وفاقی دارالحکومت میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بڑی تعداد میں عوام سڑکوں پر موجود ہے، جہاں انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائے گی اور وزیراعظم عمران خان خود اس زنجیر کا حصہ بننے کے لیے موجود ہے۔
اس موقع پر وہاں موجود مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ افسوس ہے کہ ملکوں کے لیے انسانوں سے زیادہ پیسا اہم ہے اور جبھی مقبوضہ کشمیر کی کوریج نہیں دی جارہی۔
اسلام آباد میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم بار بار دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ 80 لاکھ انسانوں کو بھارت کی فوج نے کرفیو میں بند کیا ہوا ہے، جسے 2 ماہ سے زیادہ ہوگیا ہے، عالمی میڈیا ہانگ کانگ کے احتجاج کو فرنٹ پیج پر پیش کرتا ہے جبکہ وہاں تھوڑے لوگ زخمی ہوئے اور 2 سے 3 لوگ مرے ہیں۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں سب کو بند کیا ہوا ہے جبکہ عالمی میڈیا میں اس کی کوریج نہ ہونے کے برابر ہے، گزشتہ 30 سال میں ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کی شہادت ہوئی کیونکہ وہ اپنا حق خود ارادیت مانگ رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی فوج کے سامنے اپنے حق کے لیے کشمیری احتجاج کرتے ہیں لیکن وہ ان پر فائرنگ کرتی ہے، تاہم عالمی میڈیا کا دہرا معیار نظر آرہا ہے۔
قبل ازیں وفاقی دارالحکومت میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بڑی تعداد میں عوام سڑکوں پر نکلی اور اس سلسلے میں ایک ریلی بھی نکالی گئی، جس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی بھی شریک ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر کے باعث محصور ہونے والے مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جارہی ہے، جس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان خود بھی شریک ہیں۔
اسلام آباد میں ایکسپریس چوک سے ڈی چوک تک انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی، اس کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔
مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے عوام کی بڑی تعداد موجود تھی اور شرکا نے ہاتھوں میں پاکستان کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کا جھنڈا بھی تھاما ہوا تھا۔
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کے بھارت کے یکطرفہ اقدام کے بعد صورتحال المناک ہے اور 2 ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود وادی سے بھارتی لاک ڈاؤن اور کرفیو کو نہیں ہٹایا گیا ہے۔
خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے 2 اکائیوں میں تقسیم کردیا تھا جبکہ مذکورہ فیصلے کے سبب کشیدگی کے خطرے کے پیشِ نظر وادی میں مزید ہزاروں بھارتی فوجیوں کو تعینات کردیا تھا۔











