پچیس دسمبر محمد علی جناح کا یومَ پیدائش ۔وہ جناح جس نے ہمیں ایک آزاد ملک دیا کہ ہم آزادی سے رہ سکیں ۔سکھ کا سانس لے سکیں ۔اور اپنی اقدار اور روایات پر بلا خوف و خطر عمل کر سکیں ۔جناح کا ساتھ دیا سارے مسلمانوں نے اور ہجرت کر کے پاکستان جیسے مبارک ملک میں آگئے جسے ایک انتہائی مقدس مہینے میں اللہ نے ہمیں جناح کے زریعے عطا کیا ۔وہ جناح جسے ہم سب نے مل کر قائدَ اعظم کہا ۔ایسا قائد جس کی صلاحیتوں کی بدولت ہم ایک آزاد قوم بنے ۔وہ ملک جس میں ہمیں اللہ اور اسکے رسول کے احکامات پر عمل کرنے میں کوئی قدغن نہیں ہو سکتی ۔جہاں ہر قوم اور ملت کا فرد ہر مکتبئہ فکر سے تعلق رکھنے والا جینے کا حق رکھتا ہے اپنی سوچ اور فکر کے ساتھ ۔اُس قائد کا یومَ پیدائش منایا سب نے مل کر شایانِ شان طور پر ۔
قائد وہ تھا جو قیادت کرتے وقت پیسے والا تھا ،جس نے لندن میں تعلیم پائی تھی اُس کے ساتھی بھی نواب تھے ،وہ بہترین جامہ زیب تھا لیکن جب ایک ملک کی قیادت سنبھالی تو ایک ایک پیسے کا حساب دیا بھی اور کیا بھی یہاں تک کہ جب دنیا سے کوچ کیا تو بینک میں کچھ بھی قابلِ زکر نہ تھا ۔ لیاقت علی خان نے جب ملک میں قدم رکھا تو وہ ایک نواب تھے لیکن جب زندگی ختم ہوئی تو بینک میں کچھ نہ تھا جبکہ پیچھے بچے بھی تھے بیوی بھی تھی ۔یہ ہوتے ہیں قائد ۔لیکن اب جو خود کو چیخ چیخ کر قائد کہتے ہیں اُنکے بینک بھرے ہیں اولادوں کے پاس دولت کے انبار ہیں ۔اور ہوس میں اب بھی کوئی کمی نہیں ہے ۔یہ ہیں موجودہ قائد ۔جناب نواز صآحب ترازو کو تو آپ بھی سیدھا رکھیں ۔کہ عمل تولے جائینگے گنے نہیں جائینگے ۔ہوشیار باش کہ وقت بھاگ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔
ہم شاید ہر معاملے ہی میں انصاف سے کام نہیں لے پارہے ۔جیساکہ جناب نواز صاحب نے ترازو پر شکنجہ کسا ۔ وہ عدلیہ کا حکم مان کر اُسے اہمیت دینے کی بھی بات کرتے ہیں اور دوسری جانب اُسے لعن طعن کرنے میں بھی شاید سب سے آگے ہیں ۔عجیب سی کیفیت انہوں نے پیدا کر دی ہے اور شاید اسی کو سیاست کہتے ہیں ۔اور جب تاجر سیاست کرنے پر آجائے تو بس وہ اپنا فائدہ ہی فائدہ دیکھتا ہے ۔ ہمیں تو ملک کہیں بھی نظر نہیں آرہا ۔جس طرح کی سیاست چلی جارہی ہے وہ آنکھیں کھلی رکھنے کی متقاضی ہے ۔پھر چاہے عدلیہ ہو یا فوج سب کو ہی چوکنارہنا ہوگا ۔تقریروں میں جس قسم کی باتیں کی جارہی ہیں وہ پریشان کُن حد تک پہنچ گئی ہیں ۔عدلیہ کا ضبط قابلِ دید ہی نہیں قابلِ پریشانی بھی ہے کیونکہ یہ اقدار بن رہی ہیں۔ ہم سب کو ہی ہر ترازو کو سیدھا رکھنا ہے ۔اور توجہ دینی ہے ماحول پر کہ نئی نسل کچھ دن ہی میں جانشین ہوگی ہم سب کی ۔
جسٹس صاحب سے ہماری بھی ایک دست بستہ گزارش ہے کہ جناب جس بھی جگہ جائیں پہلے سے نہ بتائیں ،آپ اسپتال گئے بہت اچھا لگا مگر کاش آپ اتنا وقت نہ دیتے کہ مریضوں کو پلنگوں سے ہٹاکر ہر پلنگ پر ایک ایک مریض کردیا گیا ۔اور آپ ایک صاف ستھرے ماحول میں جاکر آگئے ۔وہ مریض نہ بول سکے نہ آپ سے شکایت کر سکے اس لئے کہ پھر ڈاکٹر انہیں دیکھتا بھی نہیں ۔ اسپتال جائے بغیر بتائے بغٰر کسی کے علم میں لائے کہ یہ کالی بھیڑیں ایک دوسرے کو اطلاع کر دیتی ہیں ،اور نہ صرف صفائی ہو جاتی ہے بلکہ تمام معاملات ٹھیک کر دئے جاتے ہیں کہ آپ کو کچھ کہنے کو نہیں ملتا ،بغیر بتائے جا کر دیکھیں ایک نئی دنیا آپ کے سامنے ہوگی نہ جانے کتنی پرانی صدی کی ۔
جناب محترم ہماری گزارش ہے کہ کبھی کسی بس پر بھی سفر کر کے دیکھیں ہم یقین دلاتے ہیں کہ اگر آپ بغیر کہے گئے تو کوئی آپ کو پہچانے گا بھی نہیں کیونکہ ہم سب ہی ایک دوسرے سے بہت ملتے جلتے ہیں ۔لوگ سمجھیں گے کہ آپ کی شباہت کا کوئی شخص ہے مگر آپ کو پتہ چلے گا کہ سفر کس صعوبت سے کیا جاتا ہے یہ تو ہمارے عوام ہیں زندہ دل جو بس میں بھی سانس لیتے اور ہنستے مُسکراتے ہیں ۔کبھی کسی سڑک پر بغیر اطلاع کے نکل جائیں اور دیکھیں کہ کس طرح مزدور بیٹھا ہے دھاڑی کے انتظار میں ۔کبھی کسی فیکٹری کا چکر لگالیں بغیر بتائے اور دیکھیں کتنے لوگ کس ماحول میں کام کرتے ہیں ۔کبھی کسی سرکاری آفس میں چلے جائیں بغیر کسی کو بتائے پھر دیکھیں کہ حکومتی اداروں میں کس کام چوری سےکام ہوتا ہے ۔
دور مت جائیے کبھی کسی عدالت ہی میں تھوڑا سا خود کو بدل کر چلے جائیں کہ کوئی آپ کو پہچان نہ سکے ۔اور دیکھیں کہ کس طرح خوار ہوتے ہیں بندے وہاں ۔لیکن یہ بھی دھیان رکھئے گا کہ کس طرح عیش سے آتے ہیں بڑے چور عدالتوں میں اور کس طرح دھجیاں بکھیرتے ہیں فیصلوں کی جب کہ عام ملزم بول بھی نہیں سکتا ۔یہ وہ ترازو ہیں جنہیں سیدھا رکھنا ہر معاشرے کے لئے ضروری ہے ۔انصاف کا ترازو تو ہے ہی سیدھا رکھنے کے لئے لیکن یہ تمام ترازو بھی سیدھے ہونے چاہئیں تاکہ یہ طعنے دینے والے اپنے انجام کو پہنچ سکیں ۔
ہماری دعا ہے کہ ملک میں منحوس چہروں کا فُقدان ہو جائے اور روشن چمکتے چہرے ہر شعبے میں آجائیں یہ جب ہپی ہوگا جب ہم سب ہی اس نحوست کو ختم کرینگے جو جھوٹ دغا اور کرپشن بے ایمانی کی صورت ہم پر مُسلَط ہے اور ہم اُسے طاقت دئے جارہے ہیں ضروری ہے کہ سب مل کر مخالفت کریں ان لوگوں کی جنہوں نے جناح کے پاکستان کو نشانہ بنایا ہے برائی کا ۔اور اب بھی جان چھوڑنے کو تیار نہیں بلکہ گاڈ فادر کی تمام چالیں چل رہے ہیں ۔لیکن ایک دن مقرر ہے سب کے لئے ۔اللہ میرے قائد کو جنت کے حسین باغوں میں جگہ عطا فرمائے اور اُس کے پاکستان کو ویساہی پاکستان بنا دے جیسا اُس نے سوچا تھا۔
یہ جب ہی ہوگا جب دورہ کرنے کے بعد سزائیں بھی سنائینگے اور فیصلہ بھی ۔ورنہ صرف بیان سے کچھ نہیں ہوگا کہ عادتیں بہت پکی بھی ہیں اور شاید نہ بدلنے والی بھی
اللہ میرے ملک کو سلامت رکھے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY