افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی سفارت خانے کے نزدیک خودکش دھماکے میں 10 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ طالبان نے دھماکے کی ذمّہ داری قبول کرلی ہے۔

خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کے مطابق دھماکے کے مقام سے کچھ فاصلے پر امریکی سفارت خانے اور نیٹو کے صدر دفتر کے علاوہ کئی اہم عمارتیں موجود ہیں اور یہ انتہائی حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

ششدرک نامی اس علاقے میں افغانستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کے بھی دفاتر ہیں۔

دھماکہ جمعرات کو ایک کار میں سوار خودکش حملہ آور نے کیا جب اس نے ایک مرکزی سڑک پر کار کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکے سے قریب کھڑی 12 گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں اور قریبی عمارتوں اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔

افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نصرت رحیمی کے مطابق دھماکے میں 10 افراد ہلاک جب کہ 42 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں اسپتالوں میں طبّی امداد دی جا رہی ہے۔

ترجمان وزارتِ داخلہ کے مطابق دھماکے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ششدرک کی چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش تھی۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

دوسری جانب طالبان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے غیر ملکیوں کی تین گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے جو ششدرک کے اس علاقے میں داخل ہورہی تھیں جہاں افغان سکیورٹی اداروں کے دفاتر موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کابل میں ایک ہفتے کے دوران یہ دوسرا بڑا حملہ ہے جس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔

پیر کو بھی کابل میں ایک دھماکے کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

یہ حملے ایسے موقع پر کیے جا رہے ہیں جب افغانستان میں طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور طالبان ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

گزشتہ روز یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ اس امکانی معاہدے پر خدشات کے باعث امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے اس پر دستخط سے انکار کر دیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY