اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے بینکاری چینلز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کرلیا گیا ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ ‘تجارت سے متعلق انسداد منی لانڈرنگ کو مضبوط کرنے اور دہشت گردی کیلئے مالی معاونت (اے ایم ایل/سی ایف ٹی) کا مقابلہ کرنے اور بینکاری چینلز کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے اس معاملے ایک جامع فریم ورک بنایا گیا ہے’۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے تصدیق شدہ ڈیلرز (بینکوں) کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سسٹم اور کنٹرول کو اپ گریڈ کریں اور پالیسیز اور طریقہ کار کو فریم ورک کی ضروریات کے مطابق لائیں تاکہ فوری طور پر ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔
مرکزی بینک کی جانب سے یہ کہا گیا کہ ہے کہ اس فریم ورک کی نکات اضافی ہیں اور انہیں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے معاملے پر پہلے سے جاری ہدایات کی متبادل نہیں ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اس کی تعمیل ڈیلز کو مروجہ اے ایم ایل/سی ایف ٹی قوانین اور قواعد و ضوابط یا کوئی دیگر متعلقہ قانون کے تحت ان کی قانونی اور ضابطے کی ذمہ داریوں سے استثنیٰ نہیں دے گی۔
تصدیق شدہ ڈیلرز کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے صارف کو مقررہ فارمز پر صحیح معلومات بتانے، جس مقصد کے لیے زرمبادلہ حاصل کیا گیا اسی کے لیے اس کا استعمال اور غیرملکی زرمبادلہ کی واپسی جو برآمدات کی مکمل مالیات کو بیان کرے، ان ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہ کریں۔












