سولہ دسمبر ہماری تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جس کا تصورر کرکے ہی ہمارے وجود سے جان نکل جاتی ہے اور ہماری روح کانپنے لگتی ہے۔ جس دن ہمارے قلوب و اذہان سن ہو گئے, ہمارے (احساس رکھنے والوں کے) وجودکرچی کرچی ہوگئے،آج کے دن کیا ہوا تھا؟ اس دلخراش سانحہ سے ہماری آج کی نسل نو لا علم ہے۔ انہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ آج سے 48 سال قبل دشمن نے ہمارے اندرونی خلفشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے مشرقی بازو (بنگلہ دیش) کو ہم سے الگ کردیا تھا۔ سولہ دسمبر 1971 سے ایک روز قبل تک آج کا بنگلہ دیش ہمارا مشرقی پاکستان تھا۔.آج کے دن دنیاکی بہترین افواج میں شمار ہونے والی ہماری فوج کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور وہ بھی پاکستان کے ازلی دشمن ہندوستانی فوج کے سامنے۔ آج کے دن پلٹن میدان میں ہماری افواج کی ایسٹرن کمان کے سربراہ لیفنٹنٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی المعروف ٹائیگر نیازی نے ہندوستانی فوج کے جنرل اجیت سنگھ اروڑہ کو سیلوٹ کیا اور اپنا پستول اس کے حوالے کیا تو اس کے ساتھ ہی پاکستانی جوانوں نے ہتھیار زمین پر پھینک دیئے. اس کے ساتھ ہی دنیا کے نیوز چینلز پر بنگلہ دیش کانام گونجنے لگا.ان چینلز نے ہتھیار ڈالنے کی وڈیوز چلائیں تو پاکستانیوں کے دل دماغ پرکڑکتی بجلی گری،جس سے ہم روحانی طور پر جھلس کر رہ گئے۔.یہ کتنا دردناک منظر تھا،اس منظرنامے نے اسلامی فتوحات کی تاریخ پر سیاہی پھیر دی اور ہماری روشن تاریخ تاریک ہوگئی۔.
کئی دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی ہم اتنے عظیم سانحہ کے ذمہ داروں کا تعین نہیں کرپائے ہم اس سانحہ کے ذمہ داروں کا تعین کرنے سے کیوں گھبراتے ہیں شائد ذمہ داروں کو سزاؤں سے محفوظ رکھنے کی کوشش سمجھی جاتی ہے؟ ایک تو ہم اس سانحہ عظیم کی تحقیقاتی رپورٹ کو منظر عام پر لانے سے گھبراتے ہیں دوسرا ہم اس ”سیاہ دن“ سے کو سبق حاصل کرنے پر تیار نہیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو پاکستان پر یکے بعد دیگر مارشل لاء مسلط نہ ہوتے۔
معروف مفکر اور دانشور ابن خلدون کا قول ہے کہ”جن معاشروں میں علم و حکمت سے شناسائی کا فقدان ہو ان معاشروں میں غلطیوں پر احساس زیاں ناپید ہوجاتا ہے، جن معاشروں میں احساس زیاں ناپید ہوجائے وہاں دانائی کا گزر نہیں ہو سکتا اور جہاں دانائی کا کوئی وجود نہ ہو وہاں زندگی بے معنی ہوجاتی ہے“ ابن خلدون کایہ قول ہمارے معاشرے پر اور ہمارے کردار و افعال پر صادق آتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے ابن خلدون نے کئی برس قبل یہ قول ہمارے لیے نقل کیا تھا۔
پاکستان پر ہر دس گیارہ سا ل بعد مارشل لا نافذ کرنے والے بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ مارشل لا مسائل کا حل نہیں بلکہ اس سے پاکستان کی عوام میں محرومیاں جنم لیتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ مارشل لا کے نفاذ کے چند سال بعد ہی سول سیٹ اپ لایا جاتا ہے اور اس سیٹ اپ پر کڑی نگرانی بھی رکھی جاتی رہی ہے لیکن پھر بھی کئی بار اپنے لائے ہوئے جمہوری سیٹ اپ کی بساط ہی دو تین سال بعد لپیٹ دی گئی۔اسکی ذمہ داری بھی سول حکمرانوں پر عائد کی جاتی رہی حالانکہ اصل ذمہ دار تو مارشل لائی سربراہ ہوتے تھے لیکن وہ کسی قسم کی ذمہ دای لینے کو تیار نہیں ہوتے تھے۔ مشرقی پاکستان کی مھرومیوں کی وجہ ایوب خانی دور تھا۔
ہمارے مارشل لائی حکمران صدر ایوب خان مشرقی پاکستانیوں کو مغربی پاکستان پر بوجھ خیال کرتے تھے۔ ایوب خان تو اکثر کہا کرتے تھے کہ اس (مشرقی پاکستان سے) جلد سے جلد جان چھڑوائی لی جائے تو بہتر ہوگا۔(حوالہ کے لیے قدرت اللہ شہاب کا شہاب نامہ دیکھا جائے)
حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ دوسرے ذرائع سے ہمارے دشمن ملک بھارت سے شائع ہوتی رہی ہے لیکن ہم نے اسے سرکاری سطح پر شائع کرنے کا اہتمام کرنے سے گریز کی راہ اختیار کی ہے۔ شائد شائع نہ کرنے کی پالیسی اپنا پر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا مقصود ہے۔ یہی سبب ہے کہ ممارے غیر جمہوری حکمران اور ان کے کاسہ لیس فدویانہ صحافت کے علمبردار اس سانحہ کو محض ذوالفقار علی بھٹو،مجیب الرحمان اور اندرا گاندھی گٹھ جوڑ کا نتیجہ قرار دیکر یہ سمجھتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا قرض چکا دیا گیا ہے۔
آج بھی ہمیں اپنے طرز عمل، سوچ اور فکرمیں تبدیلی لانے کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی آج سے 48 سال قبل تھی اور یہ ذہن نشین کرنے کی بات ہے کہ پاکستان کی بقاء صرف اور صرف جمہوریت اور جمہوری پارلیمانی حکمرانی میں پنہاں ہے۔ یہی نظام حکومت قائد اعظم کی منشاء تھی، تحریک پاکستان کے راہنماؤں کی خواہش بھی یہی پارلیمانی نظام حکومت تھا۔ ماضی میں قائد اعظم علیہ رحمہ کے افکار و نظریات کو بدلنے کے لیے خود ساختہ ”قائد اعظم کی ڈائری“ منظر عام پر لاکر عوام کو گمراہ کیا گیا لیکن پاکستان کے عوام نے موقع ملنے پر ہمیشہ غیرجمہوری حکمرانوں کی خواہشات اور طرز حکمرانی کے خلاف ووٹ استعمال کیا ہے۔ لیکن غیر جمہوری قوتیں اس سے سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔
ان غیر جمہوری قوتوں نے اپنے اقتدار کے لیے بانی پاکستان قائد اعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف بھی منفی پروپیگنڈا کیا اور انہیں غدار اور افغانستان کا ایجنٹ کہا گیا۔ بعض لوگوں کے خیال کے مطابق فاطمہ جناح کی موت غیر طبعی واقع ہوئی تھی۔ آج بھی پاکستان کے بعض علاقوں میں شورش موجود ہے انہیں ہم نارض بچے قرار دیتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ناراض بچے دشمن بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں مگر اس کے باوجود ہم عوام کو اپنا کام نہیں کرنے دیتے۔ عوام کا کام یہی ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے عوامی نمائندے منتخب کریں اور سرکاری ادارے عوام کی رائے اور فیصلہ کو من و عن تسلیم کریں اور عوام کی ممتخب سیاسی قیادت کو حکومت تشکیل دینے کا حق دیں۔ ایسا طرز عمل اپنانے سے ہی ہم مشرقی پاکستان جیسے مذیڈ سانحات کے رونما ہونے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یہی سولہ دسمبر کے دن کا پیغام ہے۔ یہی اس دن کا سبق ہے۔












