وزیر ریلوے نے تیز گام حادثے پر غلطی کا اعتراف کرلیا

0
725

وزیر ریلوے شیخ رشید نے رحیم یار خان میں تیز گام ایکسپریس حادثے پر غلطی کا اعتراف کرلیا۔

رحیم یار خان میں حادثے کے مقام کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘تیزگام ایکسپریس حادثے میں 74 افراد ہلاک ہوئے ہیں، ہم سے غلطی ہوئی، تبلیغی جماعت والوں کو چولہا لے جانے سے نہیں روکا جاتا تھا تاہم آئندہ سے ایسا نہیں ہوگا’۔

انہوں نے تمام شہدا کے لیے پاکستان ریلوے کی جانب سے 15 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا اعلان کیا اور امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم پیکج سے بھی متاثرین کو کچھ دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ‘رائیونڈ میں 2 لاکھ لوگ اجتماع کے لیے آتے ہیں اور 134 ٹرینیں چل رہی ہیں اور سب کا اسٹاپ رائیونڈ پر رکھا گیا تھا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ٹرین میں میر پور خاص کی جماعت تھی جس کے امیر سلیمان صاحب تھے، جماعت کو ڈرائیور اور گارڈ نے روکا کہ چولہا نہ جلائیں تاہم جماعت کے افراد نے ان کے سامنے آگ بجھادی مگر ان کے جانے کے بعد پھر سے چولہا جلایا اور ناشتے کے انتظام میں ایک بڑا سانحہ ہوا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘سانحے پر پوری قوم غمزدہ ہے اور متاثرین کے لیے دعگو ہوں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘واقعے کے بعد آرمی چیف نے خصوصی طور پر جہاز دیا اور پاک فوج نے اتنی تیزی سے زخمیوں کو ہسپتالوں تک منتقل کیا جس پر میں ہماری فوج کا شکر گزار ہوں ورنہ ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کرجاتی’۔

وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ ‘ٹرین میں آگ لگنے کے بعد تیز ہوا سے آگ پیچھے کی طرف بڑھی جس کی وجہ سے 3 بوگیوں کو نقصان پہنچا’۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘سب سے کم حادثے میرے دور میں ہوے ہیں، میرا استعفیٰ کوئی مسئلہ نہیں تاہم میں اس پر اتوار کے روز جواب دوں گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘وزیر اعظم نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور جو مجرم ہے اسے سزا ضرور ملے گی’۔

ایک صحافی کی جانب سے زیادہ سوال کیے جانے پر شیخ رشید آپے سے باہر ہوگئے اور صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘تو ہی سارے سوال کرلے گا’۔

قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی رحیم یار خان میں حادثے کے مقام پر پہنچے جہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین حادثے کے بعد انتطامیہ سے رابطے میں رہا ہوں ریسکیو اداروں کی امدادی سرگرمیاں قابل تعریف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘لاشوں کو ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ورثا کے حوالے کی جائیں گی’۔

واضح رہے کہ کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے قریب گیس سلنڈر پھٹنے سے آتشزدگی کے باعث 74 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد مسافر زخمی ہوگئے۔

بدقسمت ٹرین کو حادثہ صبح 6:15 منٹ پر پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور میں چنی گوٹھ کے نزدیک چک نمبر 6 کے تانوری اسٹیشن پر پیش آیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ آگ ٹرین کی بوگی نمبر 3 میں موجود سلنڈر پھٹنے سے لگی جس نے تیزی سے مزید 3 بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

عینی شاہدین کے مطابق سلنڈر پھٹنے سے ٹرین میں دھماکا ہوا جس کے آواز سن کر دیگر مسافر تخریب کاری کے خطرے کے پیشِ نظر چلتی ہوئی ٹرین سے کود گئے۔

حادثے کے بارے میں جیو ٹی وی سے بات کرتے ہوئے چیئرمین ریلویز سکندر سلطان کا کہنا تھا کہ ٹرین میں سلنڈر کا مٹی کا تیل لے جانے کی اجازت نہیں اور اس کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے کہ ٹرین میں مسافر سلنڈر لے کر کیسے سوار ہوئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY