بابِ علم پر دستک ایک روشنی ۔۔ اقوال امام کا شعری اردو ترجمہ
“باب علم پر دستک”
“مرے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھو
اور
دائیں ہاتھ سے باب علم پہ دستک دو
دار رسی تو ہوگی ناں
تب مانگیں گے
قنبر اور فضہ کے قدموں کی دھول
اس در کی جاروب کشی کب ملتی یے
ملتی تو بخت سے ملتی ہے
خوش بخت ہیں ہم
جو خیرات میسر ہے
میں خرقہ قناعت کو پہنوں
تم صبر کی ڈھال اٹھاؤ
چلو
مشترکہ عشق کی مرضی پہ
سب اپنا تن من دھن رکھ دو
تب سجتا ہے لبیک کہو
العجل کی تسبیح ہاتھ میں لو
یہ دنیا فانی دنیا ہے
بکری کی چھینک سے زیادہ نہیں
گر عشق ولایت رکھتے ہو
اس رستے پر قدم رکھو
جو ہم کو نجف تک لے جائے
بگڑی ہوئ قسمت بن جائے
ڈاکٹر ثروت رضوی
“باب علم پہ دستک نے مجھے مالا مال کردیا عرفان ذات کی دولت نصیب والوں کو ملتی ہے “
خواہر ثروت رضوی کی نظموں کا مجموعہ
مجھے جب سے حاصل ہوا میری کیفیت بھی اس گداگر کی سی ہے جسے خیرات میں سونے کا سکہ حاصل ہوگیا ہو ۔۔
بیشک ڈاکٹر صاحبہ نے اپنی بیشتر نظموں میں اسی طلب کا اظہار کیا ہے۔۔اور طلب ہے بھی تو ایک بہت بڑے سخی سے طلبِ رزقِ علم کی ہے اور حقیقتاً خواہر ثروت کو اس در نے مایوس نہیں کیا ۔۔
جیسے حمیدہ شاہین صاحبہ کے کسی شعر کا خوبصورت مصرعہ میرے ذہن میں گونجنے لگا ہے ۔
“در بڑا ہو تو سوالی بھی کھڑا سجتا ہے ”
علم کی خیرات بھی ایک غیر معمولی طلب ہے۔
علم آگاہی خود شناسی سے خدا شناسی تک ایک راہ ہے جو یقیناً اہل بیت سے گزرتی ہے ۔۔جس پر گامزن ہونا بھی ہر ایک کو نصیب نہیں۔
اور اگر آگاہی حاصل ہوجائے تو کاملیت کی جانب قدم بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں۔
مولائے متقیان کے بیشتر فرامین میں ایک فلسفہ بہت نمایاں ہے جو الفاظ کی صورت میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ در حقیقت نوعِ انسان کی اصل حقیقت و اسکی قدرو قیمت اس کے جوہر کمال میں ہے۔ یعنی اسکا وہ فہم و فراست اور علم و معرفت کہ جو اسے عوام الناس میں بلندی پر فائز کردے ۔ چنانچہ جوہر شناس نگاہیں شکل و صورت، بلندیِ قدو قامت اور ظاہری جاہ و حشم کو نہیں دیکھتیں بلکہ انسان کے علم وہنر کو دیکھتی ہیں اور اسی ہنر کے لحاظ سے اس کی قدر و قیمت متعین کرتی ہیں ۔۔اس کے مرتبے کا اعتراف کرتی ہیں ۔
اور اگر بیشمار صاحبان علم میں کوئی ذات ہی علم و کمال کے بہترین مرتبے پر فائز ہو تو طالبانِ علم و معرفت بناء کسی تشویش کے ان بارگاہوں سے منسلک ہونا سعادت سمجھتے ہیں ۔۔
دنیا میں کلام خدا کے بعد جو احادیث و فرامین ائمه اطہار کا سلسلہ ہے وہ اب تک طلباء علم کے لئے رہنمائی اور معرفت کے حصول کا ذریعه ہے۔
اگر ہم جاننا چاہیں کہ وہ کونسا در ہے جو حقیقی معبود سے آشنا کرادے؟ تو علمائے علم و معرفت یک زبان یہی کہیں گے
کہ وہ واحد دروازہ ، در اہلیت رسول مقبول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے ،
آلِ محمد ہی شہر ِ علم میں داخلے کی نوید ہیں اور ساقی علم لدنی ہیں، جو تشنہِ حقیقت کو سیراب کرتے ہیں،جو وادیِ معرفت میں سرگرداں کاروانوں کے ناخدا ہیں، جو سیر وسلوک کے مسافروں کی راہنمائی کرتے ہیں ۔۔غرض کے علم معرفت اورہدایت کے سب راستے دروازہ اہلبیت تک منتہی ہوتے ہیں ۔۔۔
اور جب معاملہ بھی رجوع قلب کا ہو تو کچھ یوں بیان ہوتا ہے ۔۔
جیسے جوش ملیح آبادی کے ایک بند میں تذکرہ ہے ۔۔
لے وہ نجف کی سمت سے آنے لگی صدا
ساقی میرا سلامِ ادب لے کہ میں چلا
مولائے کائنات اور آواز دے مجھے
اے جبرئیل قوتِ پرواز دے مجھے
بلاشبہ تاریخ و ادب یا فلسفے میں جن افراد نے الٰہیات میں علم و دانش کے دریا بہاۓ ہیں ان کا سرچشمہ آئمہ اطہار ہی کے حکیمانہ ارشادات ہیں اور اٌنہوں نے ِانہی کے خوانِ علم سے ریزہ خوری کی ہے ۔
آیت اللہ مکارم شیرازی فرماتے ہیں کہ
“خداوند عالم نے اپنی رسالت کے لئے انسان کامل رسول کریم کو منتخب فرمایا تا کہ وہ انسانوں کو الٰہی رنگ میں (ہدایت کرے) بدل دے۔ اسی طیّب و طاہر آغوش میں حضرت علی علیہ السلام نے اپنی زندگی گزاری اور آپ کی تربیت اسی کامل ترین انسان یعنی حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمائی ۔ یعنی جس کا معلم وحی الٰہی کا حامل ہو وہ کیوں نہ اپنی حیثیت میں منفرد ہو اس کی ہدایت کا نور دنیا میں اس طرح چمکا کہ آنے والی نسلوں کو حیرت میں ڈال دیا۔”
علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے صفات کمال میں پہلی صفت علم ھے۔
روایات میں ہے کہ ابن حدید کہتے ھیں۔
“حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کسی شخص کے متعلق یہ نہیں کہاجا سکتا کہ ھر فضیلت اس کی ذات سے پھوٹتی ھو ہر فرقہ کی انتہاء انہی کی طرف ہو ہر گروہ اسی کی طرف جذب ھونے کا متمنی ھو۔
علوم میں سب سے اعلی علم ،علم الٰہی ھے آپ(ع) کے کلام میں اس علم کے اقتباسات موجود ھیں۔ آپ(ع) ہی سے یہ کلام نقل ھوا ھے آپ کی طرف ھی اس کلام کی ابتداء و انتہا ہے۔”
ایک اور جگہ روای بیان کرتے ہیں کہ
” رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جب حضرت علی(ع) کو یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو بارگاہ خداوندی میں عرض کی بار الہا اس کے دل و زبان کو مضبوط و محکم رکھنا ۔”
احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقبول راوی ابن عباس سے روایت ہے کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشادفرمایا۔
“علی ابن ابی طالب میری امت میں سب سے بڑھ کر صاحبِ علم ہیں میرے بعد ہر قسم کے اختلافات کا سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے ہیں۔”
گویا آپ در علم – نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم دعائے رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ثمر ہیں اور دنیا بھر کے علوم و فلسفے کے ایسے شہسوار ھیں جن کی علماء و فصحا ء کے لئے گوہر ہائے گراں مایہ ہیں ۔۔یعنی علی ابن ابی طالب علیہ ع کے علم کا احاطہ ممکن نہیں ھے۔
زیرِ گفتگو” کتاب بابِ علم پہ دستک” ایک عجیب عنوان ہے عجب جسارت ہے کہ جس کے جواب میں عطا ہو تو انسان زمین سے عرش پر نگاہ کا متمنی ہوجائے ۔۔
اس کتاب کی ہر سطر صاحبِ نظر قاری کے دل کو مضطرب کرسکتی ہے ۔۔کہ علم جو انبیاء و اوصیاء کی میراث ہے اسی کی طلب اسی کی امید در اہلیبت سے لگائے جانے کی خواہش ہے ۔۔ زندگی پر وہ کلمات کہے گئے ہیں کے اگر ان پر عمل ہو تو دیں و دنیا دونوں سنور جائیں۔
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ خواہر ثروت جو اپنے بچپن سے ذاکر آل محمد ہیں اس در سے حصول علم میں کامیاب و کامران ہوئی ہیں
اس کتاب میں موجود ہر نظم اپنی نوع کی منفرد نظم ہے
ہر نظم میں قول ِ امام علی کی روح کو بیدار کیا گیا ہے ۔
اسے میں تشریح تو نہیں بلکہ مولائے متقیان کے فلسفے سے متعارف کروانا ضرور کہوں گی۔
مثلاً
“مفلسی اور شکر ”
قول امام “عفت مفلسی کی دولت اور شکر مندی کی زینت ہے ۔۔”
بارگاہ عفت سے
زندگی کی خواہش ہے
جو کمال عفت ہو
ایسی زندگی دینا
اے خدا اگر عفت
مفلسی کی زینت ہو
مجھ کو مفلسی دینا ۔۔
اور اگر غنی کرنا
مجھ کو شکر کی دولت
اس طرح عطا کرنا
میرے دل کی ہر دھڑکن
تیرا ذکر کرتی ہو۔۔
تیرا شکر کرتی ہو ۔۔
خواہر ثروت سے میرا تعارف اب سے کچھ عرصہ پیشتر ہوا. اور ان کی تحریر ہی ان سے میرے تعارف کا باعث بنی۔ انکی مختلف ویڈیوز اور انٹرویوز سننے سے اندازہ ہوا کہ وہ عشقِ آل محمد میں سرشار ہیں. وہ ایک خطیبہ ہیں ذاکرہِ اہل بیت ہیں. وہ آسمانوں کی وسعتوں میں سفر کرنے والی ایک روح ہے. وہ حسنِ خیال رکھتی ہیں وہ الفاظ کو بہترین طریقے سے برتنا جانتی ہیں. ان کا مطالعہ وسیع ہے. ڈاکٹر ثروت رضوی نہ صرف ایک اچھی شاعرہ ہیں بلکہ نثر کے میدان میں بھی سبقت رکھتی ہیں ۔
ان کی گفتگو سنی تو محسوس ہوا کہ وہ بناء کسی تیاری کے بھی نہایت عمدہ گفتگو کی صلاحیت رکھتی ہیں.
میرے لیے یہ بات حیرت تھی کہ ان کا ایک حوالہ غزل گوئی بھی رہی ہیں۔۔
لیکن جو کمال انہیں مدحت آل رسول میں حاصل ہے اس نے ان کی شخصیت میں محبت اور عقیدت کے رنگ کو نمایاں کردیا ہے۔
یہ نظم بعنوان “غنی و فقیر ”
کے چند اشعار دیکھئے ۔
جس میں قول امام “غنی و فقیر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جب تک کہ خدا کے سامنے پیش نہ کردیئے جائیں ” کچھ اس طرح پنہاں ہے ۔۔
ایسا تو ممکنات کی حد میں نہیں کہ دل
ناد علی کو پڑھ کے بھی مہتاب رو نہ ہو (وللہ)
کس کو خبر ہے کون غنی کون ہے فقیر ۔۔
جب تک خدا کے سامنے وہ روبرو نہ ہو ۔۔
ایک اور کاوش ملاحظہ فرمائیے
امام علی کا قول ہے ”
جس طرح سورج اور رات کبھی آپس میں اکھٹا نہیں ہو سکتے. اسی طرح اللہ کی محبت اور حب،ِ دنیا بھی اکٹھا نہیں ہو سکتے.
. اور اسکی منظوم
صورت دیکھیے
چاند سورج جس طرح یکجا نظر آتے نہیں
شاخ حب رب پہ دنیاوی ثمر آتے نہیں.
کیا کہنا.
مجھے ہمیشہ یہی محسوس ہوا کہ انہوں نے اپنی شاعری کا آغاز انہی موضوعات پر کیا ہوگا. اور یہ بات بھی نہایت قابل فخر ہے کہ وہ ایک ذہین اور قابل تحقیق کی طالبہ ہیں ۔ انہوں نے مختصر وقت یعنی کم عمری میں ہی اپنی صلاحیتوں، شیریں لیاقت ، تخلیقی مہارتوں پرواز پر مائل کیا ہے.
ان کی اس کتاب کو پڑھتے ہوئے چند بیش قیمت مضامین سے بھی استفادہ کیا۔۔
یعنی اس کتاب کا سب سے خوبصورت سلسلہ۔۔ پاکستان کے مستند شعراء و ماہرین تعلیم کی خواہر ثروت رضوی کے بارے میں گفتگو ہے ان صاحبان طرز شعرا و مصنفین کی رائے جن مخں خوبصورت الفاظ و حکایات کی چاشنی بھی موجود ہے. جو اس کتاب کی توقیر میں اضافہ کردیتی ہے ۔۔
جیسے افتخار عارف صاحب فرماتے ہیں.
” ثروت رضوی نے مولائے کائنات کے جملوں کو سرنامہ اور عنوان بنا کر اس کے بنیادی خیال کو آزاد نظم کے طور پر نظم کرنے کی کوشش کی ہے. جس کے لیے وہ قابلِ تحسین ٹھہرتی ہیں. ثروت رضوی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے خیرِ کثیر کے مرکز سے اپنے اخلاص اور ایمان کا تعلق استوار رکھا ہے .
ڈاکٹر محمد علی صدیقی لکھتے ہیں کہ
” ثروت رضوی واقعتًا لائقِ داد و تحسین ہے کہ انہوں نے نہج البلاغہ کے لائق،ِ امتیاز تفہیم اور شاعرانہ نزاکتوں کے ساتھ انصاف کیا ہے. اور وہ اعتماد کے ساتھ منظوم ترجمہ نگاری کے ایوان میں داخل ہو چکی ہیں.”
جناب سید شبیہہ رضا زیدی لکھتے ہیں کہ “دنیا میں بہت سارے لوگ ایسے ہیں کہ جو اپنی خدا داد صلاحیتوں کا غلط استعمال کر کے دنیا تو بنا لیتے ہیں مگر آخرت کو گنوا دیتے ہیں. اس کے برعکس وہ افراد بھی ہیں جو خدا کی دی ہوئی صلاحیتوں کو خوشنودی پروردگار کے حصول کے لیے مخصوص کر دیتے ہیں. انہی میں ثروت رضوی صاحبہ بھی شامل ہیں. ”
جناب پروفیسر منظر ایوبی فرماتے ہیں ” ثروت نے خانگی ذمہ داریوں اور منصبی مشاکل کے باوس ادبی لٹریچر کے مطالعہ اور مذہبی اور دینی شاہکاروں سے درس آگاہی حاصل کرنے میں جس عزم و حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے وہ ان کی ہم اثربالخصوص شاعرات کے لیے قابل رشک ہی نہیں بلکہ قابل تقلید لائق تقلید بھی ہے.
جناب شاداب احسانی کا کہنا کہ
“ثروت رضوی نے اپنے لیے روشن راستوں اور منزلوں کا تعین کر لیا ہے. تائید ایزدی و خوشنودی محمد اور آل محمد ان کے ساتھ ہے. عنقریب آنے والے چند برسوں میں ان کی کامیابی, اور تحقیقی کاوشیں آپ کے سامنے ہوں گی اور آپ بھی میری بات کی تائید کریں گے. ”
محترمہ شاہدہ حسن صاحبہ فرماتی ہیں کہ
” ثروت رضوی اگرچہ اپنی شیریں تخلیقات کے حوالے سے نئی نسل کی ایک ذہین اور باشعور شاعرہ کے طور پہ معروف ہے اور کئی شعری مجموعوں کی خالق ہیں. مگر اس بار ان کا یہ کی یہ تازہ ں کاوشیں, جداگانہ اور منفرد انداز میں سامنے آئی ہیں. باب علم پہ دستک دینے والے ان ہاتھوں پر نزول و رحمت کی کچھ ایسی مبارک ساعتیں اتری ہیں. جہاں ذہن و دل کے نہاں خانوں سے ایک واضح روشنی نمودار ہوتی محسوس ہو رہی ہے. ثروت نے اس بار روحانی و باطنی ورثوں سے رجوع کرتے ہوئےحقیقت حیات اور معاملات حیات کے ادراک کے تعلق سے علم و معرفت کے ایسے عالی مرتبت خزینے سے استفادہ کیا جس کی جلالت وہ عظمت مسّلَم ہے.
ڈاکٹر جاوید منظر کہتے ہیں کہ” مولائے کائنات کے احوال و اقوال کو اس طرح ثروت نے اپنے قلم کی زینت بنایا ہے کہ اردو زبان اپنے اس اضافے پر ناز کرے گی.”
شہید استاد پروفیسر سبظ جعفر زیدی
کا کہنا ہے کہ ثروت رضوی ان چند شاعرات میں شمار ہوتی ہیں کہ جو فنی اور تکنیکی لوازمات کو ملحوظ خاطر رکھتی ہیں. مفید اور روایتی شاعری میں بہرحال انہوں نے فنی تقاضوں کو نبھایا ہے. مزید تقویت کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اس در پہ دستک دی ہے. جہاں سے غیر حتی کہ دشمن بھی خالی ہاتھ اور ناکام و نامراد نہیں جاتے. یہ تو پھر ان کی اپنی اولاد ہیں اہلبیت کو چاہنے والی ہے. یقینًا وہ انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے. یہاں بھی اور وہا ں بھی. وہ ہر جگہ ہر طرح ان کا ساتھ دینے کو نبھانے والے ہیں.
محترمہ فاطمہ حسن ظہیر لکھتی ہیں کہ
” میری دوست تم حبِ محمد اور آل محمد اور یقین کا چراغ لے کر اپنے راستوں کی تیرگی دور کرنے چلی ہو. مجھے یقین ہے کہ وقت کے سارے مرحب و عنتر تمہارے آگے ناکام رہیں گے. تم نے صراطِ موَدت پر قدم رکھا ہے.
در علم پہ دستک دی ہے. مولائے کائنات نے تمہارا ہاتھ تھام لیا ہے. اب آگے تمہارے لیے روشنی ہی روشنی ہے یہ راستہ تو بوذر و قنبر (غلامانِ امام علی) کا راستہ ہے.
