قرآن اور سیرت رسول ﷺدو ایسے مضمون ہیں کہ نہ انسان کا پڑھنے سے دل بھر تا ہے،نہ لکھنے سے دل بھر تا ہے۔ آپ جب بھی ان دونو مضامین کو پڑھنے بیٹھیں تو ہمیشہ ہر دفعہ مضمون نیا لگے گا اگر پڑھنے والا صاحبِ ایمان ہے تو؟ ان میں کچھ ایسی کشش ہے کہ دنیا کے دوسرے کسی مضمون میں نہیں ملتی؟ چونکہ گزشتہ مرتبہ ہم نے تبلیغ پر بات کی تھی اور ہمارا موضوع مشہور مجموع حدیث “چہل حدیث تھا “ چونکہ یہ حضوررﷺ کا انتخاب تھا انہوں ﷺ نے پورا اسلام اس میں بیان فرمادیا تھا۔ حتیٰ کہ ً “بات ایمان سے شروع ہوئی اور ختم ہوئی اس پر “کتاب اللہ کی تلاوت کبھی ترک نہ کرنا “لیکن کوئی بھی طالب علم اسے پڑھے گا تو اس کا قائل ہوجا ئے گا کہ اس کو صدیاں گزرگئیں مگر اس سے بہتر اس موضوع پر کوئی مضمون نہیں لکھا گیا نہ اُسے پڑھنے کوملا؟جبکہ ہر آدمی جانتا ہے کہ اس کا لکھوانے والاﷺ اس فن میں ماہر نہیں تھاﷺ نہ اس وقت یونورسٹیز تھیں نہ ہی انہوںﷺ نے یہ رواجی زحمت اٹھائی۔ مگر خالق ِ علم و حکمت نے انہیںﷺ وہ تمام علوم اور انکے تمام نکات ﷺپڑھادئیے تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لکھوانےوالا ﷺاپنے فن کاماہر تھا؟ یہ اور بات ہے کہ ہم کو وہی باتیں پڑھنے کو اب ملتی ہیں جو بطور ورثہ علم ِ تبلیغ میں ہمارے لئیے لکھوائی گئیں تھیں اور وقتی ضرورت کے مطابق تھیں اور آج تک کتابوں کی زینت بنی ہوئی ہیں؟ چونکہ ہم تبلیغ کی بات کر رہے تھے آئیے سب سے پہلے اسی مضمون کو پورا کر کے بات کوختم کرتے ہیں؟ہمارے یہاں ذکر، کبھی پوری رات کرنے کا نام ہےتوکبھی صبح سے تا شام ذکر کرنے کانام ہے؟ آج کا مسلمان ذکر انہیں کو سمجھتا ہے ؟جبکہ ذکر ہر اس فعل کانام ہے جو اسلام کے مطابق انجام دیا جائے۔حضرت ابو ہریرہ(رض) راوی ہیں کہ رسول ﷺ نے ارشادفرمایا کہ؛ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرا معاملہ بندے کے ساتھ اس کے یقین کے مطابق ہے اور میں اس کے بالکل ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے،اور اگر دل میں اس طرح یاد کرے کہ کسی اور کو خبر نہ ہوتو میں بھی اسی طرح یاد کرونگا۔اور اگر وہ دوسرے لوگوں کے سامنے یاد کرے گاتو میں اس سے بہتربندوں کی جماعت میں یعنی ملا ئکہ کی جماعت میں (صحیح مسلم۔صحیح بخاری۔ معارف الحدیث)
یہ توتھے ابو ہریرہؓ؟ اب میں انؓ کی بات کرنے جا رہا ہوں جنہوں ؒ نے اس کو آزما یا بھی اور اس کے کرشمے بھی دیکھے ہیں؟ بات ہے دورِ حضرت ابو بکر ؓ کی کہ جب اقتدار ان کے پاس آیا تو صورت حال یہ تھی کہ تمام عرب اور حجاز سوائے مدینہ منورہ کے انصار اور مہاجرین کے بغاوت پر اتر آیا تھا مدینہ منورہ میں جو فوج تھی اس کی تعداد بھی صرف تین ہزار تھی اور اسے قیصر سے ٹکرانے جانا تھا اس کا سربراہ مقر ر ہوچکا تھا حضور ﷺ نےاسکا جھنڈا ایک شخص کو عطا فرمادیا تھا جو کہ ریاست ِ مدینہ میں پہلی مثال تھی اور اس کی قیادت میں بڑے بڑے صحابہ کرامؓ جانے والے تھے کہ حضور ﷺ کا وقت وصال آپہنچا اور قیادت حضرت ابو بکر ؓ کے پاس آگئی انہیں مشورہ دیا گیا فل الحال اس فوج کو بھیجنا ملتوی کردیا جا ئے اور جو زکاۃ نہیں دینا چا ہتے ہیں ان سے صلح کرلی جا ئے۔مگر ان دونوں باتوں پر حضرت ابو بکرؓ تیار نہیں ہوئے بجا ئے اس کے انہوں نے بچی ہوئی فوج سے جو بھی اس وقت میسر ہوسکی اس کے ساتھ ہی تمام سرکشوں سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر اسی فوج کو بعد میں بیس تکڑیوں میں بانٹ کر کے مختلف سمتوں میں روانہ کردیا کہ جہاں ضرورت پڑے سب ملکر لڑیں؟ جو لوگ باغی ہو گئے ہیں ان سے اکیلے جا کر لڑیں ان ہی میں حضرت سعید ؓخدری بھی شامل تھے جن کارخ بحرین کی طرف تھا جبکہ بحرین والے ان کے ہاتھوں پسپا ہوکر منامہ میں جمع ہوگئے انکی وہ کشتیاں جن کے ذریعہ وہ وہاں پہنچ گئے تھے اس کے مقابلے میں یہ اس دستہ میں سے ایک کے سپہ سالار تھے جنہیں مختلف بیس سالاروں کی قیادت میں مختلف صحابہ کرامؓ کے زیرِ قیادت فوج کو حضرت ابو بکر ؓ نےبانٹ دیا اور فرمایا کہ تم سب الگ جا کر کفار سے لڑو؟ اور اگر تم میں ابو عبیدہ الجراح؟کہیں شامل ہو جائیں تو قیادت ان کے سپرد کردینا(کیونکہ حضور ﷺ نے انکو امین الامت کا لقب عطا فر مایا تھا) مگر یہاں اتنا موقعہ نہ تھاکہ مزیدکمک آسکے؟ انہوں نے بجا ئے مزید کمک منگوانے کے اپنا گھوڑا اللہ اکبر اور لا الہ اللہ کا نعرہ لگاتے ہوئے سمندر میں ڈالدیا اور ان کا اتباع کر تے ہوئے تمام فوج نے اپنے گھوڑے سمندر میں ڈالدیئے جب ایرانیوں انہیں ایسا کرتے ہو ئے دیکھا تو وہ یہ کہہ کر منامہ بھی چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے( جسے وہ چند لمحہ پہلے تک محفوظ ترین جگہ سمجھ رہے تھے) اب ان کے لئیے غیر محفوظ ہوچکی تھی اور یہ کہہ کر چھوڑ رہے تھے “ اسے خالی کردو اور ایران کی طرف چلے جاؤ۔ کہ یہ انسان نہیں ملا ئک ہیں ان سے لڑنا اور جیتنا ہمارے لیئے ناممکن ہے“ جس واقعہ کو علامہ اقبال ؒ نے اپنے ایک شعر میں باندھا بھی ہے مگر مورخ اسے حضرت عثماں ؓ کے دور میں لے گیا جبکہ افریقہ فتح ہوا تھا؟ کیونکہ اس نے شاید حضرت ابوسعید خدری ؓکو پڑھا ہی نہیں تھا اور وہ ان سے واقف ہی نہیں تھا؟یہ ہے ہماری واقفیت کاعالم؟ وہی ابو سعید ؓ یہاں راوی ہیں کہ حضورﷺنے ارشاد کہ فرمایاکہ اللہ کے نبی ؑ موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کیا کہ “ اے میرے رب کوئی ایسا کلمہ بتا کہ جس کے ذریعہ میں تیرا ذکر کروں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ لا الہ اللہ کہا کرو۔انہوں نے کہا کہ یہ تو سب ہی بندے کہتے ہیں میں تو وہ کلمہ چا ہتا ہوں جو آپ خصوصیت سے مجھے بتائیں؟اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ اگر ساتوں آسمان اور میرے سوا سب کائینات جس سے آسمانوں کی آبادی ہے اور ساتوں زمینں ایک پلڑے میں لوگ رکھیں تو لا اللہ کا وزن سب سے زیادہ ہو گا(شرحالسنہ بغوی۔معارف الحدیث)
انہیں حضرت سعیدؓ خدری سے یہ حدیث بھی روایت ہوئی ہے کہ جب حضور ﷺسے دریافت کیا گیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قیامت کے دن افضل کون ہے تو انہوں ﷺ نے فرمایا سب سے زیادہ ذکر والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں (حیات المسلمین۔ ترمذی،ابن ِ ماجہ)
حضرت عبد اللہ بن یُسؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کے باب ِ علم بہت زیادہ ہیں اور میری یاداشت اتنی اچھی نہیں ہے جو ساروں کو یاد رکھ سکوں کوئی ایسی بات مرحمت فرمادیجئے کہ جومختصر ہو اور میں یاد رکھ سکوں؟حضورﷺ نے فرمایا کہ بس اس کا اہتمام کرو اللہ کے ذکر سے اپنی زببان کو ہر وقت تر رکھو۔(جامع تر مذی۔ معارف الحدیث)اوپر بیان کردہ احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ صبح لیکر شام تک کی لمبی دعائیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف یقین پختہ ہو تو اللہ کے ورد سے زبان کو تر رکھنا ہی کافی ہے؟اس میں سبق یہ ہے کہ اس سے زیادہ آسانی حضور ﷺ ہمارے لیئےکیا پیدا فرماسکتے تھے؟صرف اتنا ہی کر دیکھواورپھر نتائج دیکھو؟ کاش کے ہم یہ راز سمجھ سکتے؟













