پاناما کیس میں عجب پیشرفت ، ایک کے بعد دوسرا قطری خط

0
930

پاناما کیس میں بڑی پیشرفت ، ایک کے بعد دوسرا قطری خط آ گیا ۔ حسین نواز نے قطری شہزادے کا خط اور جدہ سٹیل ملز کی فروخت کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کر دیا ۔ شہزادہ جاسم نے کہا میاں محمد شریف نے 1980میں نقد بارہ ملین درہم کی سرمایہ کاری کی ۔ میاں شریف کی خواہش پر رقم کی سیٹلمنٹ کے لیے آف شور کمپنیوں کے بیئرر سرٹیفکیٹ حسین نواز کے نمائندے کو دئیے گئے ۔ پاناما کیس میں اہم موڑ ، حسین نواز کی جانب سے ایک اور قطری خط اور جدہ سٹیل ملز کی فروخت کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع ، میاں محمد شریف نے 1980میں نقد بارہ ملین درہم کی سرمایہ کاری کی ، 2005 میں 80 لاکھ ڈالر کی رقم شریف خاندان کو واجب الادا تھی ۔

میاں شریف کی خواہش پر رقم کی سیٹلمنٹ کے لیے آف شور کمپنیوں کے بیئرر سرٹیفکیٹ حسین نواز کے نمائندے کو دئیے گئے ، 2006 سے پہلے یہ سرٹیفکیٹ قطر میں تھے ، شہزادہ حمد بن جاسم کا خط میں موقف ، شہزادہ جاسم نے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ ان کے پہلے خط پر متعدد سوال اٹھائے گئے ۔ ان سوالوں کے جواب میں اپنا موقف پیش کر رہا ہوں ، دوسری جانب جدہ سٹیل کی فروخت کے ریکارڈ کے مطابق مل 2005 میں 6 کروڑ 31 لاکھ ریال میں فروخت ہو ئی ۔ حسین نواز نے شیزی نقوی کا بیان حلفی بھی سپریم کورٹ میں جمع کرایا ۔ بیان حلفی کے مطابق برطانوی عدالت میں التوفیق کمپنی کے نمائندے کی حیثیت سے پیش ہوتا تھا ۔ لندن کے چاروں فلیٹس حدیبیہ پیپرز ملز کے لیے رہن نہیں رکھے گئے ، لندن فلیٹس ضبط کرنے کی استدعا رحمان ملک کی رپورٹ کی روشنی میں کی ۔

دوسری جانب جدہ سٹیل ملز کی فروخت کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کر دیا گیا ، شیزی نقوی کا بیان حلفی بھی عدالت میں جمع کرا دیا گیا ۔ دنیا نیوز نے عدالت میں جمع کرائے گئے ریکارڈ کی کاپی حاصل کر لی ، ریکارڈ کے مطابق جدہ سٹیل ملز 2005 میں مبلغ 6 کروڑ 31 لاکھ روپے میں فروخت کی گئیں ۔ ریکارڈ کے مطابق ملز کی فروخت کے موقع پر چار کروڑ چوبیس لاکھ ستر ہزار ریال کی رقم ایڈوانس میں لی گئی جبکہ دو کروڑ چھ لاکھ تیس ہزار ریال معاہدے کے دو ہفتے بعد ادا کئے گئے ۔ اس موقع پر حسین نواز نے شیزی نقوی کا بیان حلفی بھی عدالت میں جمع کرا دیا ، بیان حلفی 13 جنوری 2017 کو ریکارڈ کیا گیا جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ برطانوی عدالت میں التوفیق کمپنی بطور نمائندہ پیش ہوتا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ لندن کے چاروں فلیٹس کو حدیبیہ پیپرز ملز کیلئے رہن نہیں رکھا گیا تھا ، دسمبر 1998 ء میں سینیٹر رحمان ملک کی رپورٹ میں اس بات کا دعویٰ کیا گیا تھا کہ شریف خاندان ان فلیٹس کا مالک ہے ۔

اسی دوران پاناما کیس کی سماعت کے دوران مریم نواز شریف کے وکیل شاہد حامد نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی موکلہ مریم نواز شریف کے حوالے سے عدالت میں جعلی دستاویزات پیش کی گئیں ، دوران سماعت ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے اپنے انٹرویو میں خود پر لگائے گئے الزامات کا جواب دیا تھا ، ان کا کہنا تھا کہ شادی شدہ خاتون زیر کفالت کی تعریف کے زمرے میں نہیں آتی اور میں عدالت میں ان کے زیر کفالت نہ ہونے کے حوالے سے مزید دلائل پیش کروں گا

SHARE

LEAVE A REPLY