ٹرمپ کے انتباہ کے بعد بھارت نے اینٹی ملیریا ادویات کی برآمد پر پابندی اٹھا لی

0
608

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے ہائیڈروآکسیکلورو کوئن کی برآمد پر عائد پابندی نہ اٹھائی تو اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نیویارک میں آئندہ تین ہفتوں کے لیے تمام اسکولز اور غیر ضروری کاروبار بند رکھنے کا حکم

بھارت کا کہنا ہے کہ وہ اینٹی ملیریا کی دوا ‘ہائیڈوآکسی کلوروکوئن’ کی محدود پیمانے پر درآمد جاری رکھے گا۔ مذکورہ دوائی کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس کے خلاف اہم ہتھیار قرار دیا تھا۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستو نے منگل کو کہا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ملکوں کے لیے پیراسیٹیمول اور اینٹی ملیریا ادویات کی مناسب مقدار میں درآمد کرے گی۔

بھارت کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ہی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ادویات کی سپلائی سے متعلق کہا تھا اور پیر کو انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے ادویات کی سپلائی پر عائد پابندی نہ اٹھائی تو اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ کرونا وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں کو بھی ادویات فراہم کریں گے۔

یاد رہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز کے ساتھ ساتھ ہائیڈروآکسی کلوروکوئن کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔ تاہم ماہرینِ صحت اس دوا کو کرونا کا علاج تفویض نہیں کرتے۔

……………………..

صدرٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ نیویارک میں کرونا وائرس کے خلاف جاری کارروائیوں میں مدد کے لیے مزید ایک ہزار فوجی بھیج رہے ہیں۔ اس سے پہلے نیویارک میں تقریباً ہزار بستروں پر مشتمل ایک بحری فوجی اسپتال بھیجا جا چکا ہے جہاں کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج کیا جائے گا۔

نیویارک میں ہفتے کی شام تک کرونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 14 ہزار سے زیادہ تھی جن میں سے 63 ہزار سے زیادہ صرف نیویارک شہر میں ہیں جس کی وجہ سے اسپتالوں پر بہت بوجھ پڑ گیا ہے اور طبی عملہ بھی اس عالمگیر وبا سے متاثر ہو رہا ہے۔

امریکہ اس وقت دنیا بھر میں کرونا وائرس کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن چکا ہے جہاں ہفتے کی شام تک متاثرہ افراد کی تعداد تین لاکھ سے بڑھ گئی تھی۔ اور آٹھ ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کرونا وائرس پر اپنی روزانہ کی معمول کی کانفرنس میں کہا کہ انہیں یہ بتاتے ہوئے بہت دکھ ہو رہا ہے کہ یہ مہلک وائرس آنے والے دنوں میں بہت سے امریکیوں کی جانیں لے لے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر لوگوں نے احتیاط نہ کی تو جانی نقصان اندازوں سے کہیں زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل وہ خبردار کر چکے ہیں کہ مہلک وائرس ایک لاکھ سے دو لاکھ چالیس ہزار تک امریکیوں کو ہلاک کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے کے لیے وینٹی لیٹرز سمیت تمام ضروری ساز و سامان اور آلات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY