پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ رحمٰن ملک کہتے ہیں کہ ایف آئی اے اور اسٹیٹ بینک بتائیں کہ کن لوگوں کے قرضے معاف کیے گئے۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ رحمٰن ملک نے 228 ارب روپے کے قرضے معاف کرنے کی خبر کا نوٹس لے لیا، انہوں نے قرضہ معافی پر ایف آئی اے اور گورنر اسٹیٹ بینک سے 2 ہفتوں کے اندر رپورٹ طلب کر لی۔
اس حوالے سے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ جن لوگوں کے قرضے معاف کیے گئے، ان کی لسٹ کمیٹی کو دی جائے، بہت سے نادہندگان کے خلاف ایف آئی اے میں کیس چل رہے ہیں۔
سینیٹر رحمٰن ملک نے سوال کیا ہے کہ جن نادہندگان کے خلاف ایف آئی اے تفتیش کر رہی ہے کیا ان کے قرضے بھی معاف ہوئے ہیں؟
انہوں نے مزید پوچھا ہے کہ بتایا جائے کہ کس قانون اور معاہدے کے تحت حکومت نے قرضے معاف کیے؟ قرضہ بینک اور مؤکل کے درمیان کا معاملہ ہے پھر حکومت کیسے معاف کر سکتی ہے؟
رحمٰن ملک نے یہ بھی کہا ہے کہ ان قرضوں کے مد میں جو سیکیورٹی جمع کی گئی تھی اس کا کیا فیصلہ کیا گیا؟ کیا 228 ارب روپے قرضہ ہے یا سود کے ساتھ واجب الادا رقم ہے؟












