ادائیگی حقوق العباد میں مساجد کا کردار۔۔۔ شمس جیلانی

0
1000

ہم گزشتہ قسط میں یہاں تک پہونچے تھے کہ وہاں کے لیئے کچھ مت رکھو جو کچھ کرسکتے ہو معاملات کو یہیں پر خوش اصلوبی سے نبٹانے کی کوشش کرو؟ تاکہ تمہارا نام وہاں آسان حساب والوں میں شامل ہو؟ کیونکہ حضورﷺ نے فرمایا کہ جو حساب کے لیئے روکا گیا وہ ہلاک ہوا؟اس لیئے جیسا کہ حضور ﷺ نے خود کرکے دکھایا ہے ویسا ہی کرنے کی کوشش کرو۔اگر آپ ان کی سیرت ایک دفعہ پوری توجہ سے پڑھ لیں گے تو سب کچھ ذہن میں رہے گا؟ اب آگے بڑھتے ہیں۔ ہم نے حقوق العباد پر اپنی پہلی کتاب 2002 ء میں جب شائع کی تھی تو بہت کم لوگ تھے جو حقوق العباد کو گناہ سمجھتے تھے اور ہم نے اس وقت کہاتا کہ جیسے جیسے علم آگے بڑھے گا لوگ اس سلسلہ میں مزید جانکاری حاصل کر تے چلے جا ئیں گے۔اس سلسلہ میں علم بڑھنے اور میڈیا کے متحرک ہونے کی وجہ سے جانکاری تو بہت بڑھی مگر دنیا میں سرمایہ کارانہ نظام کے غلبے کی وجہ سے بشمول ِ مسلم ممالک، لوگ اخلاقی پستی میں مزید دھنستے چلے گئے؟ وجہ یہ تھی کہ ہم نے تعداد بڑھانے پر تو زور دیامگر اخلاق کے سدھار نے پر بالکل زور نہیں دیا نتیجہ یہ ہوا کہ جیسے کہ مسلمان دوسرے گناہوں میں آگے بڑھے ہیں وہ اس میں بھی اور آگے بڑھ گئے جس کا ثبوت پاکستان میں چاروں طرف قبضہ گروپ کی موجود گی سے ملتا ہے؟ یہ کیوں ہوا! اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جو مسلمانوں کو جو تزکیہ نفس کراتے تھے جن کا اصول تھا “محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں“ وہ رسمی طور پر تو ہیں مگر عملی طور کہیں بھی نہیں ملتے؟ جبکہ یہ کام بھی سب سے پہلے حضورﷺ کو تخویص ہوا تھا۔اس سے پہلے قرآن میں کہیں کسی اور نبی ؑ کے ساتھ اس کا ذکر نہیں ملتا کہ “ یہ تزکیہ نفس بھی کراتے ہیں “ صرف یہ ذکر ہے کہ وہ آیات پڑھ کر سناتے تھے۔ جبکہ ہمارے نبی ﷺ کے ساتھ یہ اضافت پہلی دفعہ نظر آئی کہ یہ (ص) کتاب سنتاتے ہیں اور تزکیہ نفس بھی کراتے ہیں؟ یہ فریضہ بھی حضور ﷺ نے تبلیغ طرح حج الوداع کے موقعہ پر امت کو منتقل کردیا کیونکہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی ؑ نہیں آنا تھااور وہ کام بھی اس امت کرنا تھا؟ حضورﷺ کے وصال کے بعد جولوگ یہ کام کر رہے تھے؟ طویل عرصہ تک انہوں نے بے مثال کام کیا۔ اس کے بعد دو صدی پہلے ان کے ورثہ نے تن آسانی اختیار کرلی جبکہ گدیاں وراثت میں منتقل ہونے لگیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ نگاہ جو پہلے مریدوں کے قلب پر رہتی تھی وہ بھی مرید وں کے قلب سے کھسکتی ہوئی جیب پر مرکوز رہنے لگی۔ تو انہیں بھی سچ کہنے میں دقت محسوس ہونے لگی؟ دوسرے اغیار نے یہ بھانپ لیا تھاکہ اسلام کی کامیابی کا راز ان کے اعلیٰ کردار میں ہے؟ وہ انہوں نے خود اپنے یہاں اپنالیا؟ اور ہمیں اس سے دور کرنے کے لیئے نفرتوں کا جن بوتل سے نکال کر اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ ہاتھ میں دیدیا اور ہمارے ہی لوگ بجا ئے اپنے لوگوں کے کردار کی طرف توجہ دینے کہ جس سے کہ دین مزید پختہ ہوتا تھا؟ وہی بجائے مسلمان بنا نے کہ وہ انہیں کو بدعتی بنانے میں لگ گئے؟ اور یہ عمل پورے زور شور سے جاری رہا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم تعداد میں تو بہت زیادہ ہیں مگر معاملات میں بہت پیچھے ہیں؟ یہ ہی ہماری وہ کمزوری ہے جس سے اغیار فائدہ اٹھا رہے ہیں؟ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ کبھی متحد نہیں ہوسکتے؟ مسجدیں ہیں جو اس سلسلہ میں کوئی کردار ادا کر سکتی تھیں؟ مگر ان کی بھی ہیئت ترکیبی بد ل دی گئی ہےکہ وہ بھی نفرت کے پرچار میں آگے آگے رہیں؟ اور گروہ بندی وجہ سے اپنے ماننے والوں کو لیکر الگ الگ بیٹھ گئیں؟ جبکہ اسلام نام رہ گیا ہے صرف رسمی عبادات کا؟ حالانکہ حضور ﷺ کے زمانہ میں مساجد کی سب سے زیادہ اہمیت تھی؟ وہ اس سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ جہاں بھی چند دن ٹھہرے وہاں پہلے مسجد بنا ئی؟ کیونکہ مسجد ان ﷺکے دور میں صرف عبادت گاہ ہی نہیں تھی؟ بلکہ وہ بہ یک وقت بہت سے فرائض انجام دیتی تھی، سب سے پہلے تو نماز ِ پنج وقتہ کی پابندی تھی جو کہ میٹنگ کا کام بھی دیتی تھی اگر کوئی نظر آئے نہ تو فوراً تشویش پیدا ہوجاتی تھی کہ وہ کیوں نہیں آیا، کیا وجہ ہے اور سب بھائی اس کی نہ آنے کی وجہ معلوم کرکے اس کی مدد کو پہنچ جاتے تھے۔ وہیں تعلیم کے حصول کے لیئے بھی دنیا کی سب سے پہلی اسلامی یونیورسٹی ایک چھوٹے سے چبوترے پر قائم تھی جس نے بے حساب حفاظ اور چند بڑے اسلامی اسکالر پیدا کیئے۔ وہی حضور ﷺ کی تربیت گاہ تھی جس میں حضور ﷺ تزکیہ نفس کراتے تھے۔ وہیں حضورﷺ کی عدالت بھی منعقد ہوتی اسی میں دربار تھا، وہیں وفود بھی پیش ہوتے تھے۔ اور وہیں قیدی بھی قید کیئے جاتے تھے؟ کیونکہ سب کا عقیدہ یہ تھا کہ ہمیں یہاں دنیا میں عقبیٰ کمانے کے لیئے بھیجا ہے؟ اس کے برخلاف کسی مسجد کی دیوار یہ طغرہ لگا ہوا نہیں ملتا تھا کہ مسجد میں “ دنیا کی باتیں کرنا نیکیوں کو ایسا کھاتا ہے جیسے لکڑی کو آگ “ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ چھوٹے بڑے مسجد کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔ آج کی طرح نہیں کہ مسجد جاتے ہوئے لوگ خوف کھا تے ہیں؟ اب سے پچاس پہلے تک مساجد میں خواتین کا داخلہ ہی ممنوعہ تھا جو کہ کل آبادی 51 فیصد ہیں۔ جب ماں مسجد میں نہیں جا سکتی تھی تو بچے کیسے جاتے بچے تو ویسے ہی ہر اجنبی سے الر جک ہوتے ہیں۔ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY