مارچ16, 2020
اسفار اور پروازیں

مارچ کا مہینہ
دنیا کے لئے انتہائی تکلیف دہ ہو گیا ہے
اسفار پر تو جیسے نظر بندی ہو چکی ہے
پوری دنیا میں 6 مارچ تک
ایک لاکھ 88 ہزار سے زیادہ پروازیں ریکارڈ کی گئیں
جن میں تجارتی پروازوں کی تعداد ایک لاکھ 9 ہزار تھی
چھ مارچ کے بعد سے 16 مارچ تک
کل پروازوں کی تعداد ایک لاکھ 57 ہزار رہ گئی
جن میں تجارتی پروازوں کی تعداد 91 ہزار ہے
میرے بیٹے نجیب نے ایکبار بتایا تھا
پوری دنیا میں
فضائی اداروں کی تعداد 5 ہزار کےقریب ہے
جن کے پاس تقریباً 40 ہزار طیارے ہیں
گزشتہ سال اپریل کے پہلے ہفتے میں
تجارتی پروازوں میں ساڑھے چار ارب مسافروں نے سفر کیا
اس وقت نصف سے زیادہ طیارے زمین پر کھڑے ہیں
ان میں سے کچھ طیارے شاید کبھی دوبارہ کام میں نہ آ سکیں
ہوسپٹل سے واپسی پر خبریں سن رہی تھی
اینکر بتا رہا تھا
ہانگ کانگ کی کیتھے پیسیفک
عام حالات میں روزانہ ایک لاکھ مسافروں کو منزل تک پہنچاتی ہے
اس ہفتے ایک دن میں اس کے مسافروں کی تعداد صرف 582 تھی
ایر نیوزی لینڈ کا حال اس سے بھی برا رہا
جمعرات کو 89 پروازوں میں صرف 165 مسافروں نے سفر کیا
موجودہ صورتحال میں
دنیا کی کئی ائیرلائنز نے اپنے عملے کی تعداد کم کر دی ہے
سوچتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
کیا وبا ختم ہونے کے بعد صورتحال پہلے جیسی ہو سکے گی
کہیں اس دوران متعدد ائیرلائنز ناکام نہ ہو جایئں
اور ٹورزم انڈسٹری کو دھچکا نہ دینا پڑے
حیران ہوں ۔۔۔۔۔
ایک نظر نہ آنے والاجرثومہ
کتنی آسانی سے
اسفار اور پروازوں کا مالک بن بیٹھا ہے !
——————————————
مارچ17, 2020
ستارہ سحر

دنیا کے منظرنامے پر
ایک بھونچال کی سی کیفیت ہے
سن 2007کے عالمی اقتصادی بحران کے بعد
دنیا کو اب ایک نئی معاشی ازمائش کا سامنا ہے
امیر مُمالک نے
اس وبا سے نمٹنے کے لیے خزانوں کے منہ کھول دیے ہیں
مدد کی مَد میں کھربوں ڈالرز مختص کیے ہیں
کوئی بھی ذرا سی بھی کوتاہی کا رِسک لینے کو تیار نہیں
اٹلی سمیت کئی ممالک میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن ہے
کھیلوں کے اجتماعات اور سیّاحت پر سخت پابندیاں ہیں
مسافروں کو ائیر پورٹس پر
اسکریننگ کے مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے
تمام ممالک ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں
تاکہ اموات کی شرح 3.4 فی صد سے زیادہ نہ ہو
میں دیکھ رہی ہوں
عالمی معیشت کی نبضیں ڈوب رہی ہیں
سیاحت ، کھیل
عالمی اجتماعات اور برآمدات کا دم گھٹ رہا ہے
ایوی ایشن انڈسٹری کی جان کنی والی کیفیت ہے
میرے پیارے ۔۔گھر والے
دوست ۔۔احباب ، ہمسائے
میرے مریض ۔۔ اجنبی لوگ
سب حیران و پریشان ہیں
اس ایک لمحے تک
وقت ہیبتناک خواب جیسا لگ رہا ہے
نزدیکیاں ، دوریوں میں بدل رہی ہیں
اور دوریاں ۔۔۔۔۔۔ اور بھی دور ہو رہی ہیں
بھلا ” فیس چیٹ ” کے سہارے
؟زندگی گزاری جا سکتی ہے
کیا
مرنے والوں کو دفنایا جا سکتا ہے
پر ۔۔
آسمان پر
سرخی بڑھتی جا رہی ہے
شاید ۔۔
ستارہ سحر ابھرنے کو ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم













