اپریل9 / 2020
کورونا کے 100 دن

امریکہ کی
جان ہاپکنز یونیورسٹی اینڈ ریسرچ سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق
ناول کورونا وائرس
اب تک 214 ممالک میں پھیل چکا ہے
دنیا بھر میں
ناول کورونا وائرس کے 14 لاکھ 30 ہزار سے زائد کیسز ہیں
جبکہ 82 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہویئں
اس وقت
ناول کورونا وائرس کے
سب سے زیادہ کیسز امریکہ میں ہیں
جن کی تعداد تین لاکھ ستر ہزار کے قریب ہے
اسپین میں ایک لاکھ چھتیس ہزار سے زائد
اٹلی میں ایک لاکھ بتیس ہزار سے زائد
جرمنی میں ایک لاکھ تین ہزار سے زائد
پاکستان میں 4 ہزار194 سے زائد
اور فرانس میں قریب ایک لاکھ کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے
عالمی سطح پر ہلاکتیں قریب 75،000 ہو چکی ہیں
یورپی ملک اٹلی میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں
وہاں سات اپریل تک ساڑھے سولہ ہزار سے زائد
اسپین میں تیرہ ہزار تین سو سے زائد
فرانس میں قریب نو ہزار
برطانیہ میں پانچ ہزار تین سو سے زائد
پاکستان میں 60 افراد سے زائد
اور ایران میں 3،700 سے زائد مریض ہلاک ہو چکے ہیں
اور ۔ ۔۔۔ صد شکر
عالمی سطح پر
لگ بھگ تین لاکھ مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں
چین میں اب تک 77،000 سے زیادہ مریض
اسپین میں چالیس ہزار سے زائد ہیں
جرمنی میں چھتیس ہزار سے زائد
ایران میں چوبیس ہزار سے زائد
پاکستان میں 467 سے زائد
اور اٹلی میں تیئس ہزار سے زیادہ مریض مکمل صحت یاب ہو چکے ہیں
میں سوچ رہی ہوں کہ جو صحتیاب ہوئے ہیں
وہ مکمل آرام اور معمولی علاج سے ٹھیک ہوئے ہیں
اس نئے کورونا وائرس کا حجم تو
ہماری آنکھوں کی ایک پلک کے ایک ہزار ویں حصے سے بھی کم ہے
اور بنیادی طور پر
یہ ایک کانٹے دار پروٹین شیل ہی ہے
جو انسانی جسم سے باہر مردہ یا زومبی کی طرح ہوتا ہے
مگر ایک بار انسانی سانس کی نالی میں چلاجائے
تو یہ ہمارے خلیات پر قبضہ کرکے
ایک بار انسانی جسم کے خلیات میں داخل ہونے کے بعد
وائرس چند گھنٹوں میں اپنی 10 ہزار نقول تیار کرسکتا ہے
اور چند دن میں
متاثرہ فرد کے خون کے ہر ذرے میں
اپنے جیسے لاکھوں کروڑوں وائرس تیار کردیتا ہے

عالمی ادارہ صحت کے مطابق
کوویڈ 19 کی سب سے عام علامات میں
بخار، تھکاوٹ اور خشک کھانسی شامل ہیں
کچھ مریضوں کو شاید تکلیف، خارش، ناک بند ہونے
ناک بہنے، گلے میں سوجن یا ہیضہ کا بھی سامنا ہوسکتا ہے
حال ہی میں طبی ماہرین نے زور دیا ہے
مریضوں میں سونگھنے یا چکھنے کی حس بھی ختم ہو سکتی ہے
خدایا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب کیا ہے ؟
ویکسین یا ادویات کی دستیابی تک
وائرس کے پھیلاؤ کی زنجیر کو توڑنے کے لئے
سماجی فاصلے کو لاگو کرنا ہوگا ۔۔ اور ایسا ہی ہورہا ہے
دنیا میں 21 سے زائد ملکوں میں
سفری پابندیاں لگ چکی ہیں
پاکستان، بھارت، آسٹریلیا، ارجنٹائن، بیلجیئم، چین،
کولمبیا، چیک ریپبلک ڈنمارک ایل سلواڈور، فرانس
جرمنی، اسرائیل، اٹلی، اردن، کینیا، کویت، ملایشیا
مراکش، نیوزی لینڈ، ناروے، پولینڈ، آئرلینڈ
روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، اسپین، برطانیہ
اور ۔۔۔۔ ہنگری میں جزوی یا مکمل لاک ڈاؤن ہے
دنیا کی تمام عبادت گاہیں بند ہو چکیں ہیں
مجموعی طور پر
ڈھائی ارب سے زائد افراد
اس وقت کسی نہ کسی شکل میں پابندیوں کا سامنا کررہے ہیں
اس وبا سے
کھیلوں کی دنیا بھی بری طرح متاثر ہوئی
اولمپکس گیمز
رواں سال جولائی کی بجائے اگلے سال جولائی میں ہونگے
پی ایس ایل کا اختتامی مرحلہ اور آئی پی ایل التوا کا شکار ہیں
دوسری جنگ عظیم کے بعد
پہلی بارومبلڈن کا ٹورنامنٹ منسوخ ہو گیا
پروفیشنل ٹینس ٹور اور ورلڈ باکسنگ
ہیوی ویٹ ٹائٹل فائٹ جون تک معطل ہیں
ورلڈ ایتھلیٹک انڈور چیمپئن شپس
اگلے سال تک کے لیے ملتوی کردی گئی ہے
کتنا کچھ بدل رہا تھا ۔۔۔
جیسے نئی دنیا عالم وجود میں آ رہی ہے
کتنی حیرت کی بات تھی
اس وقت چین میں لاک ڈاؤن کو بتدریج ختم کیا جارہا ہے
ووہان کھل چکا ہے
مگر بھارت، چین، فرانس، اٹلی، نیوزی لینڈ، پولینڈ
اور ۔۔۔ برطانیہ میں
انتہائی سخت قسم کے لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے
اور ان سماجی فاصلوں ، سفر پابندیوں اور لاک ڈاؤن سے
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار سست ہو رہی ہے
اس وقت کو غنیمت جان کر
کورونا وائرس کا علاج
دریافت کرنے کی کوششیں تیز تر ہو گیئں ہیں
فی الحال اس عالمی وبا کا
کوئی علاج یا ویکسین موجود نہیں
بلکہ علامات کا علاج کیا جاتا ہے
اور 80 فیصد سے زیادہ مریض صحت یاب بھی ہو رہے ہیں
تاہم دنیا بھر میں
سائنسدانوں کی جانب سے بھرپور کوششیں جاری ہیں
کئی ادویات کو آزمایا جا رہا ہے
کلوروکوئن
فرانس سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں نے کہا ہے
کلوروکوئن کے استعمال سے
انہوں نے مریضوں کے علاج میں کامیابی حاصل کی ہے
اس تحقیق میں شامل 36 میں سے 20 مریضوں کو دوا دی گئی
اور 6 دن بعد 70 فیصد مریض صحت یاب ہوگئے
فلو کے لیے استعمال ہونے والی دوا فیویپیراویر
جاپان میں فلو کے لیے تیار ہونے والی اس دوا کو
چین میں 340 مریضوں پر آزمایا گیا
ان میں ٹیسٹ مثبت آنے کے 4 دن بعد وائرس ختم ہوگیا
جبکہ اس دوا کے بغیر
مرض کی علامات کے لیے دیگر ادویات کے استعمال سے
صحت یابی میں اوسطاً 11 دن درکار ہوتے ہیں
اس نئی دوا کے استعمال سے 91 فیصد مریضوں کے
پھیپھڑوں کی حالت میں بھی بہتری کی تصدیق ہوئی
جبکہ دیگر ادویات میں یہ شرح 62 فیصد کے قریب ہوتی ہے
ایبولا کے لیے تیار ہونے والی ریمڈیسیویر
اس دوا کو بنیادی طورر پر
ایبولا کے علاج کے لیے تیار کیا گیا تھا
مگر یہ نئے نوول کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے
اہم ترین دوا کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے
سارس اور مرس جیسے کورونا وائرسز کے خلاف اسے موثر پایا گیا
اور یہی وجہ ہے
کہ ۔۔۔ پہلے چین اور اس کے بعد امریکہ اور ایشیا کے مختلف ممالک میں
اس دوا کے استعمال پر متعدد ٹرائلز ہورہے ہیں
ایچ آئی وی کے لیے تیار ہونے والی کالیٹرا
یہ بنیادی طور پر دو اینٹی وائرل ادویات لوپیناویر اور ریٹوناویر کا امتزاج ہے
مختلف رپورٹس میں
اسے کوویڈ 19 کے علاج کے لیے بھی حوصلہ افزا انتخاب قرار دیا گیا ہے
جبکہ 200 سنگین حد تک بیمار مریضوں میں
اس کے استعمال سے کوئی فائدہ دریافت نہیں ہوسکا
انٹرفیرون بیٹا
برطانیہ کی بائیوٹیک کمپنی
Synairgen
کو
کوویڈ 19 کے شکار افراد میں
پھیپھڑوں کے امراض کی دوا کی منظوری دی گئی ہے
اس دوا میں موجود مرکب انٹرفیرون بیٹا
پھیپھڑوں کے وائرس کے خلاف
قدرتی دفاعی نظام سے تشکیل دیا گیا ہے
ماہرین کو توقع ہے کہ یہ دوا جسم کے مدافعتی نظام کو بہتر بنائے گی
اینٹی باڈی تھراپیز
چین میں ڈاکٹروں نے
کچھ سنگین حد تک بیمار مریضوں کا علاج
کورونا انفیکشن سے صحت پانے والے مریضوں کے
بلڈپلازما سے کیا ہے
اور یہ وہ وہی طریقہ کار ہے
جس سے1918 میں
Spanish Flu
کی عالمی وبا کا علاج کیا گیاتھا
محققین کے مطابق
کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں میں
صحت یابی کے بعد
ان کے بلڈ سیرم (خون کا پلازما) میں
بڑی مقدار میں ایسی اینٹی باڈیز ہوسکتی ہیں
جو اس کورونا وائرس کے خلاف مزاحمت کرسکتی ہیں
محققین کے خیال میں یہ طریقہ کار
صرف صحت یاب ہونے والے افراد کے لیے فائدہ مند نہیں
بلکہ ان اینٹی باڈیز کو ایکسرٹ اور پراسیس کرنے کے بعد
دیگر افراد کے جسموں میں انجیکٹ کرکے
انہیں مختصر المدت تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے
ٹی بی ویکسین پر تحقیق اور اثرات
ایک حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا
جن ممالک میں تپ دق (ٹی بی) کی روک تھام کے لیے
اسویکسین بیسیلس کالمیٹی گیورن (بی سی جی) استعمال کرایا جارہا ہے
وہاں لوگوں کو کوویڈ 19 کے خلاف کسی حد تک تحفظ ملا ہے
تحقیق میں دریافت کیا گیا
کوویڈ 19 کے کیسز اور اموات کی شرح ان ممالک میں زیادہ ہے
جہاں یہ ویکسین اب استعمال نہیں ہوتی
جیسے امریکا، اٹلی، اسپین اور فرانس
جبکہ پاکستان، بھارت، چین اور کئی ممالک میں
یہ ویکسین اب بھی عام استعمال ہوتی ہے
اس لیئے ان ممالک میں
کوویڈ 19 سے اموات کی شرح نمایاں حد تک کم ہے
سنا ہے
سو سال پہلے تیار ہونے والی یہ ویکسین
اب آسٹریلیا اور یورپ کے کئی ممالک میں استعمال کی جا رہی ہے
دنیا بھر میں
سالانہ 13 کروڑ بچوں کو ٹی پی کی ویکسین دی جاتی ہے
جس سے انسانی مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے
اور انہیں جراثیموں کے خلاف پوری شدت سے لڑنے کی تربیت ملتی ہے
آج ہی عزیزی دوست نوشی عقیل نے پوچھا تھا
کیا گرمیوں کے موسم میں کورونا وائرس مر جائے گا ؟
میں نے اسے بتایا تھا
دنیا میں کئی محققین کا خیال ہے
کورونا وائرس کے زیادہ پھیلاؤ والے علاقے وہ ہیں
جہاں درجہ حرارت کم تھا
یعنی 3 سے 17 ڈگری سینٹی گریڈ تک تھا
مگر 18 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد والے مقامات میں
ان کی تعداد 6 فیصد سے بھی کم ہے
سو حتمی کہنا مشکل ہے کہ گرم موسم میں وائرس مر جائے گا
ماہرین نے تسلیم کیا ہے
سفری پابندیاں، سماجی فاصلے کے اقدامات، ٹیسٹ کی دستیابی
ہر ممکنہ اقدامات سے ہسپتالوں پر بوجھ کم ہوا ہے
آج ہی ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے
گرم موسم وائرس کا پھیلاؤ کم کر سکتاہے پرختم نہیں ہوگا
درحقیقت سیزنل وائرسز جیسے انفلوائنزا اور موسمی زنزلہ زکام بھی
گرمیوں کے دوران مکمل طور پر غائب نہیں ہوتے
بلکہ کسی نہ کسی حد تک لوگوں کے جسموں
اور ۔۔ دنیا کے دیگر حصوں میں موجود رہتے ہیں
جہاں وہ دوبارہ پھیلنے کے لیے مناسب وقت کا انتظار کرتے ہیں
اف ۔۔ خدایا ۔۔ تو کیا
کورونا وائرس کی ہوایئں بھی
دنیا بھر میں کہیں نہ کہیں چلتی رہیں گی
جب تک علاج اور ویکسین دستیاب ہو نگی
تب تک جانے کورونا کونسی نئی کروٹ لے چکا ہوگا
کتنی بار میوٹیٹ ہو چکا ہوگا ؟
شاید۔۔ تب انسان بھی بدل چکے ہونگے
ان کی نفسیات ۔۔معاشیات ۔۔ معیارات
ہنر ۔۔تخیل ۔۔اور پسند سبھی کچھ بدل چکا ہوگا
مجھے ڈر ہے تو ۔۔۔ بس اتنا ۔۔ کہ ۔۔۔
کہیں انسان
اپنی اپنی ذاتوں میں پہلے سے زیادہ گم نہ ہو جائیں
ایک دوسرے کے لئے ان کی ہمدردیاں کم نہ ہو جائیں
اگر ۔۔ایسا ۔۔ ہو گیا ۔۔ تو
انسانی بقا
کسی جنگ کی طرح
مشکل اور خطرناک ہو جائے گی
ڈاکٹر نگہت نسیم