محترمہ ڈاکٹر عالیہ امام کا کہنا ہے کہ
علی کی فکر و گفتار کو قلم بند کرنا ہر انسان کا مرتبہ نہیں ہوتا. یہ منصب اسی شخصیت کے حصے میں آتا ہے جس کی روح کی گہرائیوں میں علی کی فکر کا چراغ روشن ہو جو اپنی سوچ پہ طاہر اور اپنے رویوں اور مزاج میں پاکیزہ ہو. اسی کا قلم ابو تراب کے اقوال کی گہرائیوں اور اس کی وسعتوں میں لال و گوہر کی جڑائی کا فریضہ انجام دے سکتا ہے. ثروت رضوی ایک صاحب طرز شاعرہ ہیں جنہوں نے انتہائی اختصاص کے ساتھ مولائے کائنات کے افکار و اقوال کو مرکزی خیال بنا کر سخنوری کی ہے ۔ ایک عہد آفرین لہجے کے ساتھ جس پر ہمیں بھی فخر ہے. اور تحّیر بھی. جذبے کا خلوص مقصد کی بلندی زبان کی مزاج دانی فن کی پختگی اور کردار کی پاکیزگی اگر یکجا ہو جائیں. تو “باب علم پر دستک” جیسی تخلیق جنم لیتی ہے. ڈاکٹر عالیہ امام.
اور یہ واقعتاً اس بات کا ثبوت ہیں کہ خواہر رضوی کا علم کی جانب بڑھتا ہوا ہر قدم ان کو نئے تجربات کرنے پر اُ کساتا ہے. ان کی کتابوں کے سلسلے جو آل محمد کی محبت سے سرشار ہیں خوبصورت عنوانات کے حامل ہیں.
انہوں نے نہایت عمدگی سے عربی مضامین کو اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔۔
بہت ہی کم شعرا کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ جنہوں آل رسول کی مناجات یا شعری مجموعوں کو ایسے ترجمہ کیا ہو جو اصل کے قریب قریب گردانے جاتے ہوں۔
یہ ایک بہت بڑی ادبی اور مذہبی خدمت ہے کہ عوام الناس تک ان مناجاتوں اور آل رسول کے پاکیزہ کلام کو آسان قابل فہم زبان میں منتقل کیا گیا ہے ۔۔ تاکہ اردو شاعری سے شغف رکھنے والے ان نادر و نایاب کلمات کے اصل فلسفے اور اس کی روح سے استفادہ کرسکیں ۔۔
بدقسمتی سے دور حاضر میں سوشل میڈیا کے استعمال نے ہمہ وقت مطالعے کی عادت سے ہم سب کو محروم کردیا ہے ۔۔ اور شاید اسی باعث وہ کتب جو سال بھر مختلف مواقع پر پڑھی جاتی تھیں ان کے مطالعے و تجزیے میں کمی آئی ہے۔۔
اور دوسری وجہ یہ تھی کہ آئمہ طاہرین علیہ السلام کے کلام کو عربی سے اردو میں اس طرح ترجمہ نہیں کیا گیا تھا کہ عام قاری ان سے استفادہ کرے اور اس نورانی کلام سے دلوں کو منور کرسکیں۔
مجھے یقین ہے کہ “باب علم پہ دستک میں موجود اردو اشعار کی صورت اقوال بعنوان کلامِ امام علیہ السلام ہماری زندگیوں کو روشن و بابرکت کردے گا
اہل مودت و صاحبان عقیدت یقینا ً ان شاعرانہ تشکیلات سے سرشار اور مستفید ہوں گے ۔۔.
جناب ریحان اعظمی کا شعری انداز سے تبصرہ و خراج تحسین نہایت خوبصورت ہے اسی کے چند اشعار پر اختتام کرتی ہوں ۔۔
صاحب ِثروتِ علم و ادراک
ہاتھ میں چاند لیے علم کی پہنے پوشاک
جب درِ علم کی بالوں پہ سجا لیتی ہے خاک
اس کی تعظیم کو جھکتے ہیں یقینا افلاک
علم کے در پہ جو دستک کی سزا وار ہوئی
وہ محبت کے قبیلوں کی علمدار ہوئی.
روما رضوی













