ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ امریکی خلاف ورزیوں کے بعد ایران نے مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں معطل کر دی ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ امریکا نے مسلسل حملوں اور مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے باعث خود ہی اس معاہدے کو غیر مؤثر بنا دیا، جس کے بعد ایران نے بھی اس پر عمل درآمد اور اپنی ذمہ داریاں فی الحال معطل کر دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران کی پوری توجہ ملک کے دفاع پر مرکوز ہے اور موجودہ حکمت عملی جارحیت کا بھرپور جواب دینا اور حملہ آوروں کو سبق سکھانا ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکا پہلے ہی ایسا جواب حاصل کر چکا ہے جس سے واضح ہو گیا ہے کہ وہ فوجی کارروائیوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا، اگر امریکا عقل سے کام لے تو اسے دوسرا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران نے پہلی بار باضابطہ طور پر مفاہمتی یادداشت کی معطلی کا اعلان کیا ہے۔
اس سے قبل ایرانی حکام امریکا پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے تھے اور خبردار کرتے رہے تھے کہ جارحیت جاری رہی تو ایران مناسب فیصلے کرے گا۔













