نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کاؤنٹ غیر مستحکم ہیں، ڈاکٹر عدنان

0
991

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا کہناہے کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کاؤنٹ غیر مستحکم ہیں۔

لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر عدنان نے میاں نواز شریف کی صحت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کے ذریعے نواز شریف کے پلیٹ لیٹ کاؤنٹ کو خاص لیول پر رکھا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر عدنان کا کہنا ہے کہ نوازشریف کے مرض کی مزید تشخیص جاری ہے جبکہ ان کا ریگولر فالو اپ بھی جاری ہے جس میں خون کے ٹیسٹ بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے رائٹ ایگزیلا میں نوڈز ہیں جو بڑے ہو چکے ہیں جبکہ کارڈیالوجسٹ کی ایک ٹیم بھی نوازشریف کا معائنہ کر رہی ہے۔

ڈاکٹر عدنان نے بتایا کہ لاہور میں نوازشریف کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا ان کا انجیو گرام اور انجیو پلاسٹی پی سی آئی کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دماغ کو خون منتقل کرنے والی شریان کے علاج کے لیے ویسکولر سرجن کی خدمات لی ہیں، جبکہ ویسکولر سرجن دوبارہ نوازشریف کا معائنہ کریں گے۔

ڈاکٹر عدنان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے دماغ کی شریان کی سرجری یا اسٹنٹ ڈالا جائے گا۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

نوازشریف چار ہفتوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد بھی ملک واپس نہیں آئیں گے۔برطانوی ڈاکٹرز نے کے مطابق نوازشریف کے طبی معائنے اور ٹیسٹ مکمل ہونے میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں

یادرہے لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد ، سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کے لیے غیر مشروط طور پر چار ہفتوں کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔

فاضل عدالت نے وفاقی حکومت کی ساڑھے 7 ارب روپے کے انڈیمنٹی بانڈز کی شرط کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب ہائیکورٹ نے ضمانت دی تھی تو اس شرط کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے حکم میں کہا تھا کہ نواز شریف علاج کی خاطر چار ہفتوں کیلئے ملک سے باہر جاسکتے ہیں اور علاج کے لیے مزید وقت درکا ہوا تو درخواست گزار عدالت سے دوبارہ رجوع کرسکتا ہے اور میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں توسیع دی جاسکتی ہے۔

تاہم اب برطانوی ڈاکٹرز کی ہدایت پر سابق وزیراعظم نوازشریف نے لندن قیام میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے طبی معائنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY