قالین باف سے قانون دان
(پاکستان کا ایک ھُنرمند بچہ)
اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے قالین بُننے والے زیادہ تر بچے اکثر خواب بُنتے بُنتے بُوڑھے ھو کر رزقِ خاک ھو جاتے ہیں. بہت عرصہ ھوا ایک قالین بُننے والا بچہ جب میری توجہ, دلچسپی اور مدد سے سکول جانے لگا اور ساتویں جماعت کو پہنچا تو سکول سے گھر واپسی پر وہ روزانہ 1 گھنٹہ اپنے قالین بافی کے کارخانے پر رُکتا اور ایک چھوٹے سے کالین کے ٹُکڑے پر کُچھ کام کرکے اپنے گھر چلا جاتا. اسکول کے اساتذہ اس بچے کی غیرمعمولی زھانت کے نہ صرف معترف تھے بلکہ حیرت زدہ تھے کہ وہ دوسرے بچوں کی پڑھائی میں بھی مدد گار تھا. یہ ہونہار بچہ ایک ماہ میں اپنے ننھے ہاتھوں سے چھوٹے سے قالین کے اس ٹکڑے کو مکمل کرچکا تھا اور اب اسے انتظار تھا کہ وہ مناسب موقعے پر جسکے لئے یہ بنایا گیا تھا اسے پہنچاے 20 سال پیشتر میری سالگرہ کے دن وہ معصوم اور یتیم بچہ اپنی بیوہ ماں کے ساتھ میرے لئے قیمتی ترین تحفہ لے کر آیا تھا جو آپ اس تحریر کے ساتھ دیکھ رھے ہیں.
قالین کا یہ ٹُکڑا امریکہ آتے وقت میں اپنے دل کا ٹکڑا سمجھ کر اپنے ساتھ لایا تھا.
میں اس معصوم بچے کے اظہار تشکر کے انداز کو اپنی ہر سالگرہ کے موقعہ پر نہ صرف یاد کرتا ھوں بلکہ اس خوبصورت اور اَنمول قالین کے ٹُکڑے کو جس پر اس نے میرا نام لکھنے میں ایک ماہ کا عرصہ صرف کیا تھا اسے چُومتا ھوں اور اپنی نمناک آنکھوں سے لگا کر اسے دعا دیتا ھوں کہ وہ بچہ جو آج کا نامور قانون دان ھے اور ترقی کرے اور تا قیام قیامت سلامت رھے. سچ تو یہ ھے کہ پاکستانی بچوں کی تعلیم اور تربیت میری زندگی کی اولین ترجیح ھے. مجھے ھر پاکستانی بچہ اپنا بچہ لگتا ھے.
یہ کہانی میری بہت سی ذاتی کہانیوں میں سے ایک ھے. دعا ھے کہ پاکستان ترقی کرے اور اس کا واحد راستہ تعلیم اور بہتر تربیت ھے جسکے لئے کئی بچے قالین باف سے قانون دان بن سکتے ہیں. ایک عام انسان سے اعلی انسان بنانا آپ کے اور ھم سب کے اختیار میں ھے. آئیں اسکے لئے مِل جُل کر کوشش کرتے ہیں.
ڈاکٹر ذوالفقار علی کاظمی واشنگٹن, امریکہ













