سپریم کورٹ نے میڈیا کے ایک حصے میں چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سے منسوب بیان کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دے دیا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ روز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سے منسوب کرکے میڈیا کے ایک حصے میں شائع اور نشر ہونے والے بیان کے حوالے سے وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ ‘پرنٹ میڈیا اور چینل کے ایک حصے نے چیف جسٹس آف پاکستان کی منگل کے روز سپریم کورٹ کی پریس ایسوسی ایشن سے غیر رسمی گفتگو سے متعلق خبر شائع اور نشر کی۔’
بیان میں کہا گیا کہ ‘چند ٹی وی چینلز اور اخبارات نے چیف جسٹس سے منسوب کرکے گمراہ کن اور سیاق و سباق سے ہٹ کر خبر شائع اور نشر کی جس میں ان کے خبر کا ذریعہ بھی نہیں بتایا گیا تھا۔’
سپریم کورٹ نے وضاحتی بیان میں کہا کہ ‘اس خبر سے یہ تاثر ملا کہ چیف جسٹس آف پاکستان، خصوصی عدالت میں زیر سماعت کیس کی پیشرفت میں ذاتی طور پر ملوث رہے، یہ بات واضح ہے کہ سپریم کورٹ کے مختلف بینچز میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے کیس کے مختلف پہلوؤں پر سماعت ہوئی اور جنہوں نے مرکزی کیس کا جلد فیصلہ سنائے جانے کے لیے متعدد حکم جاری کیے۔’
بیان کے مطابق ‘سپریم کورٹ کے متعلقہ بینچز ان کیسز میں عدالتی ہدایات جاری کیں جو ملک کی قانونی رپورٹس میں بھی شائع ہوئیں، ان کے علاوہ چیف جسٹس نے خصوصی عدالت کو کسی قسم کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی۔’
لہٰذا یہ واضح ہے کہ میڈیا میں شائع اور نشر ہونے والی اس طرح کی خبریں بے بنیاد، من گھڑت، جھوٹا، سیاق سباق سے ہٹ کر اور حقیقت کے برعکس ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ‘رپورٹنگ میں سچائی کو یقینی بنانے کے لیے امید کی جاتی ہے کہ جس طرح چیف جسٹس سے منسوب کرکے غلط خبر شائع اور نشر کی گئی، اسی طرح یہ وضاحت بھی نمایاں طور پر شائع اور نشر کیا جائے گا جبکہ مستقبل میں رپورٹنگ میں صداقت کو یقینی بنایا جائے گا۔
…………………….
پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کا کیس بہت واضح تھا جس کا فیصلہ میرٹ پر دیا گیا۔
پاکستانی نیوز چینل آے آر وائی کے مطابق انھوں نے یہ بات منگل کے روز صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران کہی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس نے کہا کہ ’’پرویز مشرف کو متعدد مواقع فراہم کیے گئے‘‘۔
انھوں نے کہا کہ ’’یہ لوگ معاملے کو طول دینا چاہتے تھے‘‘، اور یہ کہ’’ اگر ہم جلدی نہ کرتے تو یہ معاملہ کئی سالوں تک چلتا رہتا‘‘۔
بقول ان کے، ’’تاخیری حربوں کے باوجود کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا‘‘۔
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق ایک سوال پر عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے کہا کہ ’’آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے کیس کو میرٹ پر سنا گیا اور عدالت نے ایسا فیصلہ دیا کہ تقرر کا معاملہ ہمیشہ کے لیے متعین ہو‘‘۔













