اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کی تقرری کے خلاف درخواست نا قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے مقامی وکیل کی درخواست پر کیس کی سماعت کی۔
چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے دورانِ سماعت ریمارکس دیے کہ ملک میں اکنامک کرائسز ہے، ایسے حالات میں عدالت ایگزیکٹو کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرے گی۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے پبلک سرونٹس سے براہِ راست چیئرمین ایف بی آر کی تعیناتی نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ قانون کو مدِ نظر رکھے بغیر ایف بی آر کے مستقل ملازمین کو نظر انداز کر کے ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔
عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ریکوڈک کیس میں جو کچھ ہوا پتہ ہے الزام کس پر آیا؟
عدالت نے مزید کہا کہ پبلک میں یہ بات عام ہے کہ اکانومی کے حالات برے چل رہے ہیں، عدالت ایسے حالات میں ایگزیکٹو کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرے گی۔
عدالت عالیہ نے یہ بھی کہا کہ آپ ارکانِ قومی اسمبلی کو کہیں کہ وہ یہ مُعاملہ پارلیمنٹ میں اٹھائیں، اگر ہم یہ تعیناتی کالعدم قرار دے دیں تو یہ الزام ہم پر آئے گا اور عدالت اکانومی کی موجودہ صورتِ حال کا بوجھ نہیں لے سکتی۔











