پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جمعیت علما اسلام (ف) سے حکومت کے خلاف آزادی مارچ کے حوالے سے مشاورت کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی جبکہ مارچ کو موثر بنانے کی خاطر تاریخ میں تاخیر کی تجویز دی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘مسلم لیگ (ن) نے فیصلہ کیا ہے کہ انتقامی بنیادوں پر گرفتار کیے گئے اپنے قائد، دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی اور پاکستان کو آزاد، منصفانہ انتخابات کی طرف لے جانے اور اس حکومت سے نجات کے لیے باقاعدہ طور پر مہم کا آغاز کرے گی’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان مسلم لیگ (ن) ہر اس مہم کی حمایت کرے گی جو اس حکومت گرانے کے لیے لائی جائے گی اور اسی جذبے کے تحت ہم آزادی مارچ میں تعاون کا اعلان کرچکے ہیں’۔
احسن اقبال نے کہا کہ ‘آج ہم نے ایک کمیٹی بنائی ہے وہ کمیٹی دیگر جماعتوں کے ساتھ مشاورت کرے گی اور جمعیت علما اسلام کے ساتھ مشاورت کرکے جیسا کہ طے ہوا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے بعد جے یو آئی ایف اور مسلم لیگ (ن) آزادی مارچ کی تاریخ پر مشاوت کریں گے تو ہم اس مشاورت کا آغاز کریں گے’۔












