وزیراعظم کے مشیر برائے سادگی مہم و اداراہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ تنظیم نو کے کابینہ سے منظور شدہ منصوبے کے تحت 8 سرکاری محکمے متاثر ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ان محکموں کی تعداد 441 سے کم ہو کر 342 ہوجائے گی جن میں سے کچھ کے ملازمین کو دیگر محکموں میں تو کچھ کو صوبائی محکموں میں ضم کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر عشرت حسین کا بیان وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے 400 سرکاری محکمے ختم کیے جانے کا اشارہ دیا تھا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ کے اجلاس میں ڈاکٹر عشرت حسین کا کہنا تھا کہ میرا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی فواد چوہدری کے بیان سے کوئی تعلق ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی کی بھی ملازمت ختم نہیں ہوگی اور جو اِن ختم کیے جانے والے محکموں میں کام کررہے ہیں انہیں دیگر محکموں میں منتقل کیا جائے گا۔

ڈاکٹر عشرت حسین نے بتایا کہ کابینہ نے اس تجویز کی منظوری دے دی ہے اور اس کے نفاذ کے لیے ایک عملدرآمد کمیٹی بھی تشکیل دی جاچکی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کابینہ نے متعدد وفاقی محکموں کو غربت مٹاؤ اور سوشل سیکیورٹی ڈویژن میں، کامرس اور ٹیکسٹائل ڈویژن کے انضمام، کیپٹل ایڈمنسٹریشن کے خاتمے اور اس کی ذمہ داریاں متعلقہ وزارتوں اور وزارت صحت کی تنظیم نو کی منظوری دی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں وفاقی حکومت کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو اپ گریڈ کر کے ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈویژن بنانے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ڈھانچے کی تجدید بھی ٹاسک فورس کے زیرِغور ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY