فزانہ ناز کی ہلاکت سی ڈی اے اور پاک چائنا سینٹر کی انتظامی غفلت کانتیجہ ہے.جس میں این پی ایف کی کوتاہی کا پہلو بھی موجود ہے شعرا و ادبا سراپا احتجاج ہیں
پاک چائنا سینٹر میں نشنل بک فاؤنڈیشن کے قومی کتاب میلہ کی اختتامی تقریب کے فورا بعد اسٹیج سے گر کر جاں بحق ہونے والی راولپنڈی کی نوجوان شاعرہ اور ادبی تنظیم کسب ِ کمال ک بانی جنرل سیکرٹری فرزانہ ناز کی موت کے معاملہ پر ملک بھر کے ادبی حلقوں میں کئی دن گزر جانے کے باوجود شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے .
کئی شہروں مں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے , فزانہ ناز ک ہلاکت کے بعد ملک بھر کے ادبی حلقوں میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے سرگرم کارکن معروف شاعر و ادیب اور حلقہء ارباب ِ ذوق راولپنڈی کے سابق جنرل سیکرٹری احمد راضا راجا نے کہا کہ ہماری کسی ادبی سرکاری ادارے سے ذاتی جنگ نہیں .افسوس اس بات کا ہے کہ جو کردار ان اداروں کو ادا کرنا چاہیے , وہ دیکھنے کو نہیں ملا .
احمد رضا راجا نے مذید کہا کہ فزانہ ناز کے بچوں کو مناسب امدادی پیکیج دیا جائے, واقعہ کے موقع کی ویڈیو سامنے لائیں اور مرحومہ کو شہید کتاب کا سرکاری خطاب ملنے تک ادبی حلقوں میں جاری احتجاجی تحریک جاری رہے گی .

اس موقع پر احمد رضا راجا جو شاعروں کے مرکز حرف کدہ (حویلی لیاقت علی خان ) شعرا , ادبا کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ اکادمی ادبیات واحد ادبی ادارہ ہے , جس نے فرزانہ کے بچوں کے بارے میں اہم عملی اقدامات اٹھائے . باقی متعلقہ ادارےبھی جلد کردار ادا کریں . اسموقع پر ڈاکٹر ابرار عمر , آصف نواز ., رخسانہ سحر , زاہد زیدی, ڈاکٹر ناہید اختر , صبا کاظمی اور نادیہ عنبر لودھی سمیت کئی دوسرے شاعر ادیب اور جڑواں شہروں کی ادبی تنظیموں کے نمائندے بھی حرف کدہ میں موجود تھے













