔ اپنے اعزاز میں منعقد ہونے والی تقریب میں ٹوٹی پھوٹی پشتو اور ٹھیٹ ہندی بول کر شرکاء کے دل موہ لئے۔

1944 میں فلم جوار بھاٹا سے فنی سفر کا آغاز کرنے والے دلیپ کمارنے مغل اعظم، نورجہاں، شہید، انداز اور کرانتی جیسی یادگار فلموں کے ذریعے خود کو لیجنڈ منوایا اور برسوں کروڑوں دلوں پر راج کیا۔ 1998میں فلم ’قلعہ‘ کے بعد فلم نگری سے کنارہ کش ہوگئے

اپنے ساٹھ سالہ اداکاری کے کریئر کے دوران انہوں نے ساٹھ سے زائد فلموں میں کام کیا جن میں مغل اعظم، انداز، کرانتی اور دیگر لاتعداد فلموں نے بے مثال کامیابی حاصل کی

دلیپ کمار نے ناسک کے قریب برنس اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور ان کا خاندان 1930 کی دہائی میں بمبئی منتقل ہوگیا تاہم 1940 کو گھر چھوڑ کر پونا چلے گئے اور وہاں ایک کینٹین کھول لی اور خشک میوہ جات سپلائی کرنے لگے۔

سال 1943 میں دلیپ کمار کی ملاقات بمبئی ٹاکیز کے مالکان دیویکا رانی اور ان کے شوہر ہمانشو رانی سے ہوئی جنھوں نے انہیں اپنی فلم کے مرکزی کردار کے لیے کاسٹ کرلیا یہ فلم 1944 میں جوار بھاٹا کے نام سے شروع ہوئی جو ان کا بولی وڈ میں ڈیبیو ثابت ہوا اسی زمانے میں ہندی زبان کے مصنف بھگوتی چرن ورما نے یوسف خان کو دلیپ کمار کا اسکرین نام دیا۔

اگرچہ جوار بھاٹا زیادہ کامیاب نہیں ہوسکی تاہم 1947 میں ان کی نورجہاں کے ساتھ فلم جگنو کریئر کی پہلی بڑی ہٹ ثابت ہوئی جس کے ساتھ ہی شہید (1948) بھی لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی۔

سال 1949 میں راج کپور اور نرگس کے ساتھ پیار کی تکون پر مشتمل کلاسیک فلم انداز نے دلیپ کمار کو سپر اسٹار بنا دیا مگر انہیں “ٹریجڈی کنگ” کا خطاب 1950 کی دہائی میں یکے بعد دیگرے آنے والی فلمیں جوگن، دیدار، داغ، دیوداس، یہودی اور مدھومتی کی بے مثال کامیابی کی صورت میں ملا۔

سال 1952 میں دلیپ کمار نے اپنے “ٹریجڈی کنگ” کے تصور کو ختم کرنے کے لیے ہلکے پھلکے کردار ادا کیے جیسے آن جو پہلی ٹیکنی کلر ہندی فلم تھی، آزاد، نیا دور اور کوہِ نور سمیت دیگر فلموں میں انہوں نے خود کو المیہ اداکاری کے ساتھ ساتھ ہلکی پھلکی اداکاری کے میدان میں برتر تسلیم کرالیا۔

سال 1960 میں دلیپ کمار کے آصف کی انتہائی بڑے بجٹ کی تاریخی فلم مغل اعظم میں شہزادہ سلیم کے کردار میں نظر آئے جو 2008 تک بولی وڈ میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی دوسری بڑی فلم تھی۔

سال 1961 میں دلیپ کمار نے اپنے سرمائے سے فلم گنگا جمنا بنائی جس میں مرکزی کردار انہوں نے خود ادا کیا جبکہ ان کے بھائی ناصر خان بھی ان کے ساتھ تھے۔

ان کی اگلی فلم لیڈر (1964) باکس آفس پر کمال نہیں دکھا سکی تاہم اس کے بعد وہ ڈبل رول والی فلم رام اور شیام میں نظر آئے جو کہ سپرہٹ ثابت ہوئی۔

دلیپ کمار کا رومانوی تعلق اس دور کی خوبصورت ترین اداکارہ مدھو بالا سے بھی رہا، ان دونوں کی ملاقات فلم ترانہ کے سیٹس پر ہوئی اور بعد میں انہوں نے سنگدل، امر اور مغل اعظم میں اکھٹے کام کیا۔

یہ مانا جاتا ہے کہ ان دونوں کا تعلق نو سال تک برقرار رہا اور ان کی منگنی بھی ہوگئی تاہم مدھو بالا کے والد عطاءاللہ خان اس جوڑے کی شادی کے خلاف تھے اور اسی وجہ سے دونوں کے راستے الگ ہوگئے۔

سال 1966 میں دلیپ کمار نے بائیس سالہ سائرہ بانو سے شادی کی جبکہ 1980 میں عاصمہ نامی خاتون سے بھی ان کی شادی کی خبریں سامنے آئیں تاہم اس حوالے سے یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔

ستر کی دہائی میں دلیپ کمار کے کریئر کو اس وقت جھٹکا لگا جب ان کی فلموں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا خاص طور پر ٹرپل رول والی فلم بیراگ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔

سال 1970 میں وہ اپنی بیوی سائرہ بانو کے ساتھ گوپی میں بھی نظر آئے مگر وہ بھی فلاپ ثابت ہوئی اور فلموں کی ناکامی کے بعد دلیپ کمار نے 1976 سے 1981 تک فلموں سے دوری اختیار کیے رکھی۔

پانچ سال کے وقفے کے بعد دلیپ کمار بولی وڈ میں بڑی کاسٹ کی فلم کرانتی کے ساتھ واپس آئے جو کہ اس سال کی سب سے بڑی ہٹ قرار پائی۔

اس کے بعد کے برسوں میں دلیپ کمار نے ڈائریکٹر سبھاش گھئی کے ساتھ ودھاتا (1982) اور کرما (1986) جیسی سپرہٹ فلموں میں کام کیا۔

دلیپ کمار نے امیتابھ بچن کے باپ کا کردار رمیش سپی کی فم شکتی میں ادا کیا جس پر انہیں بہترین اداکاری پر ایک اور فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

سال 1991 میں دلیپ کمار نے سبھاش گھئی کی ہٹ فلم سوداگر میں دادا ٹھاکر کا کردار ادا کیا اس فلم میں ان کے ساتھ معروف اداکار راج کمار بھی تھے یہ ان کی سبھاش گھئی کے ساتھ تیسری اور آخری فلم تھی۔

سال 1998 میں وہ ایک بار ڈبل رول کے ساتھ فلم قلعہ میں نظر آئے جو کہ ان کی اب تک کی آخری فلم بھی ثابت ہوئی۔

سال 2004 اور 2008 میں ان کی فلمیں مغل اعظم اور نیا دور بلیک اینڈ وائٹ سے رنگین کرکے ریلیز کی گئیں۔

بہت کم افراد کو معلوم ہے کہ دلیپ کمار سب سے زیادہ تعداد میں ایوارڈز جیتنے والے انڈین اداکار کا گینز ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز بھی اپنے نام کرچکے ہیں۔

گزشتہ دنوں طبعیت علیل ہونے کے باعث کافی عرصہ ہسپتال میں گزار چکے ہیں تاہم اب ان کی حالت میں بہتری بتائی جا رہی ہے۔

وٹس١یپ 0 تبصرے

SHARE

LEAVE A REPLY