میں نے گزشتہ مضمون میں یہ وعدہ کیا تھا کہ ابھی بھی وقت گیا نہیں ہے جب تک کہ آپ اس دنیا میں موجود ہیں بہتر یہ ہے کہ وہا ں کی تیاریاں اس طرح کر لیں جیسا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ چاہتے ہیں۔ پہلا کام تویہ کر یں کہ آپ ا ن پر ایمان لے آئیں اس طرح سے جس طرح سے وہ چاہتے ہیں؟ اس طرح سے نہیں جس طرح کہ آپ انہیں مانتے بھی ہیں اور کرتے اپنی من مانی ہیں۔ اب آپ کے دماغ میں سوال پیدا ہوگا کہ وہ کونسا ایمان ہے کہ وہ چاہتے ہیں اورہم اپنے اندر نہیں رکھتے ہیں؟اس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے اللہ کی قدر نہیں کی وہ ہے ان کا حاضر اور ناظر ہونا اپنی من مانی نہیں چلے گی بات بھی انہیں کینماننا ہے۔ اگر ان کی ان صفات کو بھی مان لیں تو گناہ کرنا تو بہت بڑی بات ہے اس کا خیال بھی ذہن میں آئے گا؟ اس لیئے کہ آپکا ضمیر آپ کو خبردار کردے گا گناہ کے بارے میں سوچنا بھی نہیں پسند کریں گے کہ آپ کے ارداے کی خبر اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ہو جا ئے؟ ان کے سامنےنماز جا ئیں گے توشر م کی وجہ سے سامنا نہیں کر پارہے ہونگے؟ توبہ کریں گے معافی مانگیں گے اور یہ سوچنے کا گناہ بجا ئے گنا ہ کے آپ کے ثواب کا باعث بنا کر کے کھا تے میں لکھا جا ئے گا؟کیوں اس لیئے کہ جس نے تمام چیزیں پر قادر ہونے کے با وجود جو چیز اپنے لازم فر ما لی ہے وہ ہے ان کارحیم ہونا بلا تفریق سب کے لیئے؟ اگر یہ بات نہ ہوتی ہماری طرح بات بات پرسزا دیتے تو نتیجہ یہ ہوتاکہ ایک بشر بھی زندہ نہیں رہتا دنیا بنتے ہی ختم ہوجاتی عاقبت وغیرہ کا مسئلہ ہی نہیں ہوتا؟ ہاں! فرق یہ ہے کہ اوروں کے مقابلہ میں وہ مومنوں پر زیادہ رحیم ہیں اوریہ ہی صفت وہ آپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور اسی صفت کو انہوں نے ایک آیت میں حضور ﷺ اور حضورﷺ کے صحابہ کرام کو ؓ سراہا ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے لیئے رحیم ہیں جبکہ کفار کے لیئے سخت ہیں۔ اس کے لیئے اللہ تعالیٰ نے یہ بھی تلقین فرما ئی ہے کہ تم رحم کرو تاکہ رحم کیئے۔ معاف کرو تاکہ معاف کیئے جا ؤ اور حضور ﷺ نے خوشخبری دی ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ فرشتے حکم دیں گے کہ معاف کر نے والوں آواز دو کے کھڑے ہوجا ئیں۔ بے شمار لوگ کھڑے جا ئیں گے حکم ہوگا کہ ان کو جنت میں داخل کر دو۔ دوسری صفت اللہ سبحانہ تعالیٰ کو جو پسند ہے وہ اخلاق ہے۔جس میں حضورﷺ کامل تھے اس کی تعریف بھی انہوں نے خلقِ عظیم کا مالک فرما کر ظاہر کی ہے اور حضورﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا کہ سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہو میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے اچھا ہوں۔ اگر آپ یہ تین چیزیں بھی کرلیں تو بھی بہت کافی ہیں۔ پھر بھی آپ سے کہیں غلطی ہوجا ئے فورًایک نیکی کر لیں تو اس کا ثواب دس گنا ہے اس طرح آپ کا نیکی پلڑاہمیشہ بھاری رہے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کوتوفیق عطا فر ما ئے۔ آمین













