میں بارسلونا میں رہتا ہوں۔ یہاں میرے ایک محبت کرنے والے بھی رہتے ہیں، کتاب کے قاری، داعی اور لکھتے بھی ہیں۔ ایک دِن اُن سے پاکستان کے ایک نظر بظاہر جیّد کالم نویس کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے کہ وہ کہاں کا کالم نویس ہے، کالم میں جا بجا اردو غلط، گُلابی اردو دان اور زرد صحافی ہے، اور بس۔
میرے لیے اُن کا رویہ حیران کُن تھا۔ جلے کٹے تو خیر وہ رہتے ہیں مگر اتنے سڑے ہوئے پہلی بار دیکھے۔ کریدنے پر پتہ چلا کہ اُنہوں نے ٹویٹر پر مترجم جیّد صحافی و کالم نویس صاحب سے صرف اتنا سوال تین بار کر دیا کہ معروف ہسپانوی ادیب اسابیل آییندے کا ترجمہ اُردو میں موجود ہے؟ اور اس سوال کی پاداش میں بلاک ہونا پایا۔
مزید کہا کہ اُنھوں نے معروف کالم نویس ہارون الرشید کی وجہ سے جو اس مترجم صحافی اور کالم نویس کی اتنی عزت بنا رکھی تھی سب سے پہلے اُس ہر ٹُف و حیف و لعنت بھیجی۔ مترجم کالم نویس صحافی صاحب کا مجاورانا کام جو پڑا تھا اُسے بجائے پڑھنے کے کوڑے کی نظر کیا کہ اُن کے ہاں کسی مُتکبر کی گنجائش نہیں تھی۔ بلاک ہونے پر کم از کم وہ اُس دِن اُن کے بقول ہلکے سے سیخ پا تھے۔ خُدا جانے زیادہ سیخ پا کیسے لگتے ہوں گے۔
یہ واقعہ مُجھے تب یاد آیا جب میں نے اپنی پنجابی والدہ کو تُرکش لکھا پایا۔ مضمون ڈھیلا ڈھالا، اردو اغلاط سے بھرا ہوا، اِدھر اُدھر کی چھوڑتا جس میں روانی کم اور گُمانی زیادہ ہے۔ میری والدہ تحصیل ڈسکہ کے گاؤں میتراں والی سے تھیں۔ یہ گاؤں بی آر بی کے کنارے پر ہے۔ پیپلز پارٹی پاکستان کے چوہدری اعجاز چیمہ اسی گاؤں سے ہیں۔ بیاہے جانے کے بعد میری والدہ میتراں والی سے سیالکوٹ محلہ رنگ پورہ آ گئیں۔ میتراں والی تا سیالکوٹ سب پنجاب ہے۔ تُرکی میں میتراں، والی، ڈسکہ، سیالکوٹ ہونا صرف خُدا وند کریم کی قُدرت سے مُمکن ہے۔ خُدا کی سُنت اور انسانی عقل مُتفق ہے کہ یہ جگہیں پنجاب کی ہیں۔ پنجاب تُرکی کب کیسے اور کیوں بنا یہ مخمسہ تحقیق طلب ہے۔ شاید تُرکی کا ترجمہ پنجابی میں میتراں والی ڈسکہ سیالکوٹ ہو، واللہ اعلم بالصواب۔
مُجھے میرے دوست رہ رہ کر یاد آتے ہیں جو ان مترجم صحافی کالم نویس کی مجاوارانا صلاحیتوں کو آن لائن بھانپ گئے تھے۔ میں پہلے ڈاکٹر بابو کا ایسا قائل نہیں جیسا آ ج ہوں۔
عروج رضا صیامی میری بہن ہیں۔ مترجم صحافی کالم نویس صاحب نے اُنھیں لِبرا میں تولا ہے اور آدھا تُرکش بولا ہے جب کہ کہ دُور دُور سے تُرکش لگتے ہیں نہ دکھتے ہیں۔ مُغل حسب نسب کی وجہ سے تُکرش ہونا اتنا ہی ثابت ہے جتنا حضرت آدم علیہ السلام کی وجہ وجہ مُجھ پنجابی کا کسی ایمازون کے قبیلے کے کسی فرد کا بھائی ہونا۔ ہم سب بہن بھائی کافی دیر حالتِ شاک میں رہے کہ ایسے نامی گرامی انتریامی مترجم صحافی کالم نویس نے ہماری بہن کے شجرہ کا حال اپنی پے در پے اردو جیسا کر دیا یعنی اغلاط سے بھرپُور۔ خُدا جانے اُن کی اردو کی اصلاح کون کرتا ہو گا کہ ایسی نکھری بکھری غلطیوں کے لیے مولانا اصلاحی کی ضرورت پڑا کرتی ہے۔ خیر، لیہ سے اسلام آباد کا ارتقائی مرحلہ طے کرتے ہو سکتا ہے بندہ بڑا مترجم بن جائے۔ وطنِ عزیز میں ایسے واقعی بڑے مترجم موجود ہیں جن کے قلم نے سینکڑوں کتب کا ترجمہ کر رکھا ہے مگر اُن کا ارتقائی سفر اگر اسلام آباد کی بُھول بھلیوں والا ہوتا تو شاید پنجاب کو تُرکی نہ بنایا جا سکتا۔ وہ ایک عدد سوشل پرسن نہ ہوتی اور خُدا جو ہر عیب سوچ سے پاک ہے کو سوچنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ کافی بینز یا بینز کیفے میں سے ایک لکھنا مناسب ہوتا، مداحوں کے ۂجوم کے جمع ہونے کو “ہو گا” مُستقبل میں لکھنا، نظر کا پڑ ہی جانے کے بعد بٹھا “لے گی”۔
میری بہن بے شک خوبصورت دل اور دماغ کی مالک ہے، یہاں “کی انسان” لکھنا اضافت کی ماں بہن ایک کرنا ہے۔ ہماری بہن واقعی بے چاری ہے کہ تُرکش پنجابی ادل بدل میں رؤف کلاسرا نہ بن سکی۔ رؤف کلاسرا بننے کے لیے تُرکی کے گاؤں میتراں والی تحصیل ڈسکہ سے سیالکوٹ بیاہی جانے والی ہماری والدہ محترمہ کی بیٹی کو جنوبی پنجاب کے گاؤں کلاسرا آف لیہ سے اسلام آباد پہنچنا تھا۔
شو مئی قسمت ایسا نہ ہو سکا۔
عام آدمی مغل














Neither I am your sister nor he wrote about your sister. Stop mentioning my name in your disgusting write ups. Who the hell are you ugly creature? Why mentioning me and his write about me? I have all legal rights to complaint about you. So called fake scholar. Your write ups show your basic primary eduction.
How shameful are you! You could not digest some good words written for her…you are a loser and will remain so.,,,just stay away from my family and dare not mention her name next time. You were the main cause of your parents pain and now for others.
او ہو کیا کہنے ہمارے ایک جاننے والے ہے وہ یہی کہتے ہے جہاں بات مشکوک ہوجائیں رشتوں میں رد بدل کی جائیں تو سمجھ لینا کٹورے میں پانی بدبو چھوڑ گیا کیونکہ 😁😁😁😁😁