زلزلے کے باعث منگلا پاور ہاؤس سے نیشنل گرڈ کو معطل کی جانے والی 700 میگاواٹ بجلی کی فراہمی دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔ زلزلے سے منگلا ڈیم اور پاور ہاوس مکمل طور پر محفوظ رہے۔
ترجمان واپڈا کے مطابق زلزلے سے منگلا جھیل کا پانی گدلا ہونے سے پاور ہاوس کی ٹربائنیں بند کردی گئی تھیں۔ ٹربائنز بند ہونے سے پاور ہاؤس سے نیشنل گرڈ کو فراہم کی جانے والی بجلی کی فراہمی بھی بند ہو گئی تھی۔
ترجمان کے مطابق حفاظتی اقدامات کے پیش نظر ٹربائنوں کو بند کیا گیا تھا۔ پاور ہاؤس کی ٹربائںوں کو کچھ دیر بند رکھنے کے بعد دوبارہ چلا دیا گیا اور نیشنل گرڈ کو 700 میگاواٹ بجلی کی فراہمی شروع کر دی گئی۔
ادھر ترجمان ارسا کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق زلزلے کے باعث منگلا ڈیم سے پانی کا اخراج کم کر دیا گیا ہے اور ڈیم سے پانی کے اخراج میں 30 ہزار کیوسک کی کمی کی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق واپڈا ڈیم کی سیفٹی اور پاور ہاؤس کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کر سکتا ہے۔
…………………………
جہلم اور میر پور آزاد کشمیر میں آنے والے شدید زلزلے میں منگلا ڈیم محفوظ رہا ہے، تاہم حفاظتی اقدامات کے پیش نظر منگلا پاور ہاؤس کی ٹربائنیں بند کردی گئی ہیں۔
ترجمان واپڈا کا کہنا ہے کہ جس وقت زلزلہ آیا اس وقت منگلا ڈیم سے 900 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی تھی، زلزلے کی وجہ سے ٹربائنیں بند کرنا پڑیں یوں 900 میگا واٹ بجلی سسٹم سے نکل گئی ہے جس کی وجہ سے مختلف شہروں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ تین سے چار گھنٹے تک بڑھ سکتا ہے۔
ترجمان کے مطابق متاثرہ علاقوں کو متبادل ذرائع سے بجلی فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ امدادی کارروائیاں بلاتعطل جاری رکھی جاسکیں۔
ترجمان واپڈا کے مطابق زلزلے کی وجہ سے منگلا ڈیم کا پانی گدلا ہوگیا ہے، پانی صاف ہونے پر منگلا پاور ہاؤس کی ٹربائنوں کو دوبارہ چلایا جائے، اس دوران بجلی متاثر رہے گی۔
ذرائع کے مطابق ڈیم اور بجلی گھر زلزے میں محفوظ رہے ہیں، زلزلے کے بعد ڈیم چیکنگ کےلیے ڈرلنگ کی جاتی ہے تاہم واپڈا کی ٹیم ڈیم کی ٹیسٹنگ کررہی ہے، ٹیسٹنگ کتنی تفصیلی ہوگی، اس کا فیصلہ ٹیکنیکل ٹیم کرے گی۔
ترجمان واپڈا کے مطابق منگلا ڈیم اور پاور ہاؤس میں نصب آلات سے ڈیٹا اکٹھا کیا جارہا ہے۔
منگلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242 فٹ ہے جبکہ ڈیم میں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.9 ملین ایکڑ فٹ ہے۔
آزاد کشمیر کے علاقے میرپور اور وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس میں اب تک 6 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہیں۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5اعشاریہ8 ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز جہلم سے 5 کلو میٹر شمال کی طرف تھا جب کہ گہرائی زیر زمین 10کلو میٹر تھی۔
جاتلاں کے مقام پر 2 پل ٹوٹ گئے ہیں، جس کے باعث نہر اپر جہلم کا پانی دیہات میں داخل ہونا شروع ہوا، کئی علاقے زیر آب بھی آگئے، تاہم نقصانات کی شدت میں کمی کےلئے منگلا ڈیم سے پانی کو بند کردیا گیا













