میر کیا سادا ہیں بیمار ہوئے جن کے سبب،ماہ پارہ صفدر

0
1577

یہ قصہ ہے ایک شہزادے اور شہزادی کی پاکستان آمد کا،
کوہ قاف کے دیس سے نہیں سابق آقاؤں کی راج دھانی سے
صد شکر کہ شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ کا چار روزہ دورہ بخیر و عافیت مکمل ہوا، ان کے بچے ہمرا ہ نہیں تھے، حالانکہ شاہی جوڑا عموما اپنے بچے ساتھ لیجاتا ہے، شہزادی کیٹ کے گود میں بچے کو لئے جہاز سے اترتے ہوئے امیجزتو آپ نے خود دیکھے ہونگے
خیر پاکستان کے نکتہ نظر سے یہ دورہ بہت اہم تھا جس کا مقصد بیرونی دنیا کو یہ دکھانا مقصود تھا کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے جہاں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے
مگر جہاں جہاں شہزاداہ شہزادی جاتے رہے وہاں وہاں گلیاں اور شاہراہیں رعایا کے لئے بند ہوتیں رہیں ،
اوران کی زندگی مشکل بنتی رہی، شاہی جوڑا بھی حیرت میں گم ہوگا، کیونکہ وہ تو جہان جاتے ہیں انھیں سڑکوں کی دونوں جانب عوام نظر آتے ہیں، یوں سنسان شاہراہیں دیکھ کر انھیں حیرت تو ضرور ہوئی ہوگی

اسلام آباد میں تو شہری چار چار گھنٹے رستوں میں پھنسے پریشان ہوتے رہے، سمجھ میں نہیں آرہا کہ جب آپ باہر کی دنیا کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ یہاں حالات اچھے ہیں آپ بزنس اور سیر وسیاحت کے لئے یہاں آئیں تو پھر شہر کے علاقے بند کرنے کا کیا مطلب ہے، مگر عوام کیسے پریشا ن ہوئی میڈیا پر بلیک آؤٹ رہا، البتہ
پاکستان کے میڈیا میں اور یہاں برطانیہ کے کچھ اخبارات میں بھی شہزادی کیٹ کے لباسوں کے خوب خوب چرچے ہوتے رہئے، انھوں نے کب کیا پہنا، پاکستانی میڈیا تواسی پر خوش ہوریا تھا کہ انھوں نے لباس کے ساتھ ڈوپٹہ بھی اوڑھا، اس کے ساتھ ساتھ کیٹ کا شہزادی ڈیانا کے ساتھ موازنہ بھی کیا جاتا رہا، وہ یوں کہ شہزادی ڈیا نہ پاکستان میں بہت مقبول ہیں، ایک تووہ خود چیرٹی کی کاموں میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں اور دوسرے عمران خان کی پہلی اہلیہ جما ئما کی دوست بھی تھیں اور ان کے ہی والدین کے جہاز میں شوکت خانم کینسر ہسپتال میں چیرٹی شو کے لئے آئیں تھی۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شہزادی ڈیانہ برطانوی شاہی خاندان کی وہ پہلا رکن تھیں جو شاہی رسم و رواج کی زنجیریں توڑ کراصل دنیا کے قریب ہوہیں اور اسی لئے نہ صرف برطانیہ بلکل دنیا بھر عوام الناس میں ایسی مقبولت حاصل کی جس کی پہلی سے کوئی مثال نہیں تھی،
ولیم اور کیٹ کی بھی یہ ہی کوشش ہے۔

وہ پاکستان کے دورے پر آئے تاکہ ملک میں معاشی ترقی کے لئے جس مثبت تبدیلی کی ضرورت ہے وہ اس کا استعارا بنیں۔ ظاہر ہے مقصد یہ ہےکہ ملک میں غربت کا خاتمہ کیا جاسکے

ہم بھی کتنی جلدی بھول گئے کہ کیٹ اور ولیم اسی شاہی خانوادے کے فرد ہیں، جس نے بر صغیرکو اپنی نو آبادی بنا کر تین سو برس تک یہاں کی دولت لوٹ لوٹ کر اپنا ملک کو دنیا کی ایک بڑی معیشت بنایا مگر برصغیر کو غربت کی ایسے ڈھیر پر چھوڑ گیے کہ یہ خطہ ابھی تک سنبھل نہیں پایا
مصنف ششی ترور جو بیس برس سے زیادہ اقوام متحدہ میں رہے، انھوں نے بہت تحقیق کے بعد اپنی کتاب میں لکھا ہے کے جب 1613 انگریز تجارت کی پردے میں برصغیرکے ساحلوں پر لنگر انداز ہوئے، تو یہاں جو قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا وہ تو الگ اورایک طویل دکھ بھری داستان ہے مگرجب ایست انڈیا کمپنی نے یہاں کے معاشی وسائل پر قبصہ کرنا شروع کیا تو 1700 میں مغل تاجدار اورنگ زیب کے اقتدارمیں دنیا کی مجموعی معیشت کے حجم میں 27 فیصد صرف برصغیر کا حصہ تھا، جو اس وقت یورپ بھر کی آمدنی کے برابرتھا۔ برطانیہ کی تمام صنعتی ترقی برصغیر کی لوٹی ہوئی دولت سے تعمیر کی جاتی رہی اور جب 1947 میں بر طانیہ نے اپنی نوآبادی کو چھوڑا تو بھارت کی معیشت کا حجم 27 سے 3 فیصد پر آچکا تھا، یہانتک کہ دوسری عالمی جنگ کے سلسلے میں برطانیہ نے امریکہ سے جو قرض لیا تھا، اس کا کچھ حصہ بھی ادئیگی کے لئے بھارت پر تھوپ دیا گیا، گویا راج نکتے وقت ایک امیر مغل سلطنت کو غربت اور قرضے میں جکڑ کر واپس ہوا

چلیے اگر یہ مان لیا جائے کہ قوموں کی تاریخ ایسی بربادیوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے، قومیں ماضی میں زندہ نہیں رہتیں، انھیں آگے بڑھنا ہوتا ہے، ٹھیک ہے ، توچلیے گزشتہ چند عشروں کی تاریخ پر نظر ڈالے لیتے ہیں، یہ تو ماضی قریب کی بات ہے جن کے نتائج آپ کے ہمارے سب کے سامنے ہیں اور ملک بھگت رہا ہے
پاکستان دنیا کو بتا نا چا ہتا ہے کہ وہ مذہبی کٹر پنتھیوں کا ملک نہیں بلکہ ایک کشادہ ذہن کی اعتدال پسند قوم ہے، جس میں کوئی شک بھی نہیں
مگر کیا ستم ظریفی ہے کہ پاکستان مذہبی انتہا پسندی پر مائل ملک نہیں تھا

سرد جنگ کے خاتمے کے لئے پاکستان میں شدت پسندی کو ہوا دی گئی اور مذہبی جماعتوں کی باقاعدہ فنڈنگ کی گئی پھر سابق سوویت یونین کو توڑنے کے لئے پاکستان کو جہادی کلچر میں تبدیل کروادیا، جس میں امریکہ سمیت مغربی ملکوں میں بر طانیہ پیش پیش تھا، مگر سوویت یونین کے توٹتے ہی یہ سب پاکستان کو
ہمسایئگی میں ایک جنگ زدہ بکھرے ہوئے ملک افغانسان اورخود پاکستان کے اندر دنیا بھر سے جمع کیئے گئے جہادیوں کی دلدل میں چھوڑ کر دیوار برلن گرنے کے جش منانے نکل گئے اور طرفہ جفا یہ کہ امریکہ پر حملے کے بعد پاکستان کو دہشت گردی سی منسلک کردیا گیا۔

اب اسی پاکستان کو اپنے پر لگی دہشت گردی کی گرد جھاڑنے اور عالمی برادری میں اپنا تشخص بحال کرنے کی ضرورت پڑ رہی ہے تومدد کے لیے برطانیہ کے ہی شاہی جوڑے کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کر دئے گئے، گویا

میر کیا سادا ہیں بیمار ہوئے جن کے سبب

اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

ماہ پارہ صفدر

SHARE

LEAVE A REPLY