سپریم کورٹ نے تمام ہائی کورٹس سے گیس ڈیولپمنٹ انفراسٹرکچر سیس (جی آئی ڈی سی) 2015 سے متعلق تمام زیر التو مقدمات کی تفصیلات طلب کرلی۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس مشیرعالم نے طویل سماعت کے بعد عدالتی حکم نامے پڑھتے ہوئے کہا کہ ’تمام اعلیٰ عدالتوں کے رجسٹرار جی آئی ڈی سی 2015 سے متعلق تمام مقدمات کی تفصیلات سپریم کورٹ میں پیش کریں اور متعلقہ قونصل کو بھی نوٹی فکیشن ارسال کردیے جائیں‘۔
عدالتی حکم میں کہا گیا کہ اگر متعلقہ وکلا مقدمات کی سماعت کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو درخواست جمع کرائیں، وہ سپریم کورٹ میں از خود یا پھر ویڈیو لنک کے ذریعے حاضر ہوں۔
وفاقی حکومت کی ترجمانی ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے کی اور مذکورہ مقدمات کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی۔
بینچ کے دوسرے جج جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ میں مذکورہ مقدمات زیر التو ہیں‘۔
سی این جی اسٹیشن مالکان کے قونصل مخدوم علی خان جب سپریم کورٹ کراچی رجسٹرری کے کمرہ عدالت میں موجود تھے اور کراچی رجسٹرری اسلام آباد ہائی کورٹ سے بذریعہ ویڈیو لنک منسلک تھی۔
جس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ ’نیکسٹ جنریشن کی عدالت میں خوش آمدید‘۔
دوسری جانب پرائم منسٹر ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق 2012 سے 2018 کے درمیان جی آئی ڈی سی کے مقدمات میں اب تک 417 ارب روپے پھنس چکے ہیں۔
اپنی درخواست میں حکومت نے جی آئی ڈی سی ایکٹ 2015 سے متعلق تمام مقدمات میں خطیر ریونیو ملوث ہے۔
اعلامیے کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد جی آئی ڈی سی ایکٹ 2015 سے معاملات زیر التو ہیں۔
پشاور ہائی کورٹ نے 31 مئی 2017 کو جی آئی ڈی سی ایکٹ 2015 کے خلاف دائر پٹیشن کو مسترد کردیا تھا۔












